EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عابدین، ہیلری اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"SULTANامریکہ کے صدراتی انتخاب دو دن بعد ہونے والے ہیں جس میں امریکی صدرات کے لیے ہیلری کلنٹن یا ڈونلڈ ٹرمپ میں سے ایک کو منتخب کیا جائے گا۔ دونوں امیدواروں کی ساری توجہ اب ریاست فلوریڈا پر ہے جو اس صدارتی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کرئے گی۔ آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے اب تک تین کروڑ30 لاکھ افراد ووٹنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیلری کلنٹن کو برتری تو حاصل ہے لیکن ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت جیب بش کے انتخابی مہم سے باہر ہونے کے بعد سابق امریکی صدرجارج بش بھی ہیلری کے حامی ہوچکے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ امریکی صدر اوباما کی اہلیہ مشعل اوباما بھی ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ انھیں ہیلری کلنٹن کا سب سے موثر ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے وہ شدید مشکلات میں ہیں اور رپبلکن پارٹی کے 30 کے قریب سینیئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر اور رپبلکن جماعت کے ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز رہنما پال رائن نے کہا تھا کہ خواتین سے متعلق بیان سامنے آنے کے بعد وہ اپنی جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا دفاع نہیں کریں گے۔ پال رائن کے اس بیان کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رپبلکن ان پر چاروں جانب سے حملہ کر رہے ہیں اور ان کی غداری کا مقابلہ کرنا ڈیموکریٹس کا مقابلہ کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر عورتوں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان 2005 کا ہے جس کی ویڈیو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں جاری کی ہے۔ اس ویڈیو ٹیپ میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی کے میزبان بلی بش کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ \’\’اگر آپ سٹار ہیں تو خواتین کے ساتھ آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں\’\’۔ ہیلری کلنٹن کی صدارتی مہم میں ان کے شوہر بل کلنٹن ان کی بیٹی چیلسی بھی شامل ہے۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ بھی ہیلری کی حمایت کر رہی ہے جبکہ سارہ پالن ٹرمپ کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ ارب پتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کو آگے لائے ہیں۔

\"michelle-obama-clinton-hillary\"جہاں امیدوار اپنے حمایتی پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہاں انتخابی اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے بڑے بڑے لوگوں سے فنڈز بھی لیے ہیں جب کہ بعض ممالک نے بھی انہیں فنڈز دئیے۔ امیدواروں نے اپنی صدارتی مہم کے لیے فنڈز کے حصول اور انتخابی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے نائبین مقرر کر رکھے ہیں۔ ہیلری اس وقت اپنے نائبین کو سب سے زیادہ ادائیگی کر رہی ہیں۔ ہیلری کلنٹن کی قریبی دوست ہما عابدین جن کے والد کا تعلق بھارت اور والدہ کا پاکستان سے ہے اس وقت امریکہ میں صدارتی مہم کا حصہ بننے والی سب سے زیادہ تنخواہ لینے والی خاتون بن چکی ہیں۔ کانگریس کے سابق رکن انتھونی کی اہلیہ (جو اب ان سے علیحدگی اختیار کر چکی ہیں) عابدین ہیلری کلنٹن کی جانب سے شروع کردہ مہم \’\’ہیلری امریکہ کے لیے\’\’ کی وائس چیئرمین ہیں۔ عابدین ہیلری کے معاملات کو آزادانہ طور پر دیکھ رہی ہیں اور اکثر میٹنگ میں بھی ہیلری کی جگہ وہ شامل ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے مہم سے وابستہ ہیلری کی قریبی دوست کا کہنا ہے کہ ہیلری عابدین کو اپنا خاص راز دان سمجھتی ہیں اور ان پر بہت زیادہ بھروسہ کرتی ہیں۔ امریکہ میں تاریخی طور پر زیادہ تر ان امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے اپنے انتخابی مہم کیلئے زیادہ رقم اکٹھی کی۔ 2012 کے انتخابات میں صدر اوباما اور ان کے حامیوں نے 100 ارب ڈالر یعنی ایک کھرب روپے سے زائد رقم اکٹھی تھی جبکہ ان کے مقابل میٹ رومنی نے 99 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی۔ لیکن اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی وہ ہار گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2012 کے کانگریس کے انتخابات میں 84 فیصد کامیاب امیدوار وہ تھے جنہوں نے اپنے مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ رقم جمع اور خرچ کی۔ اس وقت تک جو امیدوار میدان میں ہیں ان کی اب تک جمع کی گئی رقوم کا موازنہ کریں تو ہیلری کلنٹن کی واضح برتری نظر آتی ہے۔ ہیلری کلنٹن فنڈ کے حوالے سے اس وقت آگے جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم میں 80 فیصد سے زائد رقم ایسے افراد کی طرف سے آئی ہے جو 200 ڈالر یا اس سے کم کی رقم چندہ کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان کی انتخابی مہم پر روزانہ اڑھائی کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس الیکشن کے اختتام پذیر ہوتے ہوتے یہ دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہو گا اور یہ مہنگا اس لیے ہے کہ ہر امریکی امیدوار امریکہ کے ذریعے دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

\"huma\"امریکی جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کا صدر بھی منتخب نمائندوں کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا اب جو صورت حال نظر آرہی ہے اس میں نظر یہی آ رہا ہے کہ امریکی جمہوریت بھی دولتمندوں کی محتاج ہو گئی ہے اور اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ امریکہ میں ہر چار سال بعد انتخابات ہوتے ہیں جس میں ڈیموکرٹیک اور ریپبلکن پارٹیوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ امریکی انتخابات میں پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی رہتی ہیں۔ ہر ملک اسے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ یہ ان کے لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ کسی خاص امیدوار کی حمایت بھی کرتے ہیں اور فنڈ بھی دیتے ہیں۔ امریکی انتخابات کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ اس میں پاکستان بھی شامل ہے اسی لیے ان انتخابات پر پاکستان کی خصوصی نظر رہتی ہے۔ لیکن امریکہ میں ریپلکن پارٹی کی حکومت ہو یا ڈیموکرٹیک پارٹی کی دونوں کی پالیسی میں پاکستان کے لیے کوئی خاص جگہ نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود پاکستان کے حکمران اور وزارت خارجہ خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں، ان کی خوش فہمی اس وقت دور ہوتی ہے جب امریکی صدر \’\’موشن\’\’ میں آتے ہیں۔ امریکہ میں انتخابات جہاں ٹو پارٹی سسٹم کے تحت چل رہے ہیں وہاں اب دو مزید تبدیلیاں بھی دیکھنے کو بھی مل رہی ہیں۔ اس کو آپ تبدیلیاں کہہ لیں یا خرابیاں لیکن جمہوریت کے حوالے سے اسے خرابیاں ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ امریکی انتخابات بھی تیسری دنیا کی طرح اب دولت مندوں کے نرغے میں آگئے ہیں (اور اس میں بھی حکومت خاندان میں رکھنے کی خواہش موجود ہے) ظاہر ہے جو لوگ امیدوار کو کامیابی کے لیے فنڈ دیں گے کامیابی کے بعد اس سے اپنے مفادات پورے کرنے کی توقع بھی رکھیں گے۔ اسی لیے جہاں امریکی صدراتی امیدوارکو تیسری دنیا کے بعض ممالک اپنے مفادات کے لیے سپورٹ کرتے ہیں وہاں امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں بھی انہیں کامیابی کے لیے فنڈ کے نام پر \’\’رشوت\’\’ دیتی ہیں تاکہ مستقبل میں کامیابی کی صورت میں ان سے اپنے کام نکلوا سکیں اور گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اب ڈیموکریٹ پارٹی ہو یا ری پبلکن پارٹی دونوں پر خاندانی سیاست کی پرچھائیاں پڑ گئی ہیں تاہم ایک بات یہ واضح ہے کہ ریپلکن پارٹی کا امیدوار کامیاب ہو یا ڈیموکرٹیک پارٹی کا دونوں کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہے بلکہ دونوں نے پاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی ہی اپنانی ہے۔ اگر ہیلری کامیاب ہوتی ہے تو ان کی پالیسی پاکستان دیکھ چکی ہے اس لیے کسی کے حوالے سے بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حوالے سے اپنی حکمت عملی پہلے سے مرتب کرلینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے