برطانیہ میں رمضان سہولت پیکج



اگر آپ معتدل مزاج مسلمان ہیں، اگر آپ فرقہ بازی کے خلاف ہیں اور اگر آپ کسی خاص مسلک کی پیروی کرنے کی بجائے سب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو برطانیہ میں رمضان کا مہینہ آپ کو ایک سہولتی پیکج کے طور پر دستیاب ہوگا۔ جس میں آپ اپنی تمام عبادات اپنی سہولت اور آسانی کے تحت سر انجام دے سکتے ہیں۔ آپ بھلے ہی فرقہ پرستی کو غلط سمجھتے ہیں، مسلمانوں کی تقسیم پررنجیدہ ہوتے ہیں اور دو عیدوں کے مسئلے پرکڑھتے ہیں لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ فرقہ پرستی رمضان سہولت پیکج میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مختلف مساجد اور مسالک کا کسی ایک نکتہ پر جمع نہ ہونا معتدل مزاج مسلمان کے لئے ایک نعمت ثابت ہوسکتی ہے اگر آپ میری طرح دل سے تمام مسالک کی عزت کرتے ہیں، سب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو آپ اپنی سہولت کے لئے ان سے اپنے لئے آسانیاں تلاش کر سکتے ہیں۔

برطانیہ میں ہر سال ماہ رمضان کا آغاز دو بڑے گروپوں کی آپسی لڑائی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک گرو ہ سعودی عرب کی پیروی کرتا ہے اوروہ ان کے چاند کا اعلان سن کر فوراً رمضان کا آغاز کر لیتا ہے۔ وہ قطعاًزحمت نہیں کرتا کہ برطانیہ کے چاند کی معلومات بھی لے لیں دوسرا گروہ بھی چاند کو تلاش کرنے کی بجائے یہ تشریح پیش کرتا ہے کہ رمضان کا آغاز قریبی ممالک کا چاند دیکھ کر کرنا چاہیے وہ ترکی مراکش وغیرہ کے چاند کو فالو کرے گا۔

اس کے علاوہ ایک گروہ ایران کو فالو کرے گا ا س لئے یہ تو تقریبا ً نا ممکن ہے کہ برطانیہ میں ایک ہی دن رمضان کا آغاز ہو جائے۔ یعنی ایک گروہ ایک دن پہلے روزہ رکھ لے گا۔ آپ چونکہ معتدل مزاج مسلمان ہیں اور کسی فرقہ پرستی پر یقین نہیں رکھتے اس لئے اپنی سہولت کے مطابق ایک دن لیٹ بھی رمضان شروع کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی بحث کرے تو اسے کہہ دیں کہ اگر تو فلاں ملک کے چاند کے مطابق روزہ رکھتا ہے تو نمازیں بھی انہی کے وقت کے مطابق کیوں نہیں ادا کرتا۔

افطاری کا ٹائم سنیوں کے اکثر مکاتب فکر کے مطابق کم و بیش ایک جیسا ہی ہوگا البتہ اگر کسی دن لیٹ ہوگئے ہیں تو آپ کے پاس سہولت موجود ہے کہ آپ اہل تشیع کی مسجد میں جا کر افطاری کرلیں۔ سحری کے وقت کے لحاظ سے جو سہولت آ پ کو برطانیہ میں میسر ہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کی اسلام کی تشریح میں نہیں ہے۔ برطانیہ میں چھپنے والے رمضان کیلنڈ رز میں ایک ہی شہر کے دو میل کے فاصلے پر موجود بھی مساجد میں دو سے اڑھائی گھنٹے تک کا فرق ہے آپ اپنی سہولت کے مطابق دیکھ لیں کہ کس کیلنڈر کی پیروی کرنی ہے مثلاً ً اگر آپ سحری کے بعد زیادہ سونے کے عادی ہیں تو اس گروہ کے ساتھ روزہ رکھ لیں جو رات کو ڈیڑھ دو بجے کے قریب روزہ بند کر دیتے ہیں اور پھر نماز پڑھ کر سو جاتے ہیں۔

آپ مزے سے روزہ بند کریں نماز پڑھیں اور خواب خرگوش کے مزے لیں صبح اٹھ کر غسل کریں اور دفتر چلے جائیں۔ البتہ اگر آپ کو رات کو زیادہ سونے کی عادت ہے اور آپ لیٹ اٹھنا چاہتے ہیں توکوئی مسئلہ نہیں آپ اس مسجد کا کیلنڈر لا کر اپنے گھر کی دیوار پر لگا دیں جو چار بچے روزہ بند کراتا ہے۔ آپ چونکہ معتدل مزاج مسلمان ہیں اور کسی فرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتے اس لئے آپ کی سحری خدا کے ہاں قبول ہوجائے گی چاہے کسی کا بھی کیلنڈر فالو کرلیں۔ البتہ شکریہ ادا کریں اس فرقہ باززوں کاجنہوں نے آپ کو یہ سہولت فراہم کی کہ آپ سحری کے وقت کے لحاظ سے اپنی مرضی کا وقت منتخب کر سکتے ہیں

ماہ رمضان میں مختلف مساجد میں رات کو تراویح کا انتظام ہوتا ہے۔ جو سنیوں کے ہاں بیس رکعت ہوتی ہیں اگر آپ کو بیس رکعت بہت زیادہ لگتی ہیں تو رمضان میں تراویح کی عبادت کے لئے بریلویوں دیوبندیوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اہلحدیثوں کی پیروی کریں ببانگ دہل اعلان کریں کہ تراویح صرف آٹھ ہی ہوتی ہیں اور ان کی مساجد میں جانا شروع کر دیں۔ لیکن اگر آپ کو محسوس ہوکہ اہلحدیث پڑھاتے تو آٹھ ہیں لیکن وقت بہت زیادہ لے لیتے ہیں اور آپ تھک جاتے ہیں تو پھر آپ فوراً اعلان کر دیں کہ میں غامدی صاحب کا پیروکار ہوں یا میں اہل تشیع کے ساتھ متفق ہوں کہ تراویح نام کی تو کوئی عبادت سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ آپ چونکہ معتدل مزاج مسلمان ہیں اور کسی فرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتے اس لئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

آج کل تو کورونا وائرس کی وجہ سے مساجد بند ہیں ورنہ برطانیہ میں رمضان کے مہینے میں روزہ افطارکرنے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا آپ کسی بھی مسلک کی مسجد میں چلے جائیں آپ کو بہترین کھانا اور بہترین مشروب ملتے ہیں۔ اگر آپ کم تراویح پڑھنے کے شوق میں وہابیوں کی پیروی کرتے رہے ہیں تو رمضان کے آخری عشرے میں دوبارہ سنی ہو جانے میں فائدہ ہے کیونکہ رمضان کی آخری طاق راتوں میں افطاری کے علاوہ تراویح کے بعد بھی ختم قرآن کی محافل میں اچھی اچھی مٹھائیاں اور بہترین طعام کھانے کو ملتے ہیں آ پ چونکہ معتدل مزاج مسلمان ہیں اور کسی فرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتے اس لئے آپ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ رمضان کی انتیس تاریخ کو بریلویوں کے ساتھ رہنے میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ تیس روزے نہ کروا دیں اس وقت دوبارہ آپ وہابیوں کے ساتھ مل جائیں جو سعودیہ کے چاند کے ساتھ ہی عید کروا دیں گے آپ بھی اپنی پہلے سے تیار دلیل لے آئیں کہ جب دنیا میں ایک جگہ چاند نظر آگیا ہے تو یہ فرقہ پرست مولوی ایک دن عید کیوں نہیں کرتے اور اپنی سہولت کے مطابق اس فرقے کے ساتھ عید کر لیں جو ایک دن پہلے عید کرا رہا ہوگا۔ آ پ چونکہ معتدل مزاج مسلمان ہیں اور کسی فرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتے اس لئے آپ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ برطانیہ میں اگر آپ مختلف مساجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں توآپ کو اندازہ ہوگا کہ کسی بھی مسجد کا کسی بھی مسئلے پر اتفاق نہیں ہے۔ ہاں لیکن صرف ایک بات ایسی ہے جو ہر مسلک اور ہر فرقے میں مشترک ہوگی وہ یہ کہ برطانیہ کی مساجد میں چندہ جمع کرنے کی اپیل جمعہ کے خطبے سے لمبی ہوتی ہے

Facebook Comments HS