لاک ڈاؤن میں گھرے بچے


کرونا کا خوف، حکومتی اور ڈاکٹری پابندیاں، اور والدین کی سختی، نرمی اور پیار سب ایک طرف لیکن بچوں کی اپنی ایک تصوراتی دنیا ہوتی ہے جس کاوہ خود کو بادشاہ سمجھتے ہوئے اصو ل و ضوابط طے کر لیتے ہیں اور دوستوں کے علاوہ کسی کو اس میں گھسنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ دوستوں سے گپیں لگا نا، بے تکی اور من گھڑت کہانیاں دوستوں کو سنانا، دو ستوں سے پن و پنسل کا تبا دلہ کرنا، چھٹی کرنے پرہوم ورک کے لئے کاپی اور نوٹس ما نگنے دوست کے گھر جانا، بیسٹ فرینڈ سے جھگڑا کرنا اور پھر اگلے ہی دن صلح کر لینا، سا لگرہ پرچاکلیٹ اور کینڈیزہم خیال کلاس فیلوز میں تقسیم کرنا، اور گھر آکر بتانا کہ آج کتنا خو بصورت دن تھا، سکو ل میں اپنی پسندیدہ ٹیچر کو دیکھ کر خوش ہو نا، ٹیوشن یا اکیڈمی میں اپنے پسندیدہ کپڑے کے ساتھ میچنگ پن اور کلپ، گھڑی اورجوتے پہن کر جانا، گلی میں گولے گنڈے، گول گپے، قلفی، آئس کریم، پھل اور دیگر اشیا ء بیچنے والے پھیری والے کا انتظار کرنا کہ وہ اس ٹائم پر ہماری گلی کی نکڑ پر آئے گا۔

شام میں اپنے گھر کے قریبی پارک میں جانا اور وہاں کرکٹ کھیلنا، سائیکل چلاتے شوخی کرنا، چھٹی کا بے صبری سے انتظار کرنا اور والد ین سے وعدہ لینا کہ کل ہم رات دیر تک ٹی وی پر اپنا فیورٹ پروگرام دیکھیں گے، اور پھر چھٹی والے دن ناشتے میں نان چھولے، بونگ پائے، حلوہ پوری، پراٹھے تناول کرنا، دوپہر کے کھا نے میں بریانی، فاسٹ فوڈ، گھر کے دال چاول، اور پلاؤکی فر مائش پوری ہونے پر پھولے نہ سمانا، اور اگلے دن کا بے صبری سے انتظار کرنا صبح سکول پہنچتے ہی اپنے دوست اور سہیلی کو گھنٹوں کی روداد پانچ منٹ میں مرچ مصالحے لگا کر سنانا، پھپھو، چچا، خالہ، ماموں کی شادی پر پلانز، اور خاص سہیلیوں اور دوستوں کو مدعو کرنا۔ اور پھر دوبارہ سے چھٹی کا انتظار کرنا، یہ سب بچوں کی وہ کہانیاں ہیں جو بلا امتیاز ہر گھر پر صادق آتی ہیں۔

لیکن 2020 کا آغاز بچوں کے لیے یکسر مختلف رہا، دھند کی طو یل چھٹیوں کے بعد سالانہ امتحانات ہوئے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو ا۔ نئی جماعت، نئی کتا بیں، سکول یونیفارم، جوتے، بیگ اور سٹشنیری حاصل کرنے پر بچوں میں خوشی کی لہر دوڑی ہی تھی کہ کرونانے آ لیا، بچوں کے خواب اس آئس کریم کی مانند پگھل گئے، جو چلچلاتی دوپہر میں گھر سے دور دکان سے لاتے ہوئے غائب ہو جاتی ہے۔ نئی کتا بوں پر اپنے پسندیدہ سٹیکر لگانے، نئی جومیٹری دوستوں کو دکھانے، اور کلاس فیلو جیسی پنسل اور پن کے لئے والدین سے ضد کرنے، اور اب کی بار دوست کے ساتھ ایک ہی وین میں سکول جانے کے ارمان دل ہی میں رہ گئے۔

گو کہ اس وبانے بلا تخصیص سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور دیگر مسائل، غریبی و تنگدستی، بھوک کی طرح یہ عمر نہ د یکھتا ہے نہ جنس سب کو اپنا شکار بناتا اورنگلتاجا رہا ہے۔ لیکن گھروں میں قید بچوں کو جس طرح کی مشکلات اور سمجھ میں نہ آنے والے خوف نے گھیر رکھا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لاک ڈاؤن کی شروعات میں بچوں میں ایک نعرہ گونجتا تھا کہ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے جو دھیر ے دھیر ے مایوسی میں تبدیل ہو گیا۔

اور اب تنہائی کی قید نے بچوں کے اندر پائے جانے والے شرارت کے جراثیم کو بغاوت میں بدل دیا ہے۔ جہاں وہ نہ والدین کی سنتے ہیں، نہ ہی حکومتی تنبیہ کی پروا کرتے ہیں، والدین بچوں کے چوبیس گھنٹے گھر میں ہونے سے نالا ں ہیں، ادھر بچے بھی روز صبح و شام ایک ہی طرح کے چہرے دیکھ دیکھ کراُکتا چکے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔

تفریحی و تعلیمی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے بچے احساسِ کمتری و الجھن کا شکار ہورہے ہیں ان میں غصہ، تشدد، بہن بھائیوں سے لڑائی جھگڑا، لوگوں سے میل جول میں کمی کے سبب گھر والوں سے نفرت کا احساس دن بدن بڑھتا ہو ا نظر آرہا ہے۔ ہمارے پرنٹ، الیکٹرونک اورسوشیل میڈیا نے 80 فصید صرف یہی نشر اورتشہیر کرتا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہ ہو نے کی وجہ سے آج کتنے ٹیسٹ مثبت، کتنے کرونا متا ثرین قرنطینہ میں اور کتنی اموات ہوئیں۔

موجو دہ حالات کو سامنے رکھتے ہو ئے سوائے ٹیلی سکول کے کسی میڈیا چینل نے بچوں کے لئے خصوصی پروگرام نشر نہیں کیا۔ سرکاری سکول تو ایک طرف پرائیو ٹ سکولز جو بھاری بھاری فیسیں مع دیگر اخراجات چھٹیوں میں بھی وصول کرتے ہیں۔ بچوں کے لئے آن لائن تعلیم اور پڑھائی کے دوران پیش آنے والے مشکلات کے پیشِ نظر ٹیچرز کے ساتھ بات چیت کرنے کے کوئی موثر انتظامات نہیں کیے ۔ مگر حکو مت کی ستم ظریفی بچوں پر یہ ہوئی کہ اپنے شہریوں کے لئے معاشرتی اور معاشی بحالی کی بنا ئی گئی سکیموں میں بچوں کی صحت اور تعلیم و سماجی فلاح و بہبو د کے اقدامات کو نہ ہی اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور نہ ہی ان کے لئے کو ئی الگ سے پرگرام مرتب کیے ۔

کیونکہ زندہ رہنے کے لیے راشن تو مہیا کر دیا گیا لیکن اس کے ساتھ بچوں کی دماغی نشو ونما اور مصروفیت کے لیے سستی ان ڈور گیمز کا سامان جیسے لڈو، کیرم بورڈ، ڈرائنگ بکس اورکلرز کے پیکٹس کو شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ کہ موجودہ صورتحال میں حکومتی ادارے اور مخیر حضرات دوراندیشی کا ثبو ت دیتے ہوئے بچوں کی دلچسپی کے امورکو مدِنظر رکھتے تولاک ڈاؤن کے دوران بچوں کو گھر میں رکھنا بھی آسان ہوتا اوروہ صحت مند جسمانی و دماغی سرگرمیوں میں بھی مشغول رہتے۔ لیکن چونکہ یہ سب ممکنات وقوع پذیر نہیں ہوئے سو موجودہ حالات میں حکومتی حکمت ِعملی اور میڈیا نے بچوں کے دلوں میں کرونا سے لڑنے کے جذبے کی بجائے ڈرخوف پید اکر دیاہے کہ حا لات جو ں کے توں ہی رہیں گے۔ ایک عجیب سی سوچ گھیرے ہوئے ہے کہ جانے کب سکول جائیں گے۔

Facebook Comments HS