آٹاچینی بحران کی رپورٹ: تاخیری حربے اپنوں کو تحفظ دینے کا بہانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گزشتہ دنوں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں آٹاچینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت اور اس کے اتحادی جماعت نے اُٹھایا تھا۔ رپورٹ آنے کے بعد اس کے فرانزک آڈٹ اور مزید چھان بین کے اعلان پر حزب اختلاف نے الزم لگایا تھا کہ اتنے بڑے سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے باوجود حکومتی اراکین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے، جبکہ اپوزیشن کے خلاف ابتدائی تحقیقات پر ہی ایکشن لیا جاتا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے با اثرحکومتی شخصیات کے حوالے سے تحقیقات میں لاپرواہی برتی ہوگی، چونکہ یہ ایک آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ ہے، اس لیے اس کے شواہد کی بنیاد پر جتنا جلد ممکن ہو سکے نیب کو تمام قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آٹا چینی سکینڈل کی وجہ سے عوام کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس میگا سکینڈل کے بہت سے پہلو سامنے آچکے ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کئی سخت اقدامات بھی کیے ہیں، تاہم ابھی بہت سے پہلو تشنہ ہیں جن کی بہرحال تحقیقات کی جانی چاہیے۔ نیب نے آٹا چینی سکینڈل پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلہ میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سکینڈل کی انکوائری ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کے سپرد کرتے ہوئے انہیں ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نیب کا کام ہی چونکہ احتساب کرنا ہے اور یہً اس مقصد کے لئے ایک مناسب فورم ہے، لہٰذا اس سکینڈل کے کرداروں کو احتساب کے کٹہرے سے بھی گزارا جانا چاہیے، تاکہ سکینڈل کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سکینڈل کی شفاف اور منصفانہ انکوائری کی جائے اور اس سلسلہ میں کوئی لگی لپٹی رکھے بغیرمکمل ثبوت اکٹھے کیے جائیں، تاکہ قوم کو مہینوں تک اضطراب کا شکار رکھنے والے اس سکینڈل کے حوالے سے انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اوراس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

یہ امرواضح ہے کہ نیب نے چینی آٹا سکینڈلز کا جائزہ لینے اور اس پربلا امتیاز کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم دوسری جانب شیخ رشید نے فارنزک رپورٹ میں تاخیر کی بات کررہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک اور یوٹرن لینے کی تیاری ہورہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو بیشتر وزراء مشورہ دے رہے ہیں کہ ”مٹی پاؤ“ یعنی سکینڈلز کو مزید نہ کریداجائے، گویا اسپغول تے کچھ نہ پھرول پر زور دیا جارہا ہے، حکومتی صفوں میں ترین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے حوالے سے آوازیں اُٹھنے سے ”خطرے“ کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، جبکہ پنجاب میں جس طرح جہانگیر ترین کے ساتھ بعض ایم این ایز اور ایک ایم پی اے کے سامنے آنے کی خبریں آرہی ہیں، اس نے پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، اس کے بعد سے حکومتی جماعت نے اپنے ناراض رہنما حلیم خان کو دوبارہ وزیر بنا کر جہانگیر ترین کی ”چالیں“ ناکام بنانے کی کوششیں شروع کردی ہے، تاہم جس طرح جہانگیر ترین کے حق میں آوازیں اُٹھنی شروع ہوئی ہیں اس کے بعد سیاسی گرو پنجاب میں سرکاری جماعت کے اندر فاروعڈ بلاک بننے کے خدشات ظاہر کررہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ وزیر اعظم کرپٹ مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے خواہاں ہیں، مگر پس پردہ سیاسی معاملات روز بہ روز گمبھیر ہوتے جارہے ہیں، یعنی آٹا اور چینی سکینڈل کے بعد اب آئی پی پیز کا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے اور اس میں بھی جہانگیر ترین کا نام دوسرے کچھ لوگوں کے ساتھ آرہا ہے، گویا ان کے خلاف شکنجہ کسنے میں جو کسر باقی تھی وہ بھی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے، ایسے میں جو لوگ وزیراعظم کو ”مٹی پاؤ“ کے مشورے دے رہے ہیں، کیا ان مشوروں پر عمل ممکن ہوگا یا پھر معاملات اپنے منطقی انجام تک جائیں گے؟

کیونکہ چینی سکینڈل کے حوالے سے بھی بہت اہم سوالات اُٹھا ئے جارہے ہیں کہ جو افغانستان کو 60 فیصد چینی برآمد کرنے کا جہانگیر ترین کا دعویٰ ہے، اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس دعوے کے ثبوت فراہم کرنا شاید ترین کے لئے مشکل ہوجائے، کیونکہ اس حوالے سے جو شکوک ظاہر کیے جارہے ہیں کہ افغانستان کو مبینہ طور پر برآمد کی جانے والی چینی دراصل برآمد ہی نہیں کی گئی، بلکہ اندرون ملک ہی ذخیرہ کر کے نہ صرف اس پر ایک جانب سبسڈی وصول کی گئی تو دوسری جانب ملک کے اندر چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے چینی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا اور اس طرح عوام کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور مصنوعی قلت کے نام پر باہر سے چینی درآمد کرنے کا ڈھونگ بھی رچایا گیا، یہ سب معاملات خاصے گنجلک ہیں اور اب نیب نے معاملے کا نوٹس لے کر ان ممکنہ ”مٹی پاؤ“ اقدامات پر بھی سوال اُٹھا دیے ہیں، جن کے مشورے دیے جارہے ہیں۔

بلا شبہ اس وقت نیب کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ خود کو واقعی آزاد اور خود مختار ادارہ ثابت کرے اور جانبدارانہ کردار اور قول وفعل کے تضاد کی نفی کرے۔ نیب نے حزب اختلاف کے اراکین اور شخصیات کے حوالے سے جومعیار مقرر کیا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر شوگر وگندم سکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا جواز میسر ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کی جیب پر منصوبہ بند طریقے سے ڈاکہ ڈالنے والے کسی اور رعایت کے مستحق نہیں، ان کے خلاف جتنا جلد ممکن ہوسکے کارروائی ہونی چاہیے، لیکن ضروری قانونی کارروائی اور ہوم ورک جتنا جلد ممکن ہوسکے، اس کے تقاضے پورے کیے جائیں اور مضبوط کیس بنا کر شواہد کے ساتھ عدالت میں ثابت کرنے کی سعی کی جائے تاکہ کمزور احتساب کا الزام نہ لگے اور نہ ہی ملوث عناصر بچ نکلیں، تاہم دیکھنا ہوگا کہ فارنزک رپورٹ سامنے آنے میں جس تاخیر کے دعوے شیخ رشید کر رہے ہیں، وہ رپورٹ بروقت آتی ہے یا پھر واقعی اس میں تاخیری حربے استعمال کر کے حزب اختلاف کے بعض قائدین کے ان دعوؤں کو سچ ثابت کیا جاتا ہے کہ فارنزک رپورٹ میں تاخیر محض اپنوں کو تحفظ دینے کا بہانہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply