سفر جمال: سیرت نگاری میں قابل تحسین تازہ کاری
سید کائنات ؐ کی سیرت طیبہ ایک ایسا عظیم و جلیل موضوع ہے جس کی زمانی اور مکانی وسعت کا احاطہ انتہائی دشوار ہے۔ مالک ارض و سما نے اپنے محبوب نبئی آخرالزماں ؐ کو تمام عالمِ انسانیت کا ہادی و راہبر بنایا تو اس میں یہ پروانہ صفت فطرت بھِی ودیعیت کر دی کہ سب اپنی اپنی فہم و بساط، علم و معرفت اور خیال و فکر کے مطابق ذات و صفات محمدیؐ اور اعمال و خصائلِ نبویؐ کا پتہ لگائیں اور اس تلاش و جستجو میں سیرت نگاری کے نئے نئے ابعاد معلوم کریں۔
مسلمانوں کی محبت نبوی ؐ کی بیکراں تجلیات اپنی جگہ اوراق تاریخ شاہد ہیں کہ انسانی تاریخ و تہذیب میں صرف محسنِ انسانیت ؐ کا پیکر و ذات ہی تمام انسانوں کی سیرت نگاری کا محور رہی۔ اپنوں اور بیگانوں سب کو اس کے جمالِ سحر انگیز اور جلالِ رعب خیز نے اپنا اسیر اور فریفتہ کیے رکھا۔ آپ ؐ کی ذات طیبہ کا ذکر آپ کی اس دنیا میں تشریف سے پہلے شروع ہوا۔ اس کے اولین نقوش تو قرآن پاک کے مطابق میثاقِ انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے نبئی خاتم کی نصرت و اعانت کا حلف لیا۔ کتبِ سابقہ بطورِ خاص تورات و انجیل میں نہ صرف آپؐ کا بلکہ آپ کے شخصی اوصاف کا بیان بھی موجود ہے۔ خود قرآنِ حکیم میں نبئی کریم ؐ کی سیرت طیبہ کو اسوۃ حسنہ کہا گیا ہے اور سیرت کے مختلف پہلووں پر نہایت جامع روشنی ڈالی گئی ہے۔
نبی کریم ؐ کی بعثت کے بعد سے آج تک سیرتِ طیبہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کی خاص توجہ کا مرکز رہی ہے۔ مسلمانوں کی لگ بھگ ساڑھے چودہ سو سال تاریخ سیرت نگاری کے ان گنت پہلووں اور اسالیب کی نشاندہی کرتی ہے۔ سیرت نگاروں نے نبئی کریم ؐ کی بشری، نبوی اور معجزانہ شخصیت پر ایسا ادب تخلیق کیا ہے جو بجائے خود ایک غیر معمولی مظہر ہے۔ قرآن مجید میں رحمت للعالمینؐ کے اخلاقِ کریمانہ کا تذکرہ بھی ہے تو آپؐ کے غزوات، آپ ؐ کی ہجرت، آپؐ کے عزم و استقلال، آپؐ کے اسلوبِ دعوت و تربیت اور آپ کے معجزات کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس تناظر میں مسلمانوں میں رائج سیرت نگاری کے مختلف اسالیب کی اصل کو قرآنِ مجید میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غیر مسلم سیرت نگاروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی آپ ؐ کی حیاتِ طیبہ کو موضوع بحث بنایا اور تحسین و تنقید کی بھرپور کوشش کی۔
ہمارے ہاں صدیوں کی سیرت نگاری میں محبت و تفاخر کے جذبے کی آمیزش بڑھتی رہی اور بالعموم مقلدانہ اسلوب غالب ہوتا گیا۔ ہمارے سیرت نگاروں کا مزاج عقیدتمندانہ ہونے کی وجہ سے مطالعہ سیرت علمی وقعت اور استدلال سے محروم ہوتا گیا چنانچہ سیرت نگار حیات طیبہ کی بہت سی حقیقتوں کو دریافت ہی نہ کرسکے۔ مولانا وحیدالدین خاں نے اپنی کتاب ”مطالعہؔ سیرت : سیرتِ رسول کا ایک علمی و تاریخی مطالعہ“ میں لکھتے ہیں کہ مسلم سیرت نگاروں کی ”کتابیں تقدس کے جذبے کے تحت لکھی گئی ہیں۔
یہ طریقہ عقیدتمندانہ مطالعہ کے اعتبار سے اہم ہو سکتا ہے۔ مگر علمی اعتبار سے اس طرز پر لکھی ہوئی کتابوں کی اہمیت زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستشرقین کی لکھی ہوئی اکثر کتابوں کی علمی قدروقیمت مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ مستشرقین اپنے موضوعی مطالعہ کی بنا پر اکثر وہ قیمتی نکتہ دریافت کر لیتے ہیں جس کو ہمارے سیرت نگار دریافت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر E E Kellet ایک برطانوی مستشرق ہے اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبرِ اسلام ؐ کا ذکر کرتے ہوئے لکھآ کہ۔
“۔ پیغمبرِ اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی نچوڑیں۔ ”موجودہ زمانہ میں پیغمبرِ اسلام پر بے شمار نعتیہ قصائد لکھے گئے ہیں اور بے شمار مدحیہ کتابیں تصنیف کی گئی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مغربی مستشرق کا مذکورہ جملہ مسلم شعراء اور مصنفین کی لکھی ہوئی تمام منظوم و منثور نعتوں پر بھاری ہے۔ مذکورہ جملہ قاری کے لیے ایک نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی مدحیہ تحریروں میں قاری کو صرف فخر یا تقدس کی غذا ملتی ہے۔ ان کے ذریعے قاری کو وہ رہنمائی نہیں ملتی جس کو قرآن میں اسوہؔ حسنہ کہا گیا ہے۔ “
اس سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسلم سیرت نگاری کی قابلِ رشک وسیع تاریخ مقدار میں بہت زیادہ ہونے کے باوجود معیار و اعتبار اور اسلوب و بیان کے حوالے سے علمی جدت نگاری و تازہ کاری کے ضمن میں محدود امکانات کی عکاس ہے۔ لیکن یہ بھی سیدِ کائنات کے اسوہؔ حسنہ کا کمال ہے کہ سیرت نگاری کے مقلدانہ رحجانات کے باوجود بھی فہم و ادراک کے ایسے مجتہدانہ زاویے مل جاتے ہیں جو بالکل نئے اور ان چھوئے ہیں۔ اردو سیرت نگاری کی کُل عمر کم و بیش ایک صدی ہے مگر اپنی طرح نوادر، نئی نئی جہات اور عمدہ پہلووں کی بنا پر قدیم زبانوں کے سرمایہ سیرت پر فوقیت و فضیلت رکھتی ہے۔
بر صغیر میں نوآبادیاتی عہد میں سیرت نگاری کے جدید رجحانات کا آغاز ہوا۔ سرسید احمد خاں کی ”خطباتِ احمدیہ“ اس کا آغاز ہے۔ عزیز احمد نے اس کتاب کے طریقِ کار کو جزوی طور پر سائنٹفک اور جزوی طور پر نظری و معذرت خواہانہ قرار دیا ہے۔ تاہم سیرت کے معاشرتی و تہذیبی مطالعہ کا رجحان اس کتاب کے زیر اثر مابعد کی سیرت نگاری کا جزو بنا۔ ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ شخصیت اپنے عہد کے تقاضوں سے ابھر کر سامنے آتی ہے چنانچہ سیرت کا مطالعہ بھی اس عہد کا پس منظر و پیش منظر سمجھے بغیر ممکن نہیں۔
علمی و دینی گھرانے کے تربیت یافتہ جدید علم سیاسیات کی اعلیٰ تعلیم سے مرصع، مطالعہ کتب کے شوق اور قلمکاری کے ذوق کے حامل پروفیسر میاں انعام الرحمان کی بین الاقوامی سیرت ایوارڈ یافتہ کتاب ”سفرِ جمال :محمد رسولﷲ ؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پُرعزم داستان“ سیرت نگاری کی مجتہدانہ تازہ کاری اور جدت نگاری کی ایک نہایت عمدہ، منفرد، قابلِ قدر اور لائقِ تحسین مثال ہے۔ جس میں میاں انعام الرحمان نے نبئی کریم ؐ کی ہجرت کو جمالیاتی مزاحمت کی پُرعزم داستان کے طور پر پیش کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف نے محسنِ انسانیت ؐ کی حیات طیبہ میں سے سفرِ ہجرت کو بنیادی حوالہ بناتے ہوئے پوری سیرت کو اس کے تناظر میں دیکھا ہے اور یوں انسانی استطاعت کی حد تک نبی کریم ؐ کی زندگی کے ایک پہلو کو کلیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جیسا کہ ہم ابتداء میں دیکھ چکے ہیں کہ مسلمانوں میں رائج روایتی سیرت نگاری بالعموم آنحضور ؐ کی حیاتِ طیبہ کے معجزاتی پہلو یا آپ کے اخلاقِ کریمانہ اور واقعاتِ سیرت کی تاریخی ترتیب کے بیان کی طرف متوجہ رہی۔
کہیں ہمیں معجزات پر مشتمل کتابیں نظر آتی ہیں، کہیں اخلاق و آداب کے حوالے سے اسوہؔ حسنہ ؐ کا ذخیرہ ملتا ہے لیکن میاں انعام الرحمان کا موقف یہ ہے نبئی کریم ؐ کے ظاہری و باطنی حسن و جمال کا تذکرہ، آپ ؐ کے معجزات ک ذکر یا واقعات سیرت کا تاریخی ترتیب میں بیان حضور اکرمؐ کی ختم نبوت کے تناظر میں وہ اسوہؔ جمال فراہم نہیں کرتا جو دورِ مابعد نبوت میں کردار و عمل کے لیے ایک مستقل تناظر اور بنیاد فراہم کر سکے۔
میاں صاحب کے خیال میں عشق کے تناظر میں لکھی جانے والی کتبِ سیرت دراصل اس عمودی جہت کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو عظمت و حیرت کا احساس تو پیدا کرتی ہیں لیکن دورِ مابعد نبوت میں کردار و عمل کے لیے اساس فراہم نہیں کرتیں۔ اس لیے ”سفرِجمال“ کے مصنف کا نقطعہء نظر یہ ہے کہ سیرتِ طیبہ کو خالص جمالیاتی حوالے سے، غیر جذباتی انداز میں پیش کرنا روح عصر کا تقاضا اور ضرورت ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں میاں انعام الرحمان نے کمال علمی و فکری جراؔت اظہار سے سیرت نگاری کے 19 اصول بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں سیرت نگاری کا ایک ایسا منفرد اسلوب سامنے آتا ہے جو معاصر دنیا میں نبئی رحمت ؐ کی ہستی کو مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کے لیے یکساں طور پر پُرکشش بنا کر پیش کرنا ہے۔
میاں انعام الرحمان سیرتِ طیبہ کے بشری پہلو پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہجرت کو مرکز بنا کر لکھے گئے مضمون، تعلیقات، الحاقات میں مصنف نے سیرت نگاری کے اپنے بیان کردہ اصولوں کا عملی اطلاق پیش کیا ہے۔ پروفیسر میاں انعام الرحمان کا انتہائی دلچسپ اور قابلِ غور موقف یہ ہے کہ جس طرح قرآن مجید کی تدوین ترتیب ِ نزولی کی جگہ ترتیبِ توفیقی پر ہوئی ہے اور پیغامِ الہٰی کو ایک کلیت کی شکل میں امت کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ قرآن کا آفاقی پیغام ایک لازمانیت کے تاثر کے ساتھ تمام زمانوں کے لیے ایک قابلِ فہم اور تاریخیت سے بلند تر ہدایت فراہم کر سکے۔
اور اس کے حجتہ من بعد الرسل ہونے کی جہت کا پورا اظہار ہو۔ اس طرح واقعاتِ سیرت کی تاریخی ترتیب وقوع سے زیادہ اہم ہے۔ ان کا وہ معنوی رابطہ جس کے ذریعے سید کائنات ؐ کا مثالی اسوہؔ حسنہ تمام زمانوں کے لیے نمونہ کمال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ واقعاتِ سیرت کو محض تاریخی ترتیب سے بیان کرنے میں قباحت یہ ہے کہ ان کی لازمانی اور دائمی جہت نگاہوں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے اور ان کا تاریخی محلِ وقوع فہم و ادراک کو محدود کرتے ہوئے انہیں چودہ سو سال پہلے وقوع پذیر ہونے والے واقعات بنا دیتا ہے۔
رسول کریمؐ کی ہجرت کو جمالیاتی مزاحمت کے طور پر پیش کرتے ہوئے میاں انعام الرحمان نے انسانی نفسیات، معاشرتی تشکیل، فکری و عملی مزاحمت، انفرادی و اجتماعی کردار کی بُنتر میں نبوی اصول کو پیش کیا ہے، جو نہ صرف قابلِ فہم ہے بلکہ جس کی عملی پیروی ممکن ہے۔ اس کتاب میں پیغمبر رحمت ؐ کو ایسے قائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو نفسیاتِ انسانی کی حدود سے واقف ہے اور کردار و شخصیت کی تعمیر و تربیت کے اسرار و رموز سے آگاہ ہونے کے ساتھ تشکیلِ معاشرت کے ثقافتی و تہذیبی عوامل سے بھی آشنا ہے۔
یہ ایسا بیانیہ ہے جو سیرت نگاری کے ذریعے محسنِ انسانیتؐ کو انسانی تاریخ کا کامیاب ترین داعی، مصلح، مدبر قائد، دیدہ ور راہنماء بنا کر پیش کرتا ہے جس کی معجزانہ بصیرت نہ صرف قابلِ فہم ہے بلکہ لائقِ تقلید بھی ہے۔ میاں انعام الرحمان کہتے ہیں کہ ”نبی خاتم ؐ کی حیات مبارکہ خالی خولی مذہبیت کی آئینہ دار نہیں۔ آپ ؐ نے دنیا کو مذہب کی بجائے ثقافتِ مذہب سے نواز کر اس امر کی نشاندہی فرمائی کہ مذہب، ثقافت بنے بغیر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا، در حقیقت یہ ثقافتِ مذہب ہے جو جمالیاتی بیداری کو فروغ دیتی ہے اور کسی رائج فرسودہ ثقافت کے خلاف صبر پر مبنی جمالیاتی مزاحمت برپا کرتی ہے۔
اس کے نتیجے میں انسان انفرادی اور سماجی ہر دو حالتوں میں، اعلی اخلاقی آدرش کا عَلم اٹھائے ربِ کائنات کے حضور جھکے رہنے والے عزمِ مصمم سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے نبئی آخرالزمان ؐ کی حیاتِ مطہرہ خاتمیت کی قبا اوڑھے، آدم ؑ کے گم گشتہ عزم کی بازیافت بھی ہے۔ وہی عزم جس کی شکستگی کے باعث آدم اپنا عہد بھول گئے تھے“
دین پسند اور علم دوست پروفیسر میاں انعام الرحمان کا سیرت طیبہ کا یہ معنویاتی مطالعہ اکیسویں صدی میں سیرت نگاری کے جدید ترین اسالیب کے لیے راہنماء اصول فراہم کرتا ہے اور عصرِ جدید میں خیرالبشر، محسن انسانیت کے اسوہؔ حسنہ کے بنیادی اسالیب کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانی معاشرے کی اصلاح و تشکیلِ نو کے امکانات کو بھی روشن کرتا ہے۔ میاں انعام الرحمان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے سرسید احمد خاں کے عقلی اسلوبِ سیرت نگاری کو ظاہریت اور خشک عقلیت سے آزاد کر کے ایک معنوی جہت سے ہمکنار کیا ہے۔
یہ محض واقعیت نگاری یا عقلی سیرت نگاری نہیں ہے بلکہ انسانی سیرت و کردار کی کُلیت کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے نبئی اکرم ؐ کے اسوہؔ جمال اور مشن کی ایسی بصیرت کا اظہار ہے جو بلاشبہ سیرت نگاری میں بالعموم اور اردو سیرت نگاری میں بالخصوص ایک نئے دور کا نکتہء آغاز ہے۔ یہ شاندار علمی کارنامہ میاں انعام الرحمان کے علمی خانوادے کی قابل فخر میراث ہے۔


