کرونا اور میمز بنانے والی قوم


کچھ ہفتے پہلے سوشل میڈیا پہ ایک پشتو ویڈیو بہت مشہور ہوئی تھی جس میں ایک بندہ دوسرے کو فون کرکے کچھ پیسے قرض مانگ رہا ہے اور دوسرا بندہ اُس کو کہتا ہے کہ اواز سنائی نہیں دے رہی جب بار بار کہنے پہ بھی دوسرے بندے کو سنائی نہیں دیتا تو یہ بندہ اپنے دوست کو مشورہ دیتا ہے کہ شاید سگنلز کا مسلئہ ہے تم کمرے سے باہر نکلو تاکہ میری اواز سنائی دے جس پہ دوسرا بندہ کہتا ہے کہ جو بات تم کر رہے اس کے لئے میں اسمان تک بھی پہنچوں تو وہ بات مجھے سنائی نہیں دینی اور تمہاری اواز پخ پخے پخ پخے ہوگی یعنی سمجھ کچھُ نہیں انا۔

کرونا کے خلاف ہم وطنوں کا رویہ دیکھتا ہو تو وہ ویڈیو یاد اجاتی ہے۔ کرونا اب کوئی پراسرار بیماری نہ رہی پینڈیمک کی تعریف ہی یہی ہے کہ یہ ہر جگہ ہر ملک تک پھیل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے ہر بچے بڑے بوڑھے کو کرونا کے علامات اس سے پچاؤ کے احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کے فوائد قرنطینہ کے اصول اور فوائد کا پتہ ہے لیکن اگر ہم ان اصولوں پہ عمل کرنے لگے تو کرونا کا مذاق کون اُڑائے گا۔ پوری دنیا میں کرونا کی وبا پھیلی اور ہم نے اس کی تباہکاریاں دیکھی لیکن بحیثیت ایک میمرز نیشن ہم مذاق اُڑاتے رہے میمز بناتے رہے۔

ڈر اور درد دو ایسے ناخوشگوار چیزیں ہے جو زندہ رہنے کے لئے نہایت ہی ضروری ہیں 26 فروری کو کراچی سے پاکستان کا پہلا کرونا کیس رپورٹ ہوا اور عوام تھوڑے گھبرا گئے تو وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرکے گھبرانا نہیں کا مشورہ دیا۔ اُن کی تقریر تو ساری ہی اہم تھی لیکن جو دو باتیں بحیثیت شغلیہ پاکستانی کے میرے لئے اہم تھی وہ ایک یہ کہ کرونا کے 100 مریضوں میں ایک سے ڈیڑھ مریض مرجاتا ہے دوسرا یہ کہ یہ بیماری نوجوانوں کے لئے بالکل بھی خطرناک نہیں۔

اب بندہ یہ پوچھے کہ ڈیڑھ میں سے جو آدھا بندہ مر رہا وہ سر کے سائیڈ سے مرے گا یا پاؤں والی سائڈ سے؟ دونوں ہی نکات سائنسی اعتبار سے حقیقت کے برعکس تھے لیکن ہمارا سائنس سے کیا لینا دینا۔ لاکڈاؤن کے معاملے میں بھی حکومت کنفیوز نظر ائی اور اج تک کنفیوز ہے ایک دن شدید سختی دو دوسرے دن مکمل نرمی۔ اس روئیے کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں کو کرونا مذاق لگنے لگا اور وائرس کی ہئیت کا تبدیل ہونا پاکستانیوں کی قوت مدافعت، گرمیوں میں کرونا کا ختم ہونا، ڈالرز کا گیم سمیت کئی نظرئے پاکستانیوں کے زیر بحث رہے۔

گرمیاں شروع ہوتے ہی وائرس کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا اور پاکستان کریٹکل فیز کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او جسے ٹرمپ مسلمان ادارہ سمجھتا ہے اور ہم کافر اس کے مطابق پاکستان میں کرونا کے کیسز مئی کے اواخر اور جون کے پہلے دنوں میں عروج پہ پہنچیں گے جس کے بعد پاکستان میں کرونا سے اموات اُسی مہینے زیادہ ہوں گے۔ اندازوں کے مطابق اگر لاک ڈاؤن میں سختی نہیں کی گئی اور سماجی رابطہ محدود نہ رکھا گیا تو پاکستان میں کرونا لاکھوں لوگوں تک پھیل جائے گا۔

کیا ہمارے پاس ان لوگوں کو ہسپتالوں میں رکھنے کی گنجائش ہے؟ پہلے سے کسی بیماری کی صورت میں کرونا کی بیماری زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے کیا ہماری قوم کی صحت ہمیں کرونا کا مذاق اُڑانے کی اجازت دیتی ہے؟ وہ قوم جس کی مجموعی ابادی کے 18 % لوگ ہائپر ٹینشن یعنی ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہو جس قوم کی 17 % ابادی ذیابیطس یا شوگر کے مرض میں مبتلا ہو جہاں سالانہ ٹی بی کے 510000 نئے کیسز اتے ہو جہاں کی 11 % ابادی پھیپڑوں کے مختلف بیماریوں کا شکار ہو۔

جو ملک کالے یرقان میں مصر کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پہ ہو جس ملک کے دوسرے بڑے صوبے میں ہر پانچ میں سے دو اموات کالے یرقان کی وجہ سے ہو اُس قوم کو کرونا پہ میمز بنانے چاہیے؟ ہمیں کرونا کا مذاق اُڑانا ہے یا کرونا نے ہمارا اس کا جواب اگلے دو ماہ میں مل جائے گا۔ ویسے بھی اسلاماباد راولپنڈی میں ڈینگی کی خبروں کے بعد کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

بس میمز بناتے رہئے گھومنے پھرنے نکلا کرے بازاروں میں جائے جہاں رش نظر ائے وہاں کھس جایا کرے ویسے بھی کرونا مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

Facebook Comments HS