کرونا کوروکنا ھے تو قانون سازی کرنی ہو گی


کرونا وائرس، جو کہ چائنہ کے شہر ووہان میں 2019 میں نمودار ہوا۔ اور کہا جا رہا تھا کہ یہ جانوروں سے چائنہ میں پھیلا ہے، دسمبر اور جنوری میں، چین کے اسپتالوں میں ایمرجنسی لگ گئی، ڈاکٹروں کو دوسرے شہروں سے ووہان آنا پڑا، ایک ایک ڈاکٹر کی 8 گھنٹے ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم چائنہ اور دوسرے ممالک کے بارے میں میڈیا سے سنتے رہے کہ کرونا خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے، رفتہ رفتہ یہ وائرس پاکستان آ پہنچا ہے، اور یہ بات یقینی ہے کہ انسان کو دوسرے انسان سے وائرس لگ رہا ہے، کیوں کہ پاکستان میں چمگادڑ انسانوں سے دور ہیں۔

اب بات آرہی تھی کہ اس وائرس سے باقی لوگوں کو کیسے بچایا جائے، طب کے ماہروں نے سماجی دوری کا مشورہ دیا، پاکستان سمیت دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن کیے گئے، سماجی دوری اختیار کی گئی۔ لوگ بار بار ہاتھ دھوتے رہے۔

لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ نہیں تھما، کرونا وائرس کے کیسز میں بتدرج اضافہ ہورہا ہے، پوری دنیا میں اس وائرس سے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو جان گئی اور دس لاکھ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں بھی 10 ہزار سے زائد لوگ کرونا میں مبتلا ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ کرونا ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھا رہے ہیں لیکن ساتھ میں عوام کو بھی اپنا فرض نبھانا چاہیے۔ لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے اور حکومت کو قانون سازی کرنی ہوگی، قانون تو پہلے سے موجود ہے۔

پاکستان پینل کوڈ، کے قانون کے تحت کے اگر کوئی شخص غیرقانونی اور بے احتیاطی سے کوئی انفیکشن کسی دوسرے شہری کو منتقل کرتا ہے۔ یا انفیکشن کے پھیلاؤ کا خطرہ عوام میں موجود ہو تو اس آدمی کو 6 ماہ کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ اگر انفیکشن مہلک ہے تو قید کی سزا 2 سال تک ہو سکتی ہے اور ساتھ میں جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

قانون پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر بندہ عمل نہیں کرتا تو جرم ہے اس کو قانون کی نظر میں اومیشن کھا جاتا ہے۔ بالکل اس طرح اگر کوئی بندہ کرونا وائرس میں مبتلا ہے اور اس کو چھپاتا ہے، اپنا علاج نہیں کراتا، سماجی دوری نہیں رکھتا تو اس پر حکومت کو چاہیے کہ اسے سزا دلوائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments