روبینہ بروہی مر گئی تو کیا ہوا؟ بھٹو زندہ ہے



حیدر آباد کے قریب جھڈو کے نواحی علاقے نبی سر روڑ میں طویل لاک ڈاؤن سے مسلسل بے روزگاری کے باعث غریب مزدور اللہ بخش بروہی کی 45 سالہ اہلیہ، 6 بچوں کی ماں اور 5 ماہ کی حاملہ روبینہ بھوک سے دم توڑ گئی، روبینہ کا شوہر شہر میں مزدوری کرتا ہے، دن بھر کی محنت مزدوری سے وہ روزانہ گھر ایک کلو آٹا لے کر جاتا تھا جو گھر کے 8 افراد کھاتے تھے، کورونا وائرس کے باعث شہر میں جاری طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کو کام نہ ملا اور وہ گھر آٹا نہ لاسکا

مرحومہ کے شوہر اللہ بخش بروہی نے بتایاکہ روبینہ کی موت مبینہ طور پر بھوک اور بدحالی کے باعث ہوئی ہے، گھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا جب سے لاک ڈاؤن ہوا ہے میری دیہاڑی نہیں لگ رہی ہے جس کے باعث گھر ایک کلو آٹا تک نہ لا سکا، میری بیوی پانچ ماہ کی حاملہ تھی رات اس کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور وہ بھوک سے جاں بحق ہوگئی، اہل محلہ نے چندہ جمع کرکے کفن دفن کا انتظام کیا

یہ خبر 20 اپریل بروز پیر اخبارات میں شائع ہوئی، اس دن سے انتہائی افسردہ اور غمگین ہوں کیونکہ اسی روز یہ خبر بھی شائع ہوگئی کہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے جھڈو میں لاک ڈاؤن سے متاترہ 1700 ضرورتمند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا، راشن رات کی تاریکی میں ضرورتمندوں کے گھروں تک پہنچایا گیا پھر اس ”کارنامے“ پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں جماعت کے رہنماؤں نے سٹیج پر بیٹھ کر تقاریر فرمائیں اور تصاویر بنوائیں جو اگلے روز سارے اخبارات میں اہتمام کے ساتھ شائع بھی کرائی گئیں، مقررین کا کہنا تھا کہ 35 لاکھ روپے کا راشن اور دیگر امدادی سامان بلا امتیاز و بلا تخصیص تقسیم کیا گیا ہے

کورونا وائرس ایک قدرتی آفت ہے اس کا الزام کسی تو نہیں دیا جاسکتا ہے سوائے اس کے ہم اپنے رب سے معافی مانگتے ہوئے رحم اور کرم کی دعا کریں مگر ایک اسلامی ملک اور اسلامی معاشرے میں ایک عورت بھوک سے مر جائے، ایسا سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے، کیا مرحومہ کے عزیزواقارب، اہل محلہ کا کوئی فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ اس غریب خاندان کی مشکل وقت میں مدد کرتے، زیادہ نہ سہی جب تک اس کے خاوند کو روزگار نہ ملتا تب تک ایک کلو آٹا ہی اس کے گھر دے دیتے

مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں رات کی تاریکی میں ضرورتمندوں کے گھروں میں راشن پہنچا رہی ہیں تو کیا جھڈو کی روبینہ کا گھر کسی کو نظر نہ آیا، رات کی تاریکی میں اس کا گھر اندھیرے میں کیا ڈوبا کہ روبینہ کی زندگی کا چراغ ہی گُل ہوگیا، روبینہ کی مدد کرنا سب سے پہلے اس کے عزیزواقارب پھر اہل محلہ اور پھر اہل شہر کی ذمہ داری تھی مگر سب غافل رہے اس کے بعد ذمہ داری سندھ حکومت کی تھی، شہلا رضا نے درست فرمایا تھا کہ ایک ارب روپے کا راشن بانٹ دیا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا، روبینہ کی موت سے واضح ہوگیا کہ ایک ارب کا راشن کہاں کہاں بانٹا گیا تھا۔

سندھ حکومت کے بعد ذمہ داری ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہمارے سٹار ہیرو وزیراعظم عمران خان کی بنتی ہے، وزیراعظم نے موجودہ آفت کے دور میں فوری طور پر اقدامات کیے اور امدادی پیکیج کا اعلان کرکے عوام سے واہ واہ کرالی، سٹار ہیرو وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اب تک احساس کفالت پروگرام کے تحت ملک کے 57 لاکھ 40 ہزار 457 مستحق خاندانوں میں 68 ارب 88 کروڑ 54 لاکھ 84 ہزار روپے کی امدادی رقم تقسیم کردی گئی ہے جن میں سندھ کے 19 لاکھ 51 ہزار 537 خاندانوں میں 23 ارب 41 کروڑ 84 لاکھ 44 ہزار روپے تقسیم کیے گئے ہیں

68 ارب 88 کروڑ 54 لاکھ 84 ہزار روپے کی امدادی رقم میں سے روبینہ اور اس کے بچوں کے لئے ایک کلو آٹا خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے، وباءکے زمانے میں بھی وفاقی وزراءاور خاص طور پر وفاقی حکومت کے ترجمان سیاست سے باز نہیں آرہے، ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ سندھ حکومت پر چڑھے رہیں، وفاقی حکومت کے سندھ کے تعلق رکھنے وزراءمیں سندھ کے حوالے مروڑ تو روزانہ اٹھتے ہیں مگر روبینہ کی موت پر ان کی زبان سے تعزیت کا ایک لفظ بھی نہ نکلا اور نہ ہی کوئی ندامت محسوس کی

سندھ کے وزیراعلیٰ سید گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، کورونا وائرس سے بہت محنت سے لڑ رہے ہیں، بلاشبہ وہ دن رات کام کررہے ہیں، کیا صرف کورونا وائرس کو روکنا ہی ان کا کام ہے، عوام بے شک بھوک سے مرجائیں؟ ، عوام کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا بھی شاہ جی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے مگر مراد علی شاہ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے صوبے اور اقتدار میں ایک خاتون اور 6 بچوں کی ماں بھوک سے مرگئی، روبینہ کون سی پیپلزپارٹی کی جیالی تھی، روبینہ نے جمہوریت کے لئے کون سی قربانی دی تھی، روبینہ نے کون سی آمریت کے خلاف جدوجہد کی تھی، روبینہ نے کون سی جیل کاٹی، روبینہ نے کب بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنانے کے لئے گلہ پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائے تھے جو اس کی موت پر وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ میں حکومتی پارٹی پیپلزپارٹی ماتم کریں، عام سی خاتون بھوک سے مر گئی، اس کی کیا قربانیاں تھیں کہ اسے شہید جمہوریت کا اعزاز دیا جائے، وہ تو شہید بھوک تھی سو مر گئی، روبینہ مر گئی تو کیا ہوا۔ بھٹو تو زندہ ہے

Facebook Comments HS