سچا کون: ٹرمپ یا ٹیڈروس؟


فروری کے مہینے میں خنکی اور دھوپ کے ملاپ سے پھول اور انسان دونوں ہی کھل اٹھتے ہیں، لیکن 2020 کے موسم بہار میں یہ دونوں ہی جاندارمر جھا رہے تھے۔ 26 فروری کو پاکستان میں پہلا کورونا کیس رپورٹ ہوا لیکن اس سے قبل یہ وبا چین میں سینکڑوں انسانوں کی جان لے چکی تھی۔ دنیا کے مخلتف ممالک میں اس کا پھیلاؤ بڑھنے لگا تھا، اس سے قبل بھی کئی اقسام کے وائرس مختلف ادوار میں انسانی خلیوں پر حاوی ہو کر ہزاروں زندگیوں کو نگل چکے، جن میں ایبولا، سوائن فلو، اینفلونزا، سارس کو، سر فہرست ہیں۔

ابتدا میں دنیا نے کورونا کو چین کی حد تک ایک وبا تصور کرتے ہوئے زیادہ توجہ نہیں دی، بیشتر نے چین کی جانب دو طرفہ سفر کرنے والے اپنے شہریوں پر ناصرف نظر نہیں رکھی، بلکہ ان کے لئے کسی بھی قسم کی خصوصی ہدایات جاری کرنے سے گریز کیا۔ ایسے افراد نے اپنے ملکوں میں واپس پہنچنے پر معمول کے مطابق میل جول برقرار رکھا، جو برق رفتاری سے اس وبا کے پھیلاؤ کا موجب بنا۔

ترقی یافتہ ممالک نے بھی کورونا کے خطرے کو آغاز میں شاید مکمل نظر انداز کیا۔ درکار حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ لیکن اس میں صرف ان ملکوں کی قیادت کو موردالزام ٹھرانا غلط ہو گا۔

دنیا میں اربوں ڈالر کے فنڈ سے چلنے والا ادارہ ”ڈبلیو ایچ او“ بھی کورونا کے معاملے پر تذبذب کا شکار رہا۔ امریکی صدر نے کورونا کے دنیا بھر میں تیزی سے ہونے والے پھیلاؤ پر بارہا عالمی ادارہ صحت کے کردار پر تنقید کی۔

وبا کے آغاز سے امریکی صدر اور عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریسس کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے اب تک کیا ہوتا رہا، قارئین کے لئے تحریر میں اس کا مکمل احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

5 جنوری:
عالمی ادارہ صحت نے خبر دی کہ چین کے شہر ووہان میں نمونیا کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جن کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، لیکن ساتھ ہی صورتحال کے تناظر میں چین پر کسی بھی سفری یا تجارتی پابندیوں کے اطلاق کے خلاف مشورہ بھی دے ڈالا۔

یہ مشورہ دنیا میں ایک مہلک ترین وبا کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنا اور، اب یہ ہمیشہ کے لئے اس معتبر ادار ے کے ماتھے کا کلنک بن گیا ہے۔

23 جنوری :
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریاسس نے ایک بیان میں کہا، کورونا وائرس پھیلاؤ کو ہنگامی حالت قرار دینے میں بہت جلد بازی ہو گئی ہے ”کوئی غلطی نہ کریں“۔ یہ چین میں ایک ہنگامی صورتحال ہے، لیکن یہ ابھی تک عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔

29 جنوری :
عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ، ڈاکٹر مائیک ریان نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”اب چوکس رہنا چاہیے، پوری دنیا کو عملی اقدامات اٹھانے، کیسز سے متعلق تیار رہنے اور ایمرجنسی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

4 فروری :
ڈبلیو ایچ او کی بریفنگ میں، ٹیڈروس نے زور دیا کہ سفری پابندی نہ لگائی جائے۔ ”ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں ایسی پابندیاں عائد نہ کریں جو غیر ضروری طور پر بین الاقوامی سفر اور تجارت میں مداخلت کریں۔ اس طرح کی پابندیوں سے خوف و ہراس پھیل سکتا ہے، عوامی صحت سے متعلق خطرات کے متناسب ہونے کی وجہ سے ان کی عمر بہت کم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے 5 روز قبل اپنے ہی ادارے کے ڈاکٹر مائیک ریان کے ”چوکنا“ رہنے کے بیان سے تقریباً لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔

11 فروری :
ٹھیک 6 روز بعد ایک بریفنگ میں، ٹیڈروس گیبریاسس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا، کہ وہ وائرس پر قابو پانے کو ترجیح دیں : ”سچ پوچھیں تو، وائرس کسی بھی دہشت گردانہ حملے سے زیادہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی ہلچل پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، دنیا کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا، اگر دنیا اس وائرس کو عوامی دشمن نمبر ایک کی حیثیت سے نہیں ماننتی تو، مجھے نہیں لگتا کہ ہم اپنا سبق سیکھیں گے۔

ہزاروں امریکی شہریوں کی زندگیاں نگل لینے والے وائرس سے 13 فروری تک امریکی صدر بھی بے فکر تھے، ایک انٹرویو میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ”، ہمارے پاس صرف، بنیادی طور پر، 12 کیسز ہیں، ان میں سے بیشتر افراد صحتیاب ہو رہے ہیں، حقیقت یہ کہ کیسز کم ہی ہیں۔ وبا کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ، ڈبلیو ایچ کے کردار سے نہ صرف مطمئن تھے، بلکہ وبا سے نمٹنے کے لئے امریکہ پالیسی کا دارو مدار عالمی ادارہ صحت کی ہدایت پر منحصر رہا۔

24 فروری :
ٹویٹ میں، ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ اور کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ”امریکہ میں کورونا وائرس بہت زیادہ کنٹرول میں ہے“۔ ہم تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سی ڈی سی اور ورلڈ ہیلتھ بہت محنت اور ہوشیار رہے ہیں۔

28 فروری :
ڈبلیو ایچ او نے بلا آخر کورونا وائرس کو دنیا کے لئے بڑا عالمی خطر قرار دیا اور 12 روز بعد 11 مارچ کو ٹیڈروس گیبریاسس

نے کہا کووڈ۔ 19 عالمی وبا بن سکتا ہے۔ کورنا کو عالمی وبا قرار دینے میں 65 دن لگ گئے، اس دوران لاکھوں افراد اس جان لیوا وائرس کا نشانہ بن چکے تھے۔ عالمی ادارہ صحت ہی کی پورٹ کے مطابق دنیا میں پہلے ایک لاکھ مریض 67 دنوں میں رپورٹ ہوئے، جس کے بعد اگلے ایک لاکھ مریض 11 روز، اور مزید ایک لاکھ لوگ میں یہ وائرس صرف 4 دن میں منتقل ہوا۔

10 مارچ :
امریکی دارالحکومت میں ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ ایک ملاقات میں، ٹرمپ نے کہا، ”جس طرح وائرس نے دنیا کو نقصان پہنچایا یہ غیر متوقع تھا۔ لیکن ہم تیار ہیں، وبا سے نمٹنے کے لئے اچھا کام ہو رہا ہے، پرسکون رہیں، یہ جلد دور ہوجائے گا۔ “ لیکن شاید ٹرمپ کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مہلک وائرس کیسے آنے والے چند ہفتوں میں دنیا کی ”سپر پاور“ کو ہر سطح پر متاثر کرنے والا ہے۔

امریکی صدر لوگوں کو پرسکون رہنے کا کہتے رہے، لیکن 7 روز بعد ”17 مارچ“ کو انہوں نے بلا آخر اعلان کیا کہ، ہمیں ایک عالمی وبائی صورتحال کا سامنا ہے۔

21 اپریل :
ٹرمپ نے کورونا سے بچاؤ کے لئے ”ملیریا“ کی دوا، استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ جسے 2 روز بعد ڈبلیوایچ او نے غلط قرار دیتے ہوئے کہا سائنسدانوں نے ابھی کووڈ۔ 19 کے اعلاج کے لئے کسی دوائی کو تجویز نہیں کیا ہے۔

7اپریل:
ڈونلڈٹرمپ نے عالمی وبائی بیماری کا درست اندازہ نہ لگانے پر، پہلی بار ڈبیلو ایچ او کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”اس ادارے نے صوتحال کا صیح اندازہ نہیں لگایا۔ امریکہ اس ادارے کو بڑی مالی معاونت فراہم کرنے والا ملک ہے، خوش قسمتی سے میں نے اپنی سرحدوں کو چین کے لئے کھلا رکھنے کے بارے میں ان کے مشورے کو مسترد کردیاتھا۔ امریکی صدر نے سوال اٹھایا کیوں، انہیں عالمی ادارے کی جانب سے ایسی ناقص سفارش دی گئی؟

8اپریل:
جنیوا میں بریفنگ کے دوران، ایک روز قبل ٹرمپ کے ڈبلیو ایچ او سے متعلق ریمارکس کے سوال پر، عالمی ادارہ صحت کے، ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریسس نے جواب دیا ”براہ کرم اس وائرس پر سیاست نہ کریں۔ “ بعد میں انہوں نے عالمی سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ ”براہ کرم کووڈ۔ 19 کو سیاست سے الگ تھلگ کریں۔ “

ٹرمپ اور ٹیڈروس کی لڑائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ”14 اپریل“ کوٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کر دیا۔ وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ میں ٹرمہ نے کہا، ہم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق حقائق کا جائزہ لیا ہے،

جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ”ڈبلیو ایچ او“ نے نہ صرف وائرس کے پھیلاؤ کو چھپانے کی کوشش کی بلکہ صورتحال کو سنبھالا بھی نہیں گیا۔

15 اپریل:
ٹیڈروس نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، ”ہمیں امریکی صدر کی جانب سے“ ڈبلیو ایچ او ”کی مالی معاونت روکنے کے حکم کے فیصلے پر افسوس ہے۔ “

17 اپریل:
جی سیون ممالک کی وڈیو کانفرنس میں، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کے معاملے میں شفافیت کی کمی اور بدانتظامی پر بات کی گئی“ تمام رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ، ادارے کے لئے ہر سال فراہم کی جانے والے ”1 رب ڈالر“ سے زیادہ کی مالی معاونت کو روک لیا جائے۔ ان ممالک کا کہنا ہے، ڈبلیو ایچ او نے وائرس کے پیش نظر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

سوال یہ ہے کہ دنیا میں انسانی صحت کا ذمہ دار یہ ادارہ، کیوں فوری طوری پر اس وائرس کی سنگینی کو بھانپ نہیں سکا؟ مختلف ممالک میں کیسز رپورٹ ہونے کے باوجود، کیوں کورونا کو عالمی وبا قرار دینے میں کئی ہفتوں لگ گئے؟ فوری طور پر نقل و حرکت محدود کرنے سے متعلق ہدایات کیوں نہیں دی گئیں؟ وبا کے آغاز میں کیوں لاک ڈاؤن سے متعلق مشورہ نہیں دیا گیا؟

بیماری کا اعلاج، ویکسین کی دستیابی ایک طرف، لیکن ڈبلیو ایچ او کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ جب بھی ایسا خطرہ منڈلانے لگے، تو بغیر کسی ابہام کے دنیا کو اس سے متعلق ”چوکنا“ کیا جائے۔ احتیاطی تدابیر جاری کی جائیں، تاکہ ایسے جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کو فوری روکنے میں مدد مل سکے۔ لیکن اس کے بر عکس عالمی ادارہ صحت ”چُوک“ گیا جس کا نتیجہ آج پوری انسانیت بھگت رہی ہے۔

بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں ”ایک یہ کہ یہ خوفناک غلطی تھی، یا پھر شاید وہ سب جانتے تھے“۔

Facebook Comments HS