سوشل میڈیا – اکیسویں صدی کی ایک نعمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کرونا سے ہونے والی اموات کا موازنہ اس سے پہلے پھیلنے والی وبائی امراض جیسے کہ طاعون یا سپیش فلوسے کیا جائے تویہ تعداد بہت کم نظر آتی ہے۔ جہاں اس کی ایک وجہ طب کے شعبے میں ترقی ہے وہیں آگاہی مہم کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ عوام میں اس مرض سے بچنے کے لیے سماجی دوری کا احساس اجاگر کرنے میں ایک اہم کردار سوشل میڈیا کا بھی ہے۔ اس نے عوام الناس تک احتیاطی تدابیر پہنچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی واٹس اپپ کا اس مقصد کے لئے استعمال کیا ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے اکیسویں صدی سوشل میڈیا کی صدی ہے۔ سوشل میڈیانے لوگوں کو قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ان مسائل کی جانب توجہ دلائی ہے جن کی جانب روایتی ذراع ابلاغ توجہ دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ دور حاضر میں وقوع پذیر ہونے والی سماجی تبدیلیوں میں اس کا بہت ہاتھ ہے۔ معیشت بھی اس سے کئی طرح سے متاثر ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا کا آگاہی پھیلانے میں انتہائی اہم کردار ہے۔ اب آپ کرونا کو ہی لے لیجیے۔ سوشل میڈیا نے عوام الناس میں سماجی دوری اور قرنطینہ کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ اس سے متعلقہ اداروں اور حکومتوں نے کرو نا کی علامات اور سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے لوگوں کو آگاہ کیا ہے۔ مزید برآں، اس نے لوگوں کو قرنطینہ کی تنہائی میں نہ صرف مصروفیت فراہم کی ہے بلکہ اس تنہائی میں بھی ان کو آپس میں جڑے رہنے کا اک وسیلہ میسر آگیا ہے۔ لوگوں کو گھروں میں رکھنے میں بھی ہے یہ مدد گارثابت ہوا ہے۔ دیگر عالمی مسائل جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں بھی یہ کار آمد ثابت ہوا ہے۔ گلوبلائزیشن کے عمل میں یہ ایک اہم آلہ کار بن کر ابھرا ہے۔ یہ بین المذاہب رابطے کا بھی باعث بنا ہے۔ یہ سرحدوں کے فاصلے سمیٹ رہا ہے۔

اسی طرح دور حاضر میں پیش آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو اگر اٹھا کر دیکھا جائے تو ان کے پیچھے سوشل میڈیا کا کردار انتہائی واضح دکھائی دیتا ہے۔ اب آپ پاکستان کو ہی لے لیں۔ تحریک انصاف کو آج سے چند سال پہلے ”فیس بک پارٹی“ کا طعنہ دیا جاتا تھا مگر اسی فیس بک پارٹی نے دو جماعتی نظام میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ آج وفاق اور دو صوبوں میں اپنی حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوچکی ہے۔ سوڈان میں ہونے والے حالیہ مظاہرے ہوں یا عرب بہار ان تمام کے پیچھے سوشل میڈیا کا ہاتھ واضح دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی حوالے سے سوشل میڈیا کے کردار کو واضح کرنے میں مصر کے نوجوانان خاص کر احمد ماہر کا نام ہمیشہ جلی حروف میں لکھا جایے گا۔

گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا سماج کی توانا آواز بن کر ابھرا ہے۔ آج ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعے عوام اپنے حکمرانوں سے براہ راست سوال کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ فیصلہ کن قدم اٹھائے۔ زینب قتل کیس اس کی ایک واضح مثال ہے۔ حکومت نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کی جانب سے ڈالے کہ دباؤ کے نتیجہ میں نہ صرف قاتل کو پکڑنے میں پھرتی دکھائی بلکہ اس کو قرار واقعی سزا بھی دلوائی۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہر اس شخص کو آواز دے دی ہے جو اپنی آواز کو لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی آواز بن رہا ہے جن کی آواز کی اس سے قبل ایوان بالا تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے وقت کی بہت بڑی نعمت ہے۔

کاروبار کی دنیا میں سوشل میڈیا نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب کاروباری لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں رہنے کے لئے اپنے کاروبار کی آن لائن تشہیر لازمی کرنا پڑ رہی ہے۔ اب آپ میڈیا کو ہی اٹھا کے دیکھ لیں۔ ایسا کون سا بڑا صحافتی ادارہ ہے جو اپنے فیس بک ہینڈل کو ترجیح نہیں دیتا۔ کوئی بھی کاروباری ادارہ اپنے منافع کی قیمت پر ہی سوشل میڈیا پروموشن کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ اکیسویں صدی تبدیلیوں کی صدی ہے۔

اس کے ڈائنامکس مختلف ہیں۔ کاروباریوں کو ان کو سمجھنا ہو گا ورنہ وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ مزید برآں، علم کی روشنی کو پھیلانے میں بھی سوشل میڈیا کا بہت ہاتھ ہے۔ یوٹیوب کے بغیر آج اعلیٰ تعلیم کا تصور بھی محال ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے شاگردوں تک معلومات پہنچا سکتے ہیں۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی طاقت اپنے ساتھ صرف اور صرف بھلائی ہی لائی ہے۔ یقینا ہرخیر سے شر کا پہلو نکالا جا سکتا ہے اور اس اصول سے سوشل میڈیا بھی ماورا نہیں۔ اس ضمن میں پہلی چیز جو نظر آتی ہے وہ تیزی سے گرتی ہوئی نفسیاتی صحت ہے۔ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال کئی قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ یہ لوگوں میں نرگسیت کے جذبات بھی ابھار رہا ہے۔ ڈیجیٹل آلات جیسے کہ موبائل کا زیادہ استعمال ڈپریشن یعنی نفسیاتی دباؤ کو بڑھاوا دے رہا۔

پروپیگنڈا کرنے والوں کے ہاتھ تو جیسے ایک نیا آلہ لگ گیا ہے جس سے وہ لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ سائبر بلنگ ایک نئی بلا ہے جس سے ہمیں سامنا درپیش ہے۔ دہشتگرد اس کے ذریعے اپنی بھرتی کے عمل کو سہارا دے رہے ہیں۔ نورین لغاری جو کہ پاکستانی میڈیکل سٹوڈنٹ تھیں ان کو بھی داعش نے فیس بک کے ذریعے ورغلایا اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ مزید برآں، ہمارا ڈیٹا بھی چوری ہو رہا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کیا پیتے ہیں اور کس چیز کو پسند کرتے ہیں ؛ آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کو سب معلوم ہے۔ یہ ڈیٹا چوری ہو رہا ہے اس ضمن میں حال ہی میں مارک ذکربرگ کو امریکی کانگریس کے سامنے پیشیاں بھگتنا پڑی ہیں۔ ان سب نقصانات کے علاوہ وقت کے زیاں کو تو میں گن ہی نہیں رہا۔

یہ سارے مسائل اپنی جگہ سہی مگر یہ بات بھی اٹل ہے کہ تغیر کے پہیے کو الٹی جانب نہیں موڑا جاسکتا۔ بدلتے وقت کے بدلتے مزاج کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی عادات و اطوار بدلنے ہوتے ہیں۔ حکومتوں کو بھی بالکل انسانوں کی طرح بدلتے وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ اپنی استعداد کار بڑھانا ہوتی ہے۔ انہیں نئی حکمت عملی نئی پالیسیاں اور ادارے بنانا بنانا چاہیے جو ان نئے مسائل کا سامنا کرسکیں۔ پاکستان نے نیشنل رسپونس سینٹر فور سائبرکرائم کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے جو ان معاملات کو دیکھ رہا ہے۔

علاوہ ازیں، سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے الاگریتھم جدید بنانے ہوں گے جو دہشتگردی اور سائبر بلنگ جیسی لعنتوں کا مقابلہ کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بہترین استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ ہر انسان کو بھی اپنی انفرادی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ جیسے ہم اپنے بچوں کو سائیکل چلانے سکھاتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں انہیں فیس بک بھی درست طریقے سے استعمال کرنا سکھانا ہوگی۔ ان مجموعی کاوشوں سے اس نعمت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اس کو زحمت بننے سے روکا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا اکیسویں صدی کی ایک نعمت ہے۔ اس نے انسانی زندگی کو کئی طرح سے آسان بنا دیا ہے۔ اس نے لوگوں میں تعلق پیدا کیا ہے۔ یہ کئی طرح کی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ کچھ نقصانات بھی آ رہے ہیں۔ ان پر مناسب حکمت عملی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہم اس نعمت سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply