بھارت کے مسلمان ملیچھ اور پاکستان کے ہندو شودر: ذمہ دار کون؟

دنیا میں کہیں بھی کسی بھی انسان کے بنیادی حقوق پامال ہوں تو پوری دنیا کو تشویش ہونی چاہیے۔ کچھ سالوں سے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے قوانین بن رہے ہیں جن میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیا جا ئے گا۔ کچھ روز قبل میرے محترم خورشید ندیم صاحب کا ایک کالم ”کیا بھارت کا مسلمان تاریخ کو تقسیم کر سکے گا؟“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے بجا طور پر اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ 1947 سے بھارت کا مسلمان آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔
2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات نے وہاں کے مسلمانوں کی نفسیات پر یہ خوف نقش کر دیا ہے کہ ہندوستان میں کسی وقت بھی ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اور تو اور اس موضوع پر فلمیں بھی بننی شروع ہو گئی ہیں کہ اگر مسلمان اگر اپنی بقا چاہتے ہیں تو انہیں بھارتی سماج میں رچ بس جانا چاہیے ورنہ اکثریت کا جبر انہیں مٹا دے گا۔ تنگ نظری کا یہ زہر ملک میں کہیں بھی پیدا ہو رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ اور جس طرح کورونا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہ وبا بھی ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ جیسا کہ اب یورپ کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات ایک ملک سے دوسرے ملک میں سرایت کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو ضرور اس رو کی مذمت کرنی چاہیے لیکن کسی اور کی مذمت کرنا آسان کام ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں بیدار مغزی کے ساتھ اپنی تاریخ کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
1953 میں احمدیوں کے خلاف ایک تحریک چلی۔ 6 مارچ کو حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ اس کالم میں اس تحریک پر تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ ان فسادات پر ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی گئی۔ اس تحقیقاتی عدالت میں مختلف مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کو بھی بطور گواہ بلایا گیا۔ اور یہ سوال کیا گیا کہ اگر آپ پاکستان میں ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے تو اس میں غیر مسلموں کو کیا حقوق حاصل ہوں گے؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ اس سوال کے کیا جوابات دیے گئے تھے؟
3 ستمبر 1953 کو صدر جمیعت العماء پاکستان ابو الحسنات مولانا سید محمد احمد قادری صاحب نے گواہی دی۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا اگر ہم پاکستان میں ایک اسلامی مملکت قائم کردیں تو اس میں غیر مسلموں کو کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ قانون سازی میں حصہ لیں اور نہ ہی قانون نافذ کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہو گا۔ اس پر جج صاحبان نے سوال کیا کہ اگر بھارت میں ہندو ہندو راج قائم کریں اور وہاں مسلمانوں سے شودروں جیسا سلوک کریں تو کیا آپ کو اس پر اعتراض ہوگا۔
اس پر قادری صاحب نے جواب دیا کہ اگر بھارت میں ہندو راج قائم کرکے وہاں مسلمانوں سے شودروں جیسا سلوک کیا جائے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ پھر ان صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو تبلیغ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اگلے گواہ صدر جمیعت العلماء اسلام مولانا سید احمد علی صاحب تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو اسلامی ریاست بنا دیا جائے تو اس میں غیر مسلموں کا قانون سازی یا قانون کے نفاذ میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ البتہ انہوں نے یہ رعایت ضرور کی کہ غیر مسلم سرکاری ملازمت میں کام کر سکتا ہے۔
اس کے بعد جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کی گواہی تھی۔ انہوں نے حلفیہ گواہی دی کہ ایک اسلامی مملکت میں اس کے غیر مسلم شہری حکومت کے کسی کلیدی عہدے پر مقررنہیں ہو سکتے۔ اگر پاکستان کو اسلامی مملکت بنادیا جائے تو میرے نزدیک کسی غیر مسلم کو قانون ساز اسمبلی کا ممبر نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ ریاست کی پالیسی بنانے میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اور نہ ہی غیر مسلم نظام حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
یہ نظریات سن کر جج صاحبان نے سوال کیا کہ اگر ہندو بھارت کو ہندو ریاست بنا دیں اور وہاں کے مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں جیسا سلوک کریں تو کیا آپ کو اس پر اعتراض ہو گا۔ اس پر مودودی صاحب کا دو ٹوک موقف یہ تھا کہ یقنی طور پر مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگاکہ ہندو بھارت میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں جیسا سلوک کریں۔ ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں شہریت کے تمام حقوق اور گورنمنٹ میں حصہ لینے سے محروم کر دیا جائے۔
اس کے بعد گواہ نمبر 17 کی حیثیث سے غازی سراج الدین منیر صاحب پیش ہوئے۔ غازی سراج الدین منیر صاحب نے کہا کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ہندوستان کو ہندو ریاست بنا دیا جائے اور وہاں مسلمانوں کی تبلیغ پر پابندی لگا دی جائے تو انہوں نے کہا کہ وہ وسعت پسند تحریک پر یقین رکھتے ہیں۔ اس صورت میں وہ ہندوستان میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیں گے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ یہ صاحب 1971 سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ ورنہ سقوط ڈھاکہ کے وقت دہلی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیتے۔ بلکہ اندرا گاندھی صاحبہ کو کان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال باہر کرتے۔ پورا بھارت دیکھتا رہ جاتا۔
شیعہ علماء میں سے حافظ کفایت حسین صاحب گواہ نمبر 20 کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلم قانون ساز اسمبلی کا رکن تو بن سکتا ہے لیکن اسے مسلمانوں کے برابر حقوق نہیں دیے جا سکتے۔
مجلس احرار کے قائد عطا ء اللہ شاہ بخاری صاحب نے بھی گواہی دی۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں جیسا سلوک کیا جائے تو کیا آپ کو اعتراض ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں پاکستان میں ہوں میں انہیں مشورہ نہیں دے سکتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان مسلمانوں کے لئے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہندوستان کے وفادار شہری بن سکیں۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ جس گروہ کے متعلق یہ اعلان کیا جائے کہ وہ جس ملک میں رہ رہا ہے وہاں کا وفادار شہری ہی نہیں بن سکتا تو کیا اس کے حقوق محفوظ رہ سکتے ہیں؟
جن گروہوں نے عدالت میں یہ گواہیاں دی تھیں کیا وہ گروہ اب بھارت کی حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کو برابر کے حقوق نہیں دی رہی۔ کیا یہ سنگدلی نہیں تھی کہ پاکستان کے نمایاں مذہبی جماعتوں کے لیڈروں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر بھارت کے مسلمانوں سے شودروں جیسا سلوک کیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اگر پاکستان میں غیر مسلموں کو برابر کے حقوق نہ دیے جائیں حتیٰ کہ انہیں قانون ساز اسمبلی کا ممبر بھی نہ بننے دیا جائے تو کیا اس کے جواب میں بھارت امریکہ اور یورپ کا تنگ نظر طبقہ یہ مطالبہ نہیں کرے گا کہ ان ممالک میں مسلمان قانون ساز اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکتے۔ جب 1953 میں یہ گواہیاں د گئی تھیں تو پاکستان کے کتنے اخباروں نے کتنے لیڈروں نے اور کتنے دانشوروں نے اس پر احتجاج کیا تھا؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم اپنی تاریخ کا نئے سرے سے مطالعہ کر کے دیکھیں کہ ہم سے کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے؟



True and realistic analysis