فیصلہ سازی میں وزیر اعظم کی سوچ ثانوی حیثیت اختیار کر چکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں؟ مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے یا سمارٹ لاک ڈاؤن؟ یہ بحث کرونا کی آمد سے جاری ہے۔ گزشتہ روز دو نکات ایسے سامنے آئے ہیں جن سے بحث کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم جناب عمران خان نے ٹیلی تھون امدادی رقم جمع کرنے کے دوران فرمایا ہے ”وہ شروع دن سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف تھے۔ پورا ملک بند کر دیں تو بھی کرونا نہیں رکے گا۔ ہمیں وائرس کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ اب ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا” دوسری جانب عالمی ادارہ صحت سمیت پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے یکساں طور پر حکومت پاکستان سے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے پر اصرار کیا ہے ”

یہ دو مختلف متحارب و متضاد رویے ہیں۔ عالمی اور مقامی سماجی یا طبی حلقوں کا دباؤ کتنا موثر ہو گا؟ اس سے قطع نظرحتمی فیصلہ حکومت پاکستان نے ہی کرنا ہے۔ کرونا کی آمد کے متعلق عوامی و سرکاری حلقوں کے خیالات مختلف ہیں۔ عوامی سطح پر حکومت کو عجلت و غفلت شعاری کے ذریعے کرونا کو ملک بھر میں پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن سرکاری موقف اس کی نفی کرتا ہے بلکہ سرکاری حلقوں کا اصرار ہے کہ انہوں نے بہترین و بر وقت و موثر اقدامات کیے تھے اپنے اس موقف کے حق میں جسے عوامی مقبولیت نہیں ملی اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہیں۔

جبکہ ہم جانتے ہیں کہ تفتان پر آنے والے پاکستانیوں کے ملک میں داخل ہوتے ہوئے حفاظتی طبی اقدامات غیر معیاری تھے۔ جناب لیاقت شاہوانی اس کا بر ملا اعتراف کر چکے بلکہ انہوں نے عجلت کی وجہ وفاقی وزراء کے دباؤ کو قرار دیا تھا۔

بعدازاں ایران سے پاکستانی افراد کی اندرون ملک روانگی کے خلاف پہلا عوامی ردعمل کوئٹہ میں سامنے آیا تھا۔ شہر کے وسط میں خروٹ آباد کے پاس قائم کیے جانے والے قیام کے عارضی بندوبست پر علاقہ کے افراد مشتعل ہو گئے۔ حکومت اس قیام کو قرنطینہ کا طبی نام دیتی ہے جو درست نہیں۔

ان قافلوں کو جب سکھر و ڈیرہ جات میں روکا گیا اور ٹیسٹنگ ہوئی تو پتہ چلا کہ ان میں بیشتر افراد مرد و زن کرونا کے مریض ہیں۔ بہت سے افرادکسی نہ کسی طرح بنا معائنہ اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔ تب حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ کرونا کی وباء پورے ملک میں سرایت کر گئی ہے مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی۔ یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ سندھ حکومت نے اس صورتحال میں فوری اقدامات کیے قرنطینہ کے قیام اور صوبے میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔

جبکہ وفاقی حکومت کا موقف و رویہ وہی تھا جس کا اعادہ کل جناب وزیراعظم نے کیا۔ مگر یہ کہ پنجاب نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا تو بلوچستان کی حکومت کے پاس بھی کوئی متبادل راستہ نہ رہا جی بی آزاد کشمیر بھی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر چکے۔ کے پی حکومت کو لاچاری کے عالم میں لاک ڈاؤن اختیار کرنا پڑا۔ پھر اچانک وفاقی دارالحکومت میں بھی یہی لائحہ عمل اپنا لیا گیا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وزیراعظم لاک ڈاؤن کے روز اول سے مخالف تھے تو وفاقی دارالحکومت سمیت ان صوبوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیسے ہو گیا؟ کس نے کیا اور نافذ العمل بھی ہو گیا؟ وزیراعظم لاک ڈاؤن کے حامی نہیں تھے تو اب وہ کس حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ ”اب ہم مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔ ”

کیا یہ دعویٰ درست ہے کہ جب سے ملکی حدود میں کرونا ” آیا ” ہے کہیں پر بھی مکمل لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوا؟

مذکورہ صوتحال ابہام کی موجودگی اور باہمی عدم رابطوں کی عکاسی کرتی ہے۔ بسیار تاخیرکے بعد تدبیری اقدامات کا عجلت کے ساتھ آغاز ہوا تومعلوم ہوا ملک میں مطلوبہ تعداد میں ضروری طبی ساز وسامان ہے نہ اسکی استعداد۔ چنانچہ پورے ملک میں تجارتی افراتفری مچ گئی۔ ضروری اشیا کی قلت ہوئی، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ حکومت نے، جیسا کہ معلوم ہوا ہے، ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مطلوبہ سامان کی خریداری کے لیے فنڈز جاری کیے، ہنگامی بنیادوں پر خریداری یقینی بنانے کے لیے قانونی ضوابط معطل کر دئیے مگر سرکاری مشنری فوری نتائج دینے سے قاصر رہی۔ ایسا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ درپیش حالات ناگہانی تھے جبکہ نیب کے ادارے کی گزشتہ چند سالوں سے بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے دوران افسر شاہی کے ممتاز افراد کو اختیارات کے غلط استعمال کی بنیاد پر مقدمات کا سامنا رہا۔ نئی افتاد میں ہر کوئی فعال انداز میں آگے بڑھ کر کام کرنے سے ڈرتا رہا۔

گو کہ حکومتوں نے قواعد و ضوابط معطل کیے تھے مگرکسی کو یقین نہیں تھا کہ آفت سے نکلنے کے بعد عدالتیں حکومتوں کے ان احکامات کو اختیارات سے متجاز قرار نہیں دے دیں گی اور یوں سرکاری حکام کو نیب کے سامنے ملزموں کی حیثیت میں پیشیاں بھرنی اور وضاحتیں دینے کا جوکھم اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس خوف و اندیشے نے بروقت درست اقدامات کی راہیں مسدود کیں۔ ایک خیال جو غلط بھی نہیں کہ بحران کے ان لمحوں میں ذرائع ابلاغ نے بھی غیر ذمہ داری کے ساتھ سنسی خیزی کی روش جاری رکھی۔ راشن کی خریداری اور تقسیم میں پائے جانے والی کوتاہیوں کو کرپشن کے الزامات لگا کر عوام کے سامنے پیش کیا توافسران کی کام کردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ تیز روی سے امداد بہم پہنچانے کا عمل شفافیت کے تقاضوں کی زد میں سست روی کا شکارہوگیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ معاملات انصاف و شفاف تھے۔ دہائیوں کی رچی بسی کرپشن کی روایت و روش نے یقینا اپنا کام جاری رکھا ہو گا میرا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ آفت کے دوران کشادگی کا رجحان اپنانا پڑتا ہے کوتاہیوں سے در گزر کرتے ہوئے پیش پا افتادگی سے نمٹا جاتا ہے۔ دیانت و انصاف کے ساتھ ضمیر کو زندہ رکھنا عام حالات کا تقاضا ہے توہنگامی آفت میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

اب سوال پھر وہی ہے کہ کرونا کا مقابلہ کس طرح ممکن ہے؟ ماہرین طب سماجی فاصلے کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ جناب عمران بھی اس سے انکاری نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسے ہو؟ اگر رضاکارانہ طور پر سماجی فاصلے برقرار رکھنے ممکن ہوتے تو یہ بہترین طریقہ تھا۔ جو تعلیم یافتہ مہذب معاشرے میں ہی ممکن ہے۔ پاکستان معاشرہ تعلیم و تربیت کو ترجیح نہ ملنے کے سبب ابھی ذہنی طور پر بہت پسماندہ ہے۔ اس کی اجتماعی سائیکی روایت پسندی پہ استوار ہے۔ اہل علم بھی اسے بدلنے کے لیے آمادہ فکر و عمل نہیں تو پھر دو امکان رہ جاتے ہیں۔ سمارٹ لاک ڈاؤن اور رضاکارانہ اپیلوں پر انحصار کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا جتنا اتلاف ہو اسے قبول کرنے کے لیے تیار رہا جائے یا پھر ذہنی پسماندگی کی معاشرتی حقیقت کو تسلیم کریں اورسرکاری وقانونی طور پر صرف لاک ڈاؤن نہیں بلکہ مکمل لاک ڈاؤن کے مشکل چیلنج کو قبول کر کے انسانی جانوں کو بچایا جائے۔

جتنے مالی وسائل دستیاب ہیں انہیں کمزور مالی حیثیت والے افراد کی چوکھٹ تک تماشہ لگائے بغیر پہنچایا جائے۔ حکومت سیاسی درجہ حرارت کم کرے۔ مخالفین پر الزام تراشی ناعاقبت اندیشی ہے۔ خود پسندی، خود ستائی معقول رویہ نہیں۔ پارسائی شخصی دعووں سے پاکدامنی قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے عمل کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔

میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

پسِ نوشت۔ دلچسپ طور پر وفاقی وزیر جناب اسد عمر نے ابھی (شام سات بجے) لاک ڈاؤن کی مدت 9 مئی تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی لاک ڈاؤن کی حمایت کی ہے۔ کیا اس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ سازی میں وزیر اعظم کی سوچ ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply