ڈاکٹر ہیروز سڑکوں پر مگر کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوروپی ممالک سے لے کر امریکہ تک، کنییڈا سے لے کر کوریا تک، جاپان حتیٰ کہ تائیوان اور چین، پورب سے پچھم تک سب یعنی سیکورٹی اہلکار، حکومتی نمائندے، سول سوسائیٹی کے لوگ لحظہ بہ لحظہ ڈاکٹروں کو سلامی کے ساتھ ساتھ اُن کو حفاظتی سامان، ٹیسٹینگ کٹس، ماسک ودیگر پروٹیکٹیو گیرز کے انصرام میں لگے ہوئے تاکہ ہیروز کو کسی چیز کی قلت یا کام کرنے میں دقت نہ ہو۔ ہمارے ہاں حکومتی نمائندے سر کو جنبش دینے کے بجائے ہیروز کو کوڑوں کی نذر کرنے لگے۔

کوئٹہ کے ڈاکٹرز کورونا جیسی آفت کے ہائی لائیٹ ہوتے ہی پروٹیکٹیو گیرز کی طلب کرنے لگے تاکہ وبا سے نمٹنے میں دشواری نہ ہو۔ اِس ڈاکٹروں کے جائز المقام مطالبات کو شنوائی دینے کے بجائے صوبائی حکومت مخالفت کا کام سراَنجام دینے لگی۔ حجت لا طائل تو ٹویٹر پر ہر فرد نے دیکھ لیا چونکہ حجت محکم نہ تھا۔ ہمیں جون ڈیون کی کتاب ”جمہوریت اور تعلیم“ پڑھنے پر افسوس اس لئے ہوا کہ یہاں تو معاملہ ہی اُن کے تعلیمات کے برعکس ہے۔

وزیر اعلیٰ اپوزیشن کا کردار بنھا رہے ہیں، صوبائی وزراء تو تعطیلات پر آئے سٹوڈنٹس کی طرح ہیں، منصب پر تفاخر کرتے ہوئے شاد مانی و فرحت سے دن گزارتے ہیں۔ ہیروز سڑکوں پر مطالبات دوہرا رہے ہیں، پولیس کی لاٹھی اور گرفتاری بھی دے چکے تھے۔ چیرٹی بکس شہر بھر کے ڈاکٹر وں کے پاس لے جاتے ہوئے دکھائی دیے ہیں تاکہ پیسے اکٹھا کر سکیں۔ اِس نے تو تیس لاکھ روپے جمع کر گئے۔ عوام کی خاطر کچھ بنیادی ایکویپمنٹس کا بندوبست بھی ہوگیا ہوگا لیکن صوبائی حکومت کی نالائقی اور ناشائستگی کیا کی جائے؟

ایک طرف سیسٹمیٹک اور اسٹرٹیجک بنیادوں پر صوبے کو غربت اور جہالت میں دھکیلا گیا، وسائل کے لوٹ مار ہوتی رہی۔ انفراسٹرکچر پر سخت ترین خارجی و داخلی پالیسیوں کی دباوُ ہے۔ تعلیمی اِدارے اور صحت کے مراکز عالمی معیار کے برابر تو ایک نہیں، دوسری طرف، انہیں تعلیمی مراکز میں برین واشنگ کے ساتھ ساتھ نظریات کو ٹھونسا جارہا ہے۔ اسٹیشنری لائبریری کی ”اَن لائن“ سٹرکچر کی فی الوقت کوئی منصوبہ ہے نہ مستقبل میں متوقع ہے۔

ذہنی و نفسیاتی مراکز کا تو کوئی خدوخال نہیں۔ اکیسوی صدی کے چیلنجوں سے نمٹنا آسان نہیں، اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ کی نایابی ہے، ایک متحرک اور فعال سماج کے لئے عالم آشنائی واجبی تدبیروں میں سے ایک ہے۔ صوبے کی ترقی کا جو خواب ہمیں ن لیگیوں نے سنایا تھا وہ خود فصل گندم کی طرح خشک مٹی میں پاش پاش ہے، سب کا بیانہ خاک کی نذر ہوا۔ اُن کے سابقہ وزیر پٹرولیم اور معدنیات اَب کے ہمارے صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں مگر نظریات اور وفاداری اَب کی بار کسی اور کی کٹھالی میں ڈال چکے ہے۔ پیپلز پارٹی ایک بار پھر شناخت اور خود داری کا باب کھو چکی ہے لیکن موجودہ حکمران جماعت کے مقابلے میں پھر بھی اُن جماعتوں کو پذیرائی حاصل ہے اگرچہ سیاہ باب کو معدوم کرنے میں لگے ہیں۔

ملکی معاش کے اِس کٹھن سمے میں اور پھر معاشی طور کمزور صوبے میں کورونا کی آفت آن پہنچی۔ دنیا کے معاشی ماہرین دیوالیہ پن پر گفت و شنید فرمارہے ہیں۔ حصص کی قدر مدنظر رکھتے ہوئے سٹاک مارکیٹ پر نظریں  دوڑا رہے ہیں۔ سائنسی طبقے نے ویکسین کے انصرام پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ یک لخت آنے والے وائرس نے ہر فرد پر سکتہ طاری کردیا ہے۔ معاشی لحاظ سے چھوٹے صوبوں کے عوام پر یہ وبا اور پرُ تکلف رہیگا۔ اِس طرح کہیں بنیادی سہولیات کی کمی، کہیں اشیا خورد نوش کی قلت۔

کہیں معاش کے معاملات اور ویسے بھی استحصال زدہ معاشروں میں کنگال عوام کو کون یاد کرتے ہیں۔ ہم نے بالا اخر لفظ استحصال کا ذِکر کر ہی لیا۔ یہاں کارپوریشن والے اَرباب اختیار کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں اور پاور والے دونوں کو مٹھی میں رکھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ کارپوریشن سینٹرز کو اپنامستقبل سمجھتے ہیں جس میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔

تو چلیں موضوع خاص کی طرف، غریب امیر سب گھروں میں حصار ہے لیکن المناک صورتحال یہ ہے کہ غریب گھرانے اپنی ضروری اَشیا کہاں سے لائیں؟ کیسے لائیں؟ وہ تو روزانہ جو کماتے ہیں وہی نان نفقہ کے کام آتی ہے اَب چونکہ لاک ڈاون ہے پیسے نہیں ہے اشیاء صرف نہیں، مکان کا کرایہ نہیں، بجلی، گیس، پانی بل کی آدائیگی ممکن کیسے ہوگی؟ فوٹو سیشن کی غرض سے جو ضروری اشیاء کی ترسیل کی جاری ہیں وہ بھی فلاپ ہے یعنی وہ مقدار کے لحاظ سے کم اور مخصوص لوگوں کو دی جارہی ہے۔

دور دراز بستیوں میں جاگزیں غرباء کے جینے مرنے کی پوچھ گچھ کون کرے گا؟ میزان چوک یا کوئٹہ کے دوسرے کاروباری مراکز پر جو ڈیلی ویجرز دن دہاڑی لگانے آتے تھے اَب وہ کہاں جائیں گے؟ فروٹ کارٹ اَپریٹر، رکشہ ڈرائیور کی سرگزشت کون جانیں؟ وائرس نہ پھیلنے کے احتیاطی تدابیر، آئسولیشن، سوشل ڈیسٹنسینگ یا تن دوری، کراوڈ یا پاپولیشن جہاں رسک ہائی ہو، سینٹائزر اور منہ ہاتھ دھونے ودیگر سیفٹی جیسی ترکیبوں کے لئے کوئی مخصوص باڈی ہی نہیں۔ ٹائیگر فورس یا احساس پروگرام صوبے بھر میں اِن کے امدادی سرگرمیاں اور ترسیل کیسی ہوں گی۔ انٹرنیٹ سے نابلد لوگ کیس اَکسیس کر پائیں گے؟ ٹیکس کے پیسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہونے کا سوال ہم نہیں کریں نہ ہی موجودہ حکومت کی ماضی کی تقاریر یاد دلائیں گے۔

الغرض اگر ڈاکٹروں کے مطالبات پر من و عن عمل کیا ہوتا تو چھڑخانی کی نوبت نہ پڑتی اور نہ شش و پنج میں مبتلا ہوتے۔ لہذا یہ صوبے کے ہر شہری کا حق ہے کہ حکومت پر تنقید کرے اور راتوں رات سرگرمیوں پر سوالات اُٹھائے لیکن صوبائی حکومت ٹویٹر پر جس طرح ڈاکٹروں کے احتجاج کسی اور طرف کھینچ رہی ہے یہ محض دفاعی حربے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply