وبا کے دنوں میں ایک فون کال
وہ وبا کے ابتدائی دن تھے جب حکومت کی طرف سے سب کو گھروں میں رہنے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔
وبا مشرق کے ایک شہر میں سردیاں گزار کر چپکے چپکے مغرب جا پہنچی تھی۔ سننے میں آ رہا تھا کہ رستے میں ایک شہر ایسا بھی پڑتا تھا جس کی گلیاں چمکتے پانیوں کے ساحلوں جیسی تھیں اور ہر کونے سے رنگ اور راگ لہریں لیتے تھے۔ اس شہر کے لوگ کسی زمانے میں اپنے سورماؤں کو بیلا چاؤ کے نغمے سنا کے جنگوں میں رخصت کیا کرتے تھے۔ ازمنہ وسطٰی کے اس ابدی شہر سے گزرتے ہوئے اس وبا کو بے فکرے لوگ بھلے لگے تو اس نے اپنا پڑاؤ طویل کر لیا۔ یوں تو مشرق سے مغرب کی مسافت صبح سے شام تک کی تھی لیکن وبا نے کئی مہینے لگا دیے۔
ادھر ہم بے صبرے اور جلد باز بستیوں کے لوگ ساری سردیاں چائے اور مونگ پھلی اڑاتے ہوئے اجڑتے شہروں پر حتمی تبصرے کرتے تھے کہ ہمارا وبا سے کیا لینا دینا۔ بہار کی آمد تھی کہ ہوا کا رخ بدلا اور وبا کے کچھ ذرات پولن کے آوارہ دانوں کی صورت ہمارے صحن میں بھی آن گرے۔ بس پھر کیا تھا، ہمارے چٹ پٹے قصوں کے ایندھن سے چلنے والے چولھوں میں نئی آگ بھڑک اٹھی۔ ایک شور بلند ہوا اور ہمیں قید تنہائی کا حکم سنا دیا گیا۔
اس حکم سے ہزار وسوسے اور اندیشے جنم لینے لگے۔ غربت، امارت، کاروبار، بھوک سب سوالیہ اور سہمی نگاہوں سے دائیں بائیں ایک دوسرے کو تکنے لگے۔
قید تنہائی کا حکم اس شہر کے لوگوں کے لیے بالکل نیا تھا۔ یہاں تو لوگ آدھی رات کو نیند سے آنکھ کھلنے پر بھی اٹھ کے گلی کا چکر لگا آتے تھے۔ اس سارے قصے میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے لیے علیحدگی و تنہائی کا حکم ایک ہلکا سا رومانس لیے ہوئے تھا کہ کیسا ہو گا جب الارم کی آواز پہ چند دن پہرے لگ جائیں گے، گاڑیوں اور انسانوں کے ہجوم سے پرہیز ہو جائے گی، فکر روزگار رخصت ہو جائے گا اور فلموں و ڈراموں کا لا متناہی سلسلہ سر کرنے کے منصوبے بننے لگیں گے۔ ان میں ایسے بھی تھے جنہوں نے مارکیز کی لکھی گئی ”وبا کے دنوں میں محبت“ پڑھنا شروع کر دی تھی۔
ایسے میں اگر کوئی کاروبار چل رہا تھا تو وہ ٹیلیویژن پر لمحہ بہ لمحہ آنے والی اطلاعات کا تھا۔ دلائل سے پہلے فیصلے سننے سنانے کے عادی لوگ بھلا کیونکر فارغ رہ سکتے تھے لہذا بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھانے کی فکر کرنے کی بجائے پہلے آگ لگانے کے ملزمان کی تلاش ہونے لگی۔ حاجی صاحب کے نزدیک یہ سارا مسئلہ زائرین کی شرارت تھی۔ شاہ صاحب تبلیغ پہ نکلے ہوئے مسافروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے۔ پھر پتہ چلا کہ ایک علاقے میں کچھ لوگ جو عمرہ کر کے لوٹے تھے انہوں نے بھی مبارکباد کے لیے آنے والوں کو تبرکات کے ساتھ کچھ جرثومے دے دیے تھے۔ کچھ کے خیال میں پچھلی حکومت بری تھی اور کچھ کے نزدیک موجودہ۔ تو تو میں میں کا یہ شور جب حد سے بڑھ گیا تو میں نے یہ سوچ کے ٹی وی بند کر دیا کہ شکر ہے اس لا علاج قومی مرض کا علاج تو ایک بٹن دبانے سے ہو گیا۔
قید تنہائی کو تین ہفتے بیت چکے تھے اور اب وبا کے سست رو رقص میں تیزی آ رہی تھی۔ موت کا ناچ شروع ہو چکا تھا۔ دور نزدیک سے اموات کی خبریں آ رہی تھیں لیکن اس شہر میں ابھی سکوت طاری تھا۔ ٹائم بم کی ٹک ٹک چل رہی تھی۔ انتظار انتظار۔ بیزاری۔ وحشت۔ اور خوف۔
اس صدی کے لوگ قلعہ بند جنگوں کے عادی نہ تھے۔ خبروں اور افواہوں کی بھرمار سے گھروں میں بیٹھے لوگ دہشت کا شکار ہونے لگے تھے۔ فلمیں اور ڈرامے ختم ہو گئے تھے، تمام دستیاب کتابیں پڑھ لی گئی تھیں، حجام کی دکانیں بند ہونے کے باعث لوگوں کے چہروں سے وحشت ٹپکنے لگی تھی۔ اس شہر کے لوگ تو محض اس گھنٹہ بھر انتظار کے عادی تھے جو رمضاں المبارک میں نماز عصر اور افطار کے درمیان کیا جاتا ہے۔ بحری جہاز میں سفر کرنے والے لوگ جانتے تھے کہ بے سمت اور بلا وقت انتظار کس بلا کا نام ہے یا پھر مورچوں میں چھپ کر دشمن کی فوج کا انتظار کرنے والے سپاہی اس راز سے واقف ہوتے تھے مگر اب نہ ایسی جنگیں ہوتی ہیں اور نہ ایسے سفر تو پھر بتاتا کون۔
ایک دن بیزاری حد سے بڑھ گئی تو انا کا خون کر کے اسے فون کر لیا۔ وبا کے دنوں میں بھی ایک مغرور آواز نے سوالیہ انداز میں کہا، ”ہیلو“۔
میں نے پوچھا کہ اگر دنیا واقعی ختم ہو رہی ہے تو ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے؟
کہنے لگی اس وقت تمہارے شہر کی ہوا کا کوالٹی انڈیکس 16 ہے۔ اتنی صاف ہوا کے لیے تم پہلے ہزاروں روپے خرچ کر کے شمال میں جایا کرتے تھے۔
میں نے کہا اس تھوڑے سے وقت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
کہنے لگی سنا ہے دریاؤں میں مچھلیاں اور شہروں میں سبزہ ہی سبزہ ہو گیا ہے۔
میں نے کہا سفر سے پہلے تو لوگ اپنے پیاروں کے پاس جاتے ہیں، کہی سنی معاف کراتے ہیں۔
پوچھنے لگی کہ اور کیا کرتے ہیں۔
میں نے کہا مجھے لگتا ہے کہ وقت کم رہ جائے تو کچھ لوگ دعا و مناجات کرتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور کچھ لوگ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بیتے خوبصورت وقتوں کو یاد کرتے ہیں، گیلی گیلی آنکھوں سے تیز تیز ہنستے ہیں، جلدی جلدی بات پوری کرتے ہیں کہ کہیں رقص تھم نہ جائے۔
وہ ہنس کر بولی تو میں کس گروہ میں شامل ہوں۔
میں نے کہا مجھے لگتا ہے کہ تم چھت پر اکیلی کھڑی ہو کر سگریٹ سلگاؤ گی اور چپکے چپکے آنسو بہاتے ہوئے افق پر کسی دھماکے کی آواز کا انتظار کرو گی۔
اس نے سگریٹ سلگایا اور ہنس کر بولی صبح اٹھ کر آسمان کو دیکھنا۔ سمندری پانیوں کا نیلا رنگ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور بس یہ یاد رکھنا کہ کبھی کبھی بگڑی ہوئی وباؤں کا علاج کرنے کے لیے بھی وبائیں بھیجی جاتی ہیں۔


