صدر بازار کراچی کے لٹیرے


عابد آفریدی


\"abid-afridi\" کراچی صدر میں ہر وقت نفسا نفسی کا عالم رہتا ہے۔ جان چھڑانے کی نفسا نفسی نہیں بلکہ کچھ کمانے کی نفسا نفسی لگی رہتی ہے۔ پستہ بادام بیچنے والی وہ ہندوں مہیلائیں جو نیم عریاں پیٹ لئے کسٹمرز کو اپنی اور اکرشک کرتی ہیں۔ مجھ جیسے لوگ بلاوجہ اخروٹ کی قیمت پوچھنے بیٹھ جاتے ہیں۔

ٹی وی، لپ ٹاپ، میوزک سسٹم، کی نیلامی میں بولی لگانے والوں کو ہزاروں روپے کے بدلے مذکورہ بالا چیزوں کی بجائے مبارکباد سمیت تالیوں کی گونج میں استری یا گھڑی پکڑا دی جاتی ہے۔ یا پھر کوئی ایسی چیز جسے لوگ اسی جگہ زمین پر پٹخ کر روانہ ہوجاتے ہیں۔

مزید آگے بڑھیں تو ایسے لوگ ملتے ہیں۔ جن کو ہمارے چہرے و جسم میں وہ سارے نقائص اور وہ تمام بیماریاں نظر آجاتی ہیں جن کے سبب بس کچھ ہی دنوں میں ہماری موت نے واقع ہونا ہے۔ اگر جلد از جلد علاج نہ ہوا تو مارے تکلیف کے موت سے پہلے ہی مریض خودکشی پر تیار ہوجائے۔

پھر ہمارا یہ محسن جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہمارے اندر موجود جان لیوا امراض کی تشخیص کی تھی۔ ہمیں پاس ہی موجود ایک حکیم لقمان کا پتہ بتاتے ہیں۔ جن کے پاس موت کے سوا تمام بیماریوں کے ساتھ کچھ حد تک موت کا علاج بھی دستیاب رہتا ہے۔ اور بدلے میں اپنے حق میں دعا کی درخواست کرتے ہوئے مرغے کو حکیم کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔

نامعلوم کیوں صدر میں موجود ہر کاروباری تقدیر میں لکھی ہوئی روزی سے زیادہ کمانے کی جہت میں لگا ہوا ہے۔ گارمنٹس بیچنے والے امپورٹڈ بول کر شیرشاہ کباڑی بازار کا لنڈا فروخت کرتے ہیں۔ ریگزین کے جوتے باٹا بتاتے جاتے ہیں۔ ہر ناقص چیز کو پائیدار بتا کر پیش کرتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ صدر میں سب کے سب چور ڈاکو لٹیرے ہیں۔ ایک آدھ مارکیٹ میں کچھ لوگ ہیں جو انتہائی مجبوری کے عالم میں چیزوں کو ان کی اصل قدر و قیمت کے تحت آپ کو بیچتے ہیں۔ مثلاََ پرانی کتابوں کی مارکیٹ جہاں اشیائے تجارت میں مبالغہ کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔ جہاں دوکاندار اپنی چیز کو فروخت کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا نہیں لے سکتا۔ کیونکہ کتابیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، عظمت ان کے عنوان سے عیاں ہوتی ہے۔ قدر قیمت اس کا مصنف بیان کرتا ہے۔ افادہ صفات کے اندر موجود ہے۔ صدر ریگل چوک کی گلی میں موجود کتابوں کے یہ بیوپاری شاید کتابوں کو اس بدیہی کفیت اور سچ گوئی کی سزا کی طور زمین پر بچھا دیتے ہیں جہاں پاس بہتے ہوئے گندے پانی میں ہر گزرتی گاڑی کی وجہ سے ان پر گندے پانی کے چھینٹے، چپلوں کی اڑتی ہوئی دھول، اور پان کی پیک پڑتی ہے۔

مگر اس قدر رسوائی کے باوجود بھی یہ مسکراتی ہیں۔ بلکہ ہم پر ہنستی ہیں۔ اور ہم سے کہتی ہے یہ سزا ہماری نہیں اس معاشرے کو دی جا رہی ہے۔ کیونکہ جب لوگوں میں دولت کی ہوس زور پکڑتی ہے تو علم کی چاہت گھٹ جاتی ہے۔ یوں دولت کا ایک سیلاب آتا ہے۔ جو ساتھ علم، دانائی،اور اصول و اخلاقیات کو خس و خشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ جس کے بعد لالچ، حسد، بغض وکینہ کی جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں جو رہتے رہتے سوکھنے لگتی ہیں اور آخر میں جھاڑیوں کے اس معاشرے کو بھسم ہونے کے لئے بس ایک چنگاری درکار ہوتی ہے۔ اس چنگاری کے پھوٹتے ہی سب کچھ تباہ ہوجاتا ہے۔

ابھی کل پرسوں کی بات ہیں۔ مجھے اسٹیبلائزر لینے صدر الیکٹرونک مارکیٹ جانا پڑا۔ صدر میں موجود لگ بھگ تمام فراڈیوں سے واقف ہوچکا ہوں۔ مگر اس بار ذرا مختلف منظر دیکھ آیا۔ طریقہ واردات مختلف اور ہتھیار نیا تھا۔ وضع قطع بھی بزرگی سے بھرپور۔

ایک دوکان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کاونٹر پر سفید ریش بابا جی براجمان تھے۔ جب کہ دکان کا عملہ صفائی و ستھرائی میں مصروف تھا۔ بابا جی با آواز بلند ایک خاص روانی کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ ایسی روانی کے ایک ہی سانس میں پوری لائن بول ڈالتے۔ پھر سانس لیتے اور دوسری لمبی لائن ادا کرتے۔

یہ طبقہ ان دنوں صدر میں سرگرم ہے جو ایسے کاروباریوں کے متلاشی رہتے ہیں جن کی دکانیں اولیاء کی تصاویر سے مزین ہو۔ دکان پاتے ہی دکان کھلنے سے پہلے ہی موجود ہوتے ہیں جس کے بعد کاروبار میں برکت کی ایک لمبی دعا کرتے ہیں۔

دعا کم اور اولیا کی کرامات کا بیان زیادہ ہوتا ہے اور پھر ان اولیا کا واسطہ دے کر برکت کی درخواست فرماتے۔

ان بابا جی کی دعا کچھ یوں تھی؛

اے اللہ عبدالقادر جیلانی کا واسطہ جس نے کشتی کو ہاتھ کا اشارے سے نکالا۔ کاروبار میں برکت فرما

اے اللہ بابا شمس تبریز کے وسیلے جس نے سورج کو زمین پر اتارا کاروبار میں برکت فرما

اے اللہ قلندر کے صدقے جس نے سمندر کو کشکول میں گھیرا مال میں برکت فرما

اس دوران میں بھی دکان میں خاموش کھڑا رہا اور کم آواز میں ان کی ہر بات پر آمین کہتا۔ جب لگ بھگ تمام اولیا کرام کے واسطہ دے دیے گئے اور دعا اپنے اختتام کے قریب پہنچی۔ تو بابا جی نے عین دعا ہی دعا میں میری طرف دیکھا اور سر یوں ہلایا جیسے بتانا چاہ رہے ہو کہ اب تیرے من کی بات کہتا ہوں۔

بابا جی نے میرے متعلق دو خیالات قائم کئے۔ اول یہ کہ میری قومیت کیا ہے اور ہم کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور نیز یہ کہ کون سے ولی الله ہو سکتے ہیں جن سے ہمارے مسلک والے عقیدت رکھ سکتے ہیں اور  جس کا وسیلہ مانگ کر اسے خوش رکھ سکے جو دیر سے آمین آمین کہے جارہا ہے۔

بابا جی نے وقفہ کیا۔ سامنے موجود پانی کے گلاس منہ میں انڈیلا۔ اور میری جانب دیکھ کر با آواز بلند اسی روانی کے ساتھ دوبارہ دعا مانگنی شروع کردی۔ مگر اس بار کردار اور کرامات ذرا مختلف تھے۔

اے اللہ اسامہ بن لادن کے صدقے۔ جس نے ایک جہاز سے کافروں کی دو بلڈنگ گرائیں۔ تمام لوگوں پر برکت فرما۔

اے اللہ ملا عمر مجاہد کے صدقے۔ جس نے امریکہ جیسے شیطان کو مار بھگایا۔ تمام خریداروں کو اصلی شے خریدنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ ملا داد اللہ کے صدقے،

الیاس کاشمیری کے صدقے،

بیت اللہ محسود کے صدقے،

بابا جی کے ہر اضافے کے ساتھ میری دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ اہل دکان کا کام ہوچکا ہے۔ اگلا شکار مجھے بنایا جارہا ہے۔ آخر میں بابا جی کے منہ سے جیسے حکیم اللہ محسود کا نام نکلا تو اس سے پہلے کہ بابا جی بیس پچاس کی خاطر مجھے گوانتانا موبے بھیجتے۔ میں ہی دکان سے نکل پڑا اور تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھا کیونکہ مجھے اپنی کھوپڑی کے گرد ایک لال رنگ کا ہالہ محسوس ہونے لگا تھا۔ اور ساتھ میں ایک تیر بھی جس کے ذریعے نشاندہی ہو رہی ہو کہ پکڑو اس آدمی کو یہی وہ دہشت گرد ہے جس کی حکومت وقت کو تلاش ہے۔

کہتے ہیں زرداری صاحب بھی کراچی بمبینو سینما سے فارغ التحصیل ہیں۔ یعنی صدر مارکیٹ نے اس ملک کو ایک صدر بھی دیا ہے۔ کیا بات ہے!

Facebook Comments HS