تھدڑی کا تہوار: کورونا وبا میں خان صاحب اور شاہ صاحب کے نام کے ڈنکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوہستان سمیت پوری دنیا کے ہندو بھائی بہنوں کو میری طرف سے تھدڑی تہوار کی ڈھیروں مبارکباد۔ اس دن ہم لوگ روایتی کھانوں سے تھوڑا ہٹ کر خصوصی طور پر میٹھے پکوانوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ تھدڑی کے دن خاص طور پر میٹھی روٹی ہم اپنے دوستوں یاروں اور محلے داروں کے ساتھ مل کر کھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر دوست محلے دار پوچھتے پھرتے ہیں کہ بھائی تھدڑی کا تہوار کب آئے گا، یار تھدڑی کی میٹھی روٹی کھانی ہے۔

تھدڑی کے دن کا آغاز پوجا پاٹ، وطن اور خاندان کی خوشحالی کے لیے دعاؤں سے ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ بہنیں بھائیوں کی لمبی عمر کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی لوگ تھدڑی کے تہوار کو مناتے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنی روایتوں، تہذیب و تمدن کو بھول جاتے ہیں ان کے نقوش جلد ہی مٹ جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے تھدڑی کا وہ روایتی جوش و جذبہ کم نظر آیا مگر ٹیکنالوجی کے اس دور میں کورونا وائرس کی اپ ڈیٹ کے ساتھ ساتھ تھدڑی کی نیک تمنائیں بھی ایک دوسرے تک پہنچائیں۔

کورونا وائرس کی اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ لاک ڈاؤن نے یہ طے کر دیا ہے کہ ہمیں مظلوم کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے بجائے خطے میں بہتر نظام صحت، نظام تعلیم اور غربت کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا بجائے اس کے کہ جنگی جنوں کو پروان چڑھایا جائے بقول چینی وزیر خارجہ کے، امریکا کا اصل دشمن چین نہیں بلکہ کورونا وائرس ہے۔

کورونا وائرس نے ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی لائین میں کھڑا کر دیا ہے مگر ابھی بھی ہمارے ملک میں کون بڑا لیڈر ہے؟ کی سرد جنگ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان جاری ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا حال بھی روایتی دکانداروں جیسا ہے کہ اللہ سائیں ایسی بارش برسا کہ ساری فصلیں تباہ ہو جائیں تاکہ ذخیرہ شدہ مال سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سمیت جی 20 کے ممالک کی طرف سے امداد اور قرضوں پر سہولیات پر بھی پاکستان تحریک انصاف والے جھومتے نظر آئے کہ ان کے کپتان عمران خان کی اپیل پر پوری دنیا کو امداد ملی۔

وزیر اعظم عمران خان کے بیانات کو سن کر تو ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن ہو یا نہ ہو، لوگ مریں یا جیئں بس ان کو اگر فکر لاحق ہے تو بس تعمیراتی سیکٹر کی یہی وجہ ہے کہ خصوصی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خان صاحب کو زیادہ فکر اپنے مالی سہولت کاروں کی ہے یا پھر شاہراہ دستور پر قائم غیر قانونی ٹوئن ٹاور کی جس میں اربوں روپوں کی مالیت کے ان کے دو فلیٹس ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مشرف رنگ زیادہ اور انصاف کا رنگ کم نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے بانی نمائندوں سمیت پورے ملک سے تعلق رکھنے والے ممبرز استعفیٰ پر استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان سیاسی اور معاشی بحرانوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت چلانا عمران خان کے بس کی بات نہیں۔ جہاں تک تعلق ہے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا، تو ان کے لاک ڈاؤن کی پالیسی کو تو پورے ملک میں سراہا گیا مگر غریبوں کی دیکھ بھال والا طریقہ کار کارآمد ثابت نہ ہو سکا۔

ماضی کے سیلابوں کی طرح لوٹ مار کرپشن اور جیالا نوازی زیادہ دیکھنے میں آئی۔ سندھ حکومت کی راشن کی تقسیم ہو یا احساس پروگرام ہندو، سکھ اور عیسائی اقلیتوں کو مکمل طور نظر انداز کیا گیا اور اقلیتی وزیر بھی قرنطینہ میں نظر آئے۔ پاکستان تحریک انصاف، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چار مہینوں کی جمع شدہ رقوم کو احساس پروگرام کا نام دے کر لوگوں کی قطاریں بنوا کر انہیں مزید احساس محرومی اور کورونا کا شکار کروا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابقہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی یہ ڈیجیٹل ڈیٹا اکٹھا کیا تھا اور معاوضہ 1500 سے بڑھا کر 3000 روپے کیا تھا مگر وفاقی اور سندھ حکومت دونوں ہی اپنا اپنا کریڈٹ لینے کے چکر میں ہے۔ مگر اصل میں جن کو کریڈٹ ملنا چاہیے وہ تو پردہ اسکرین سے ہی غائب نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر خان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن دونوں ہی اپنی مدد آپ کے تحت کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے میں مصروف عمل ہیں مگر مین اسٹریم میڈیا عمران خان اور مراد علی شاہ کے نام کے ڈنکے بجا رہے ہیں۔

مجھ جیسے ایک عام آدمی کو بھی اقتدار کے ایوانوں میں لانے کا سہرا میاں نواز شریف کو جاتا ہے جن کی بدولت میں آج بلاول بھٹو زرداری، سید خورشید شاہ، سردار اختر مینگل، میاں شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، شاہ محمود قریشی اور عمران خان جیسی مشہور و معروف شخصیات کے ساتھ ہوں حالانکہ عمران خان صاحب تو اپنی پارٹی کے قریبی ایم این ایز کو بھی گھاس ڈالنا بھی پسند نہیں کرتے۔

موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں، بحران پر بحران، پارٹی میں شامل ان کے وزراء، مشیروں اور ان کے سہولت کاروں کی کارکردگی سے عوام اس تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ اگر زیادہ دورانیے کے لیے ان کی حکومت رہی تو پھر شاید یہ پورا ملک ٹھیکے پر دے کر خود کہیں رفو چکر نہ ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کھیئل داس کوہستانی، ممبر قومی اسمبلی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply