صدر عارف علوی کے الفاظ کے استعمال پر سوشل میڈیا پر بحث: ’کوئی صدر اس قسم کی زبان کیسے استعمال کرسکتا ہے؟‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر

Getty Images

سوشل میڈیا پر ویسے تو ہونے والے بحث مباحثے تیزی سے اپنا رخ بدلتے رہتے ہیں لیکن کبھی کبھی کچھ ایسے واقعات اور بیانات سامنے آتے ہیں جو ان گنت تبصروں کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔

ایسا ہی ہوا پاکستان کے صدر عارف علوی کے ساتھ بھی جب منگل کو انھوں نے ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا جس میں ان کے کہے گئے الفاظ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے۔

اپنے اس انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کورونا کی وبا کے دوران مساجد میں باجماعت نماز اور تراویح کی ادائیگی کے حوالے سے علما سے کیے گئے اپنے معاہدے کا دفاع تو کیا ہی مگر توانائی کے شعبے کے متعلق رپورٹ پر ان کی رائے اور اس کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ پر زیادہ بحث ہو رہی ہے۔

صدر عارف علوی نے میزبان حامد میر کے ایک سوال کے جواب میں توانائی کے شعبے کی انکوائری رپورٹ سے متعلق کہا کہ ‘قوم کے ساتھ ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ ہوا ہے۔’

پاکستان پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی پلوشہ خان نے ان الفاظ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اتنے بڑے اور پر وقار عہدے کے لیے اتنی چھوٹی ذہنیت کا آدمی؟ پاکستان کے بارے میں ان الفاظ پر صدر علوی کا مواخذہ ہونا چاہیے۔’

 

صدر عارف علوی کی جانب سے انکوائری رپورٹ کے معاملے پر ‘ریپ’ اور ‘گینگ ریپ’ جیسے الفاظ کا استعمال کرنے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی محمل سرفراز کہتی ہیں کہ یہ پاکستان بلکہ جنوبی ایشا میں بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ریپ کے لفظ کا استعمال بہت عام ہے۔

‘بات چاہے کرکٹ کی ہار جیت کی ہو لوگ ریپ، زیادتی اور ہندی کے لفظ بلتکار کا بے جا استمعال کرتے نظر آتے ہیں۔’

محمل سرفراز نے کہا کہ ‘اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارا خطہ اب بھی ریپ جیسے معاملے کی سنجیدگی کو نہیں سمجھ سکا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ اس تکلیف سے گزرنے والے کس ذہنی دھچکے کا شکار ہوتے ہیں۔’

محمل سرفراز نے کہا کہ ڈاکڑ عارف علوی جیسے پڑھے لکھے، سمجھ دار اور حساس انسان سے ایسی بات کی توقع نہیں کی جاتی کہ وہ ایسے الفاظ استعمال کریں۔

‘ کرپشن کو ریپ اور گینگ ریپ سے تشبیہ دینا، ریپ سروائورز کے ساتھ نامناسب ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیاں پہلے ہی مشکل ہیں، ایسی باتیں کر کے اسے اور مشکل نہیں بنانا چاہیے۔’

 

ٹوئٹر پر بھی صدر عارف علوی کے بیان پر تنقید جاری رہی۔ صارف آمنہ عدنان لکھتی ہیں کہ ‘الفاظ کا چناؤ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب آپ ریاست کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔’

ڈاکڑ عارف علوی کی بیان پر صارف شہزاد خان نے اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘کوئی صدر اس قسم کی زبان کیسے استعمال کرسکتا ہے؟ پہلے انصافیئنز خاتون اول کے انٹرویو سے ڈرتے تھے اور اب صدر صاحب بھی ایک نیا بوجھ اور سنجیدہ سوالوں کا غیر سنجیدہ جواب دینے والے بن گئے ہیں۔’

ایک یوزر نے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہویے لکھا ہے کہ ‘صدر پاکستان نے کتنا بہیودہ بیان دیا ہے، یہ ہیں ہمارے پڑھے لکھے حکمران۔’

کچھ لوگوں نے صدر پاکستان کے الفاظ کو خواتین کے خلاف اور تنگ نظر سوچ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر ہما سیف نے صدر پاکستان کے جملے پر تبصرہ کیا کہ ‘صدر پاکستان کے کمنٹس پاور سیکٹر رپورٹ پر، اب پروگریسو، موڈریٹ انصافی سب اس کا بھی دفاع کریں گے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15979 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp