کپتان کی کالی بھیڑ اس کی پنجاب ٹیم ہے


\"wisi-baba\"

پرویز خٹک پی پی میں ایک لمبا عرصہ گزارنے کے باوجود جیالا مزاج کے نہیں ہیں۔ عوامی سیاست سے زیادہ جوڑ توڑ اور رابطوں کے زور پر اپنی سیاست چلاتے ہیں۔ الیکٹورل پالیٹکس کے ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران کسی بھی سیاسی تحریک یا کسی بھی سیاسی احتجاج کے لئے بطور قیادت ان کا انتخاب ایک بری آپشن ہے۔

کپتان کی اٹھائی گئی حالیہ تحریک میں اصل جان پرویز خٹک نے ہی ڈالی۔ ان دو تین دن کے دوران جو بدمزگی کی کیفیت پیدا ہوئی وہ پرویز خٹک کی احتجاجی سیاست سے کم واقفیت کا نتیجہ تھی۔ پرویز خٹک نے کپتان کی احتجاجی کال میں جان ڈالی اور اپنی پارٹی کی لاج رکھی۔ ان کی کارکردگی کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ انہیں ایک بھرپور استقبالیہ جلوس کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ لانے کے لئے کپتان نے خود جانا تھا۔ ایسا نہیں ہوا۔ پرویز خٹک اس پر کچھ ناراض اور دلگرفتہ بھی دکھائی دیے۔ کپتان کو ایسا کرنے سے روکنے والے اس کے وہ نااہل ساتھی تھے جو بنی گالہ میں اپنی سستی اور بزدلی چھپا کر بیٹھے تھے۔

جو ہونا تھا ہو چکا۔ لڑائی اب سمٹ کر عدالت کے سامنے ہے۔ اب سب پارٹیوں کے وکلا اپنا اپنا ہنر آزمائیں گے۔ قانون کی زیادہ مہارت ہی فیصلہ کن ثابت ہو گی۔

کپتان پوری طرح یکسو ہو کر نواز شریف اور ان کی ٹیم کو ایک بھرپور شکست دینا اپنا سیاسی مقصد بنا چکا ہے۔ نواز شریف کو پنجاب سے سامنے آئے چار دہائیاں ہونے کو آئی ہیں۔ وہ ا س دوران اگر آدھی مدت اپوزیشن میں رہے ہیں تب بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے سارا وقت حکومت انہوں نے ہی کی ہے۔ ان کی مخالفت کرنے والوں، ان کو دیکھ دیکھ کر تھک جانے والوں اور ان کی سیاست سے اکتا جانے والوں کی پنجاب میں کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ سب نواز شریف کو گرانے کے لئے کپتان کے پیچھے کھڑے ہو چکے ہیں۔

\"imran

وہ صحافی جو کبھی نواز شریف کے چہیتے تھے، اپنی ضرورت ختم ہونے پر اب خود کو بیوہ محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اپنا بدلہ لینا ہے لیکن وہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو کپتان کو ہلا شیری دینے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ یہ صحافتی بیوائیں کپتان کو غلط خبریں دینے میں، غلط اندازے لگوانے میں اور غلط فیصلے کروانے میں پیش پیش ہیں۔

ہماری پرجوش یوتھ ہے جس کی امیدوں پر پورا اترنے میں ہماری سب حکومتیں ناکام رہی ہیں۔ یہ یوتھ بھی کپتان کے پیچھے کھڑی ہے۔ سرائیکی بیلٹ کے زمیندار ہیں جو نواز شریف کے صنعتی شاہی مزاج سے عاجز ہیں، وہ بھی کپتان کے پیچھے کھڑے ہیں۔

\"imran-khan\"

پنجاب میں نواز شریف کے یہ سب مخالفین کپتان کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے ہیں اور بس کھڑے ہی ہیں۔ وہ خود سے کچھ کرنے کو ہر گز تیار نہیں ہیں۔ خوشامد سے، جعلی کامیابیوں سے اور جھوٹے دعووں سے ہی کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کپتان کے جلسوں میں لوگ خود آتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ اس کے ساتھی لیتے ہیں۔ اسے بتاتے ہیں کہ احتجاج جاری رکھ اور طوفان اٹھا دے حکومت ٹک نہیں سکے گی۔ کپتان آگے بڑھتا ہے یہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

کپتان نے جب اسلام آباد بند کرنے کی کال دی تو ہلا شیری دینے والی اس کی پنجاب ٹیم تھی۔ یہ وہ ٹیم ہے جس سے ایک دن صبر نہیں ہو رہا۔ اگلے الیکشن میں انہیں اپنی سیاسی موت دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو منظم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ان کا کچھ داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ احتجاجی سیاست میں یہ اپنی بچت دیکھتے ہیں۔

کپتان کی پارٹی کے نامی گرامی سرمایہ دار جو اپنی دولت کا ذکر اپنے نام سے منسوب ہر خبر میں چاہتے ہیں۔ اس بار دھرنے کے لئے سرمایہ فراہم کرنے سے پیچھے ہو گئے۔ کپتان کو سو سو روپے چندے کی اپیل کرنی پڑی۔ اس بار جس کے ذمے جو کام تھا اس نے نہیں کیا۔ پنجاب حکومت کے انتظامی حربوں نے عام کارکن کو گرفتاری اور حوالات سے ڈرا لیا۔ لیڈر حضرات نے پھر بھی تحریک کو منظم کرنے کی ذرا سی بھی زحمت نہیں کی اور ہاتھ چھوڑ کر بیٹھ گئے۔

\"imran-med\"

لاہور سے پیدل مارچ لیکر روانہ ہونے والے ایک بھی لیڈر کا مارچ جاتا کسی نے روڈ پر نہیں دیکھا۔ ان کی بس سرخیاں ہی لگتی رہیں، لاہور سے پیدل روانہ ہونے والے ڈھائی سو لوگ جب بنی گالہ پہنچے تو تیس پینتیس دانے تھے۔ لیڈر صاحب جہلم میں دل پکڑ کر بیٹھ گئے تھے وہاں سے ایمبولینس میں لیٹ کر بنی گالہ پہنچ کر پر سکون ہو گئے۔ اسلام آباد پہنچ کر بہت سکون سے کپتان کو بتا دیا کہ کوئی ساتھ چلنے کو تیار نہیں تھا۔ پیدل مارچ اگر واقعی سنجیدہ منصوبہ ہوتا تو اسی کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا حکومت کے لئے۔

اسلام آباد پنڈی کو تو سارا میڈیا کور کر رہا تھا۔ میڈیا پر دہائی مچی ہوئی تھی لیکن پنجاب بھر سے کسی بھی شہر سے بھی کسی چھوٹے سے احتجاج کی خبر نہ آئی۔ کیا واقعی کپتان اور اس کی پارٹی پورے پنجاب کے درجنوں شہروں میں اتنی غیر موثر اور لاچار ہے؟ سوشل میڈیا پر ایکٹو رہنے والے کپتان کے حمائتی بھی دھیمے دکھائی دیے۔ پنجاب ٹیم کی ناکامی اتنی مکمل تھی کہ کپتان کے پاس اپنا احتجاج ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ اس کی اپنی ٹیم نے اس کو وہاں لا کر ڈبویا ہے جہاں پانی ہی نہیں تھا۔

کپتان کو اگر کامیابی چاہیے تو اسے اپنی پنجاب کی ٹیم کو چابک لگانی ہو گی۔ یہ اچھے جلسے کرتا ہے تو اس کی ٹیم ان جلسوں کا کریڈٹ لیتی ہے۔ وہ اس رش کو ووٹ میں بدل نہیں سکتی۔ بے غم رہتی ہے۔ کپتان اپنی پارٹی میں اکیلا ہے۔ یہ اس کی پنجاب ٹیم ہی تھی جس نے اسے پچھلا الیکشن ہروایا تھا۔ کپتان کی یہی ٹیم اس کو آئندہ شکست دلوائے گی جو کہ اس کی ہر تحریک ناکام بناتی ہے۔

\"imran

کپتان کے پنجاب میں اس کو پڑنے والے ووٹ اس کے جلسوں کے مطابق کیوں نہیں ہوتے ہیں؟ کیا اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ضروری نہیں ہے اگر کامیابی درکار ہے؟ جو کچھ ہوا ہے وہ یہ سب واضح کرنے کو کافی ہے کہ کپتان کے ساتھی صرف باتوں کی بالٹیاں ہیں۔ خالی باتیں میڈیا پر الٹا کر وقتی شو شا تو بن سکتی ہے۔ ووٹ کسی اور طرح ملتے ہیں۔ اس کے لئے پارٹی کی ایسی تنظیم درکار ہے جو لوگوں میں جائے اور ان سے مسلسل رابطے میں رہے۔

پرویز خٹک اپنے مزاج کے خلاف اپنے بچپن کے دوست کی مدد کے لئے روڈ پر آئے۔ کپتان کی اپنی مرکزی ٹیم جس کا تعلق سب سے بڑے صوبے سے ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے حلقے میں کام نہیں کیا۔ سب کے سب بنی گالہ پہنچ کر کپتان کو مت دینے لگ گئے کہ باہر نہ نکلنا پکڑے جاؤ گے۔ انہوں نے اپنی بزدلی، اپنی نااہلی اور اپنی حماقتوں کا بوجھ کپتان پر لاد دیا۔

کپتان کی سپورٹ اب بھی باقی ہے۔ اسے بس اتنا کرنا ہے کہ اپنی کالی بھیڑوں کو پہچانے اور انہیں لٹا کر ان کی قربانی دے کر اپنی سیاست بچا لے۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi