قانون قدرت اور توکل کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مضمون کا مقصد آج کل کے حالات میں سامنے لائے جانے والے چند مغالطوں اور ان مغالطوں کو مذہب کے جامے میں مذہب کا حصہ دکھانا اور تمام معاشرے کو خطرے میں ڈالنے والے اس خطرناک بیانیے کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہے۔ چونکہ مقابل پر مذہبی بیانیہ ہے۔ اس لئے جواب بھی مناسب ہے کہ مذہبی بیانیے سے ہی دیا جائے۔

مذہب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ یہ اسی خدا کی وحی اور الہام ہے جس نے یہ کل کائنات پیدا کی ہے۔ جس نے زمین، سورج، چاند ستارے اور کہکشائیں بنائی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی کائنات ہے جس میں ہماری حیثیت بظاہر ایک ذرے جیسے بھی نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کے باوجود سب کائنات ایک ہی طرح کے قوانین قدرت کے تحت چل رہی ہے۔ ان قوانین کے مطالعے کو انسان نے سائنس کا نام دیا ہے۔ گویا مذہب کی رو سے سائنس دراصل اسی خالق کائنات کا فعل ہے جس کا کلام مذہب ہے۔ اس اصول کی رو سے دونوں میں ہم آہنگی پائی جانی ہی دراصل مذہب کا اصل بیانیہ ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں آج کل جو مذہب کے نام پر ہورہا ہے وہ اس بیانیے کے متضاد نظر آتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں مذہبی طبقات اور ان طبقات کے زیر اثر عوام کی ایک بڑی اکثریت اس خیال پر سر دھنتی نظر آتی ہے کہ وہ طبی احتیاطوں کے برعکس، محض اپنے ایمان کی مضبوطی اور خدا پر توکل رکھتے ہوئے کرونا وائرس کے اس پل صراط پر سے کامیابی سے گزر سکتے ہیں۔ ایک طرف تو ریاست اور طبیب اس امر کی دھائی دیتے نظر آتے ہیں کہ معاشرتی اجتماع خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس وقت اس بیماری کے پھیلنے کا باعث ہوسکتا ہے۔ مگر مذہبی طبقات ریاست کو بلیک میل کرکے اپنی مساجد کھلوا رہے ہیں۔ اور اجتماعی عبادات پر زور دے رہے ہیں۔ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اس موضوع کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف مذہبی بیانیے کی حد تک مضمون محدود رکھنا مطلوب ہے۔

توکل کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ ایسے امور ہیں جو قوانین قدرت سے بالا یا ماوریٰ ہیں؟ یا یہ عین قوانین قدرت کے ماتحت ہیں؟ آئیے چند مثالوں پر غور کریں۔ توکل کا اصطلاحی معنی ہے کہ ہر کام میں خدا کی ذات پر بھروسا کرنا۔ مگر اس بھروسے کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ کہ خود کچھ نہ کرو اور سب کچھ خدا پر ہی ڈال دو؟ ایک حدیث میں جب ایک صحابی نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھ کر توکل کروں یا گھٹنا کھول کر توکل کروں؟

سوال سیدھا سا تھا کہ کیا توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا ہے؟ یا رعایت اسباب یعنی اسباب دنیا کو استعمال کرکے پھر خدا پر معاملہ چھوڑنا اصل توکل ہے؟ دربار نبویﷺ سے جواب عطا ہوتا ہے کہ اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر توکل کرو۔ یعنی دنیاوی اسباب پورے کرو اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑو۔ گویا توکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا اور سب کچھ خدا پر چھوڑنے کا نام نہیں ہے۔ ایسے ہی ایک قصہ یاد آگیا کہ ہمارے آج کل کے مذہبی طبقات کی سوچ سوچتے ہوئے ایک ولی اللہ بزرگ نے فیصلہ کیا کہ جب رزق دینے کا خدا نے وعدہ کیا ہے تو اس کے لئے دوڑ دھوپ کیوں کی جائے۔

خدا پر توکل کا سوچ کر وہ گوشہ تنہائی میں بیٹھ گیا۔ مگر غیب سے کوئی رزق آنا تھا نہ آیا۔ خدا نے اس طرح سمجھایا کہ بزرگ نے ایک لاغر اور بے بال و پر کوا دیکھا جو اڑنے کے قابل نہیں تھا۔ ایک باز آیا اور اس نے اپنا پس خوردہ چھوڑا جو اس کوے کا رزق بنا۔ تب اس ولی اللہ کو سمجھایا گیا کہ تم نے رزق لینے کے لئے یہ کوا بننا ہے یا وہ باز خود شکار کرتا ہے اور دوسروں کے رزق کا باعث بھی بنتا ہے۔ لہٰذا ہماری قوم کی ایک اکثریت جو مذہب کے نام کی افیم کھا کر کچھ نہ کرنے کو خدا پر توکل سمجھ رہی ہے مذہب اسے توکل قرار نہیں دیتا۔

بلکہ قوانین قدرت کے مطابق ہر طرح کے وسائل بروئے کار لانا اپنی کوشش کو آخری حد تک پہنچانا اور پھر نتائج کو خدا کے حوالے کردینا ہی اصل توکل ہے۔ کیونکہ انسان کی کوشش بہرحال حتمی نہیں ہوسکتی اور محدود ہی ہے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ جب ابتداء میں کفار مکہ نے مسلمانوں پر حملے کیے تو خدا نے کیوں لڑائی کے بغیر ہی کفار کو ہلاک نہ کردیا۔ بلکہ آنحضرتﷺ کو بھی خود میدان جنگ میں جاکر اسی طرح لڑنا پڑا جیسے سب انسان لڑتے ہیں۔ صرف دعا سے کیوں جنگیں نہ جیتی جاسکیں؟ بلکہ یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں نے نہائیت حکمت اور حسن تدبیر کو بروئے کار لاتے ہوئے ہیں جنگیں جیتیں۔ حتی ٰ کہ فرض نمازیں بھی عین جنگوں میں قضاء ہوئیں۔

اس وقت بھی ہم کرونا وائرس سے ایک جنگ کی حالت میں ہیں۔ اس جنگ میں صف اول کے مجاہدین ہمارے اطباء اور طبی عملہ ہے۔ اور حکومت جو الوالامر کا درجہ رکھتی ہے اس کی بات ماننا بھی نص قرآنی کے تحت فرض ہے۔ تو پھر کیوں ہمارے نام نہاد مذہبی راہنما ہمیں اس معاملے میں طبی تدابیر سے دور کرتے نظر آتے ہیں؟ اگر توکل کے مذہبی فلسفے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسباب دنیا سے پہلو تہی کرنا توکل نہیں بلکہ خدا کے بنائے ہوئے قوانین سے بغاوت اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

نص ہے کہ انسان کے لئے وہی مقدر ہے جس کی اس نے کوشش کی (النجم) ۔ پھر ہماری قوم کیوں یہ خیال کیے بیٹھی ہے کہ خدا کی طرف سے جو بیماری آئی ہے وہ خدا کے ہی بنائے ہوئے قوانین قدرت کے برخلاف چل کر اس سے بچا جاسکتا ہے؟ کیا اس سوچ کے پیچھے وہی نکما پن کارفرما نہیں جو ایک شکست خوردہ ذہنیت رکھنے والے انسان میں کچھ نہ کرنے کا عذر تراشنے کے لئے پیدا ہوتی ہے؟ یہ بیماری بلاشبہ ایک آزمائش ہے۔ اور اس میں وہی کامیاب ہوسکتے ہیں جو بیماری کے خلاف لڑنے کے لئے انہیں ہتھیاروں سے جہاد کرے جو کوئی بھی لڑائی لڑنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

اور ایمان کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ کہ ہمارا ایمان مضبوط ہے ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ خدا کے نبیوں کو بھی میدان جنگ میں جاکر لڑنا پڑا ہے۔ وگرنہ خدشہ ہے کہ ہماری قوم کا حال بھی ان مسلمانوں والا نہ ہوجائے جو اسی قسم کی ایمان کی مضبوطی اور توکل کو لئے ہلاکو خان کے ہاتھوں نشان عبرت بن گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *