کورونا وائرس اور سوشل میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں سوشل میڈیا یا فیس بک کے نام سے دنیا بھر کے لوگوں کا آپس میں رابطہ قائم کرنے اور اظہار رائے کا ایک پلیٹ فارم متعارف ہوا جس کو شروع میں تو صرف امراء نے ہی اپنی زندگی کا حصہ بنایا پھر سمارٹ فون اور چین کی ایجادات کی مہربانیوں سے سوشل میڈیا کا نام صرف فیس بک تک محدود نہ رہا بہت سے دوسرے پروگرام متعارف ہوئے اور سمارٹ فون کی روز بروز جدیدیت کی دوڑ نے اس کی قیمت کو اتنا کم کردیا ہے آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جوسمارٹ فون استعمال نہ کرتا ہو اور سوشل میڈیا سمارٹ فون کی سب سے بڑی کشش یا دلچسپی کا سب سے بڑا عنصر ہے۔

زندگی اپنے مکمل توانائیوں کے ساتھ گزر رہی تھی ماہ دسمبر چل رہا تھا پوری دنیا 2019 ء کے ختم ہونے کے انتظار میں تھی اور ترقی یافتہ ممالک کے لوگ نیو ائر نائٹ منانے کے لئے تیاریاں کررہے تھے اس دوران چین کے شہر ووہان سے ایک خبر آئی کہ ایک پراسرار وبائی بیماری جنم لے چکی ہے یہ خبراس وقت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اپنی جگہ تو نہ بناسکی۔ لیکن چند روز کے بعد ہی یہ دنیا کی سب سے اہم خبر بن گئی اور اس وبائی مرض کو اس کی ساخت کی وجہ سے کورونا کا نام دیدیا ہے۔

اس بیماری نے تقریباً 2 سے تین ماہ میں چین کے شہر ووہان میں 3 ہزار سے زائد زندگیوں کو اپنی خوراک بنایا اور یہ سلسلہ ختم نہ ہوا اور ووہان سے شروع ہونے والی یہ وباء دنیا کے دیگرممالک تک پھیل گئی۔ اس فروری کے پہلے ہفتے میں اس خبر نے تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ذریعے پوری دنیا میں ایک قیامت کی فضاء طاری کردی دیکھتے ہی دیکھتے اٹلی کا نام لیا جانے لگا پھر ایران میں اس وبائی مرض سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

یہ وہ وقت تھا جب وطن عزیز کی تمام سرکاری مشینری بروقت یا قبل از وقت حرکت میں آئی اور خوب حرکت میں آئی۔ ان تمام حفاظتی اقدامات کا موقع ملا جو چین اور اٹلی کو نہیں ملا۔ سفری پابندیاں عائد کردی گئی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاری شروع کردی گئی اور اس وبائی مرض کے پھیلنے کے امکانات کو سنجیدگی سے دیکھا جانے لگا۔ بہر حال اس بیماری نے پاکستان کا رخ کیا اور معلومات کے مطابق تفتان بارڈر سے ایران کے مقدس مقامات سے زیارت کرکے آنے والے پاکستانیوں کے ذریعے اس وبائی مرض کورونا نے پاکستان میں اپنے حصے کی تباہ کاری شروع کی۔ فروری کے آخر تک پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوگئے۔

پھر وہ وقت آیا جب اس وبائی مرض نے سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب صورتحال برپا کردی۔ بلاشبہ یہ بیماری نزلہ، زکام، کھانسی سے زیادہ خطرناک اور یقیناً جان لیوا ہے لیکن سوشل میڈیا نے تو حد ہی کردی دنیا بھر کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے اس بیماری کے ذریعے اپنے لائیکس اور شیئر بڑھانے کے لئے دکانداری کا آغاز کیا۔ کسی نے کہا کہ۔ ”دنیا ختم ہونے والی ہے“ تو کسی نے کہا کہ ”پاکستان کے لئے 2 کروڑ کفن مانگ لئے گئے ہیں“ تو کوئی صاحب یہ فرماتے بھی نظر آئے کہ ”یہ کورونا امریکہ کی سازش ہے تاکہ چین کو معاشی طور پر تباہ کیا جاسکے“ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس وبائی مرض کے امریکہ پہنچنے کی خبریں بھی آئیں اورآج اس تحریر کے دن تک امریکہ دنیا بھر میں نقصان اٹھانے والے ملکوں میں پہلے نمبر ہے۔

بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوتی ہمارے ملک اور دنیا کے سب سے عظیم مذہب اسلام کو ماننے والے کچھ خود نما مولوی صفت سوشل ایکٹوسٹ ایسے بھی دیکھنے میں آئے جو فرماتے دکھائی دیے کہ یہ کورونا کچھ بھی نہیں ہے اس کا مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا اگر ایسا تھا تو عمرہ کرنے پر کیوں شرائط عائد کی گئیں رمضان کے موقع پر تراویح اور ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل عید کے اجتماعات کے لئے جید علماء اور مفتیان کی رائے سے کیوں قوانین وضع کیے جارہے ہیں؟

اس تحریر کا مقصد صرف یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں ( جن میں یقیناً ہم سب ہی شامل ہوں گے ) کو نفسیاتی مریض بنادیا گیا ہے کچھ لوگ تو اس قدر ڈپریشن کا شکار ہے کہ شاید وہ کمروں میں رہنے کے باوجود بھی بار بار ہاتھ دھوتے رہتے ہوں گے ان کو یہ سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ میں نہیں بتایا گیا ہوگا کہ جو تمام احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہے وہ اس صورت میں ہیں جب آپ باہر جائیں اور سوشلائزنگ کریں۔ پھر ایک لفظ ”سوشل ڈسٹنسنگ“ نے ہر پلیٹ فارم پر جنم لیا۔

سماجی تنہائی یا آئسولیشن کا نام لیا جانے لگا دفاتر اور عوامی جگہوں پر ہاتھ نہ ملانے کی روایت نے بھی جنم لیا اور پھر لاک ڈاؤن کی باری آئی۔ اس طرح پھر سوشل ایکٹویسٹ کو موقع ملا اپنے لائیکس اور شیئرز بڑھانے کا۔ پھر ان کو دیہاڑی دار اور مزدوروں کی یاد بھی آگئی اور ان کے درد کو اس قدر محسوس کرنے لگے کہ احساس ہوا کہ اس قوم میں کسی کو بھوکا نہیں سونا چاہیے لیکن یہ احساس تب کہاں تھا جب یہی مزدور مہینوں مزدوری نہ ملنے کے باعث قرض لے لے کر اپنے گھروں کے چولہے جلاتے تھے؟ تب تو کسی نے ان کو یاد نہیں کیا؟

میری تحریر کا مقصد کسی پر بھی تنقید نہیں اس تحریر کا مقصد صرف منفی طرز اختیار کرنے والوں پر تنقید ہے کیوں کہ جب لاک ڈاؤن کیا گیا تو میں نے سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے سوشل ایکٹویسٹ کو دیکھا جو بہت کم مقدار میں امداد پانچ افراد کے ہاتھوں سے ایک غریب خاتون یا مرد کو دے رہے تھے اور تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہیں روزانہ اور گھنٹوں کی بنیادپر لوگ پوسٹیں لگاتے رہے جس کی وجہ سے میں نے انتہائی مجبور اور سفید پوشوں کو امداد کی ضرورت ہونے کے باوجود امداد سے انکار کرتے دیکھا۔ لیکن ہر معاشرے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی دکھائی دیے بلکہ دکھائی ہی تو نہیں دیے اور سیکڑوں لوگوں کی مدد کرتے رہے بغیر دکھائی دیے۔

سوشل میڈیا انسان کی ایجاد ہے اور بلاشبہ اس نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے لیکن اس کا استعمال صرف مثبت ہو تو یہ ایک فائدہ مند چیز ثابت ہوسکتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا کے منفی استعمال اور غلط معلومات کی ترسیل سے لوگ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں لوگ کورونا سے کم متاثر ہورہے ہیں لیکن امراض قلب اور بلڈ پریشر کی شکایات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply