جامعۃالعلوم الاسلامیہ (بنوری ٹاؤن) نے ڈرامہ’ارطغرل’ دیکھنے کو ناجائز قرار دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت ِ پاکستان کی جانب سے ترکی کے ڈرامہ سیریل ارطغرل کو یکم رمضان سے سرکاری ٹی وی پر چلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس پر جامعۃ بنوری نے ایک سوال کے جواب میں فتوی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرامہ کوئی بھی ہو، دیکھناً شرعا حرام ہے۔

اسلامی تاریخ پر مبنی اور خلافت عثمانیہ کی مکمل کہانی لیے ہوئے ترکی کے بنائے گئے ڈرامے کو دنیا بھر میں بہت شہرت ملی ہے، نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی یہ ڈرامہ مختلف زبانوں میں ترجمے کے بعد دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی اپنی متعدد تقاریر میں اس ڈرامے کا ذکر کرچکے ہیں اور اب حکومت نے اس ڈرامے کو یکم رمضان المبارک سے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے.

” 150 قسطوں پر مشتمل اس ڈرامے کو ترک حکومت نے اس لیے بنوایا کہ عوام کو خلافت عثمانیہ کی پوری کہانی معلوم ہوسکے، اس سیریل میں عورتوں نے مختلف کردار بھی ادا کیے ہیں اور ڈرامے میں عشق و محبت کی کہانیاں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں، اس ڈرامے کو بنانا ، ٹیلی ویژن پر نشر کرنا اور پاکستان میں اس ڈرامے کو اسلامی پس منظر کے ساتھ نشر کرنے پر شریعت کا کیا حکم ہے”؟

صارف نے مزید لکھا کہ “ڈرامے میں خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان کے والد ارطغرل اور ان کے قبیلے کے افراد کے حالات کو پیش کیا گیا ہے، اس کے تمام واقعات مستند بھی نہیں ہیں اور اس میں جھوٹ سچ کی آمیزش ہے، ڈرامہ اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ ایک بار دیکھنے پر ہی ناظر کو اپنے سحر میں قید کرلیتا ہے، بعض نام نہاد علماء اور خود ساختہ مفکرین بڑے بڑے مضامین لکھ کر اس ڈرامے کو دیکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں لہذا ایسے حالات میں ضروری ہے کہ اس ڈرامے کی شرعی حیثیت اور اسے دیکھنے کے حوالے سے عوام کی صحیح رہنمائی فرمائی جائے”۔

جامعہ بنوری کے علامہ محمد یوسف بنوری کی جانب سے اس سوال پر فتوی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ” کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ناجائز طریقہ اپنانا درست نہیں، خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی دور کی روئیداد تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ اور اس سے متعلق لٹریچر عام کرکے ہوسکتی ہے،اس کے لیے فلم، ڈرامہ بنانا اور دیکھنا جائز نہیں ہے۔ نیز اگر سوال میں مذکورہ مفاسد بھی اس میں پائے جاتے ہیں تو یہ قباحت اس پر مستزاد ہے”۔

فتوی میں ایک سابق فتوی کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں اسی ڈرامے سے متعلق سوال پر جواب میں کہا گیا تھا کہ “مذکورہ ڈرامہ ہو یا کوئی اور ڈرامہ یا فلم، دیکھنا شرعاً جائز نہیں۔

نیز عموماً ٹی وی پر آنے والے پروگرام موسیقی ناچ گانے، بد نگاہی کے اسباب سے خالی نہیں ہوتے، لہذا اس قسم کے پروگراموں کے دیکھنے کی ترغیب دینا (علاوہ جان دار کی تصویر دیکھنے دکھانے کے) اشاعتِ فحش، و معاونت علی الاثم کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز نہیں”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *