عالمی وبا کے ایام میں دیسی وبا اور مذہب کا آفاقی پیغام


کرونا وبا کے ان آزمائشی ایام میں، ہم نٕے بحیثیت قوم جو قومی مزاج اور قومی رویا روا رکھا ہے۔ اس طرز عمل نے، ہمارے تمام تر دعوے اور خوش فہمیوں کو زمین دوز کردیا ہے۔ قہوے سے کرونا کے علاج سے لے کر عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے، کرونا علاج کی تجاویز تک، ہم اپنے آپ کو مضحکہ خیز قوم ظاہر کر رہے ہیں۔

کرونا کی آڑ میں، ہم اپنی دیرینہ دشمنیاں نبھانے لگے ہیں۔ اپنی آراء دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ کہیں سیاست اور دانشوری چمک رہی ہے تو کہیں سیکیولر بننے کے چکر میں، عقائد پر بیجا تنقید ہو رہی ہے۔ اور کہیں مذہب کی منپسند تشریح کرکے، عبادت اور تبلیغ کے نام پر قانون شکنی کی جارہی ہے۔ حالانکہ اسلام تو ریاستی احکامات پر عمل کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

اسلام بنی نوع انسان کے بھلے کے لیے آیا تھا، جس میں انسانی آسانی اور فوائد کے مطابق لچک موجود ہے۔ کیونکہ ”دین میں کوئی جبر موجود نہیں“ ۔ سفر اور بیماری کی حالت میں تو نماز کی پابندی بھی نرم ہوجاتی ہے۔ مگر مگر ہمارے ہاں وبائی ایام کے غیر معمولی حالات میں، سابقہ معمولات میں ذرا سی تبدیلی بھی گوارا نہیں کی جارہی۔ چنانچہ سماجی فاصلہ محض مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث بھی موجود ہیں جن میں آپ صلعم نے بارش اور دیگر غیر معمولی حالات میں گھروں کے اندر نماز ادائیگی کے احکامات دیے تھے۔ مگر مذکورہ حوالے سے ہمارے ہاں بہت کچھ الٹا چل رہا ہے۔

حالیہ انسان دشمن وبائی ایام میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مشہور حدیث کو بھی رہنما نہیں بنا سکے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ اگر معلوم ہو کہ کہیں وبا چل رہی ہے تو وہاں جانے سے گریز کرو اور اگر آپ کے علاقے میں وبا پھوٹ پڑے تو وہیں رکے رہو۔ مگر ہم حکومتی لاک ڈاٶن کو بھی ہوا میں اڑا رہے ہیں۔

علم کے حصول کے لیے چین جانے سے بھی گریز نہ کرنے والی مشہور حدیث مبارکہ میں بھی دنیاوی علم کی بات کی گئی ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں چین میں کوئی مذہبی درسگاہ تو تھی نہیں۔ لہاذا دنیاوی مسائل اور معالات کو سیکھنے، سمجھنے اور حل نکالنے کے لیے دنیاوی علم سیکھنٕے کی تاکید کی گئی ہے۔ ۔

چنانچہ مذکورہ حدیث کی اصل روح کے مطابق انسانیت کو درپیش مسائل کا حل بھی اللہ تعالی نے ان شعبوں کے ماہرین کے مشوروں میں پوشیدہ رکھا ہے۔ سائنس/ طب بھی دنیاوی علوم ہیں۔ چنانچہ دنیاوی مسائل کے حل کے لیے ہمیں ان شعبوں کے ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔ روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے علاج کروانے کا ذکر موجود ہے۔ اور جان بچانا بھی فرض الاہی ہے مگر ہم ہیں جو وبائی امراض کے ماہرین کی تنبیھ، نبی کریم کی سنت اور اللہ تعالی کے احکامات کے برعکس انسان دشمن وبائی ایام میں سماجی فاصلہ نہیں رکھ رہے اور اللہ تعالی کی مخلوق کے لیے شعوری /لاشعوری مصیبت پیدا کر رہے ہیں۔

ماہرین کہہ رہے ہیں کہ وبا سے بچنے کے لیے گھروں میں رہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی عبادتگاہیں بھی بند ہیں مگر پھر بھی ان حالات کے دوران ہمارے ہاں واعظ اور تبلیغ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ کہیں لاک ڈٶن کو عقیدے کا مسئلہ بناکر ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ہمارا یہ مزاج اور یہ رویہ کتنا مذہبی اور کتنا مہذب ہے؟ یہ سوال ہم خود سے دریافت نہیں کر رہے۔

Facebook Comments HS