خیر کہاں ڈھونڈیں
کووڈ انیس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ لاکھوں لوگ اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور دو لاکھ لوگ اس بیماری سے لڑتے لڑتے جانیں ہار چکے ہیں۔
پاکستان میں بھی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عام آدمی علاج کے لئے کہاں جائے گا؟ اتنے ہسپتال، ڈاکٹرز، بیڈز اور وینٹی لیٹرز نہیں ہیں ہمارے دیس میں۔
حکومت علاج کر پائے گی؟ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے بیماری کو بے قابو ہونے سے بچایا جائے۔ ہسپتالوں کی حالت پہ بھی ضرور دھیان دے رہی ہو گی۔ ملک کے ڈاکٹرز حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن سخت کیا جائے۔ عوام کو کسی بھی صورت اکٹھا نہ ہونے دیا جائے۔ خدانخواستہ ایسا دن آئے کہ ہمیں سڑکوں پر لوگوں کا علاج کرنا پڑے۔ ڈاکٹرز اپنے لئے حفاظتی کٹس کا مطالبہ بھی لگاتار کر رہے ہیں۔
ہمارے کپتان کوئی ایسا بیان داغ دیتے ہیں کہ عوام سمجھتے ہیں کوئی مسئلہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ لاک ڈاؤن ہوا تو فرما دیا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ ابھی پھر ٹی وی پہ آ کر کہہ دیا کہ لاک ڈاؤن کر بھی لیں تب بھی وبا تو پھیلے گی۔ حکومت کے تمام سر کردہ ارباب اختیار کو تو ایک ہی پیغام دینا چاہیے تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ بھی تمام انسانوں کے متحد ہونے پہ زور دے رہے ہیں۔ سیاسی، مذہبی، نظریاتی و دیگر اختلافات پھر کسی وقت پہ اٹھا رکھیں۔ اب صرف اس خطرناک اور مہلک دشمن کے خلاف سب ایک ہو جائیں۔
وینٹی لیٹرز ہماری ترجیح نہیں رہے۔ ہم نے بڑا دشمن ہمیشہ اپنے پڑوسی ملکوں کو سمجھا اور ٹینک، گولے، میزائل، بارود، لڑاکا جہاز ہی خریدتے رہے۔ اور ساتھ ہی عوام کو یہ خیال بھی مفت میں دان دیا کہ دیکھو ہم کتنے مضبوط اور محفوظ ہو گئے۔ ہم فرط جذبات میں آ کر نعرے لگاتے رہے۔ یہ نہ سوچا کہ بھوک سے لوگ بلبلائیں گے تو بارود سے پیٹ تو نہ بھر پائیں گے۔ بیمار ہوں گے تو ایف سولہ مدد کو نہیں پہنچیں گے اور وینٹی لیٹرز کی جگہ توپیں تو آکسیجن کے لئے تڑپتے جسموں میں زندگی نہیں بھر سکیں گی۔
کیا علما ہماری مدد کر سکتے ہیں؟ بلاشبہ مذہب انسانی بھلائی ہی چاہتا ہے۔ انسان کی خوشی اور بہتری ہی مذہب کو عزیز ہے۔ انسان کی زندگی آسان اور پر امن بنانے کو ہی مذہب اترے تھے۔ جب پوری دنیا کے سائنسدان، وبائی امراض کے ماہرین، ڈاکٹرز اور صحت کی تنظیمیں تمام لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے گھروں میں رہنے کی تلقین کر رہے تھے۔ اجتماعات نہ کرنے کی دہائی دے رہے تھے۔ جب پوری دنیا کی عبادت گاہیں بند کر دی گئیں تا کہ عبادت گزار بیماری اور موت سے بچ سکیں۔ تب ہمارے علما مساجد میں با جماعت نماز ادا کرنے کی تلقین کر رہے تھے۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو صحت کے ماہر ڈاکٹر کے مشورے پہ عمل کرتے ہیں اور صحت مند ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی اور بندہ ہمیں کہے گا کہ بس فکر نہ کرو اور احتیاط کی بھی ضرورت نہیں تو ظاہر ہے مرض بڑھتا جائے گا۔
حکومت نے لوگوں کی بھلائی کے لئے اکٹھے نہ ہونے کی پابندی لگائی تو لوگ زیادہ مساجد میں آنے لگے۔ پولیس نے سمجھانے کی کوشش کی تو ان پہ حملے ہوئے۔ حکومتی احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی۔ حکومت کی نافرمانی کو فرض سمجھ لیا گیا۔
اب آپ خود اپنے آس پاس دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگ مساجد میں عبادت کے لئے حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں؟
ہم اکٹھے ہوں گے تو وائرس کو پھیلنے کا موقع ملے گا۔ ہم بیمار ہو سکتے ہیں۔ وائرس اپنے خاندان اور پورے علاقے میں پھیلا سکتے ہیں۔ ہزاروں لوگ سخت بیمار اور خدا نخواستہ انتقال کر سکتے ہیں۔ تو کیا انسانی جانیں بچانے کے لئے ہم گھروں میں عبادت نہیں کر سکتے؟ کیا گھروں کو عبادت گاہیں بنا کر ہم ہزاروں لوگوں کی جانیں بچا کر خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتے؟ کیا مذہب کا یہی حکم ہے کہ آپ عقل و منطق کا استعمال نہ کریں؟ کیا مذہب یہ حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی صحت اور زندگی کی قدر نہ کریں؟ کیا مذہب یہ پرچار کرتا ہے کہ آپ اپنے خاندان اور باقی تمام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟ کیا ہمارا مذہب ہمیں یہ تبلیغ کرتا ہے کہ اگر تیرنا نہیں بھی آتا پھر بھی دریا میں کود جاؤ اور دوسرے کنارے پہنچ جاؤ گے؟
ہرگز نہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب انسان کا نقصان نہیں چاہتا۔ صرف بھلائی، بہتری اور خیر چاہتا ہے۔ ہمارا مذہب تو سلامتی والا مذہب ہے۔ تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ چند لوگ کیوں اکٹھا ہونے کو خطرہ نہیں سمجھ رہے؟ اگر خدانخواستہ بیماری پھیلتی ہے تو کون ذمہ داری لے گا؟ ہمارے علما اور ہم تقدیر کا لکھا سمجھ کے بیٹھ جائیں گے؟ اسلام نے تدبیر اور احتیاط کا جو درس دیا ہے اس پہ ہم عمل کب کریں گے؟ جو حدیث ہمیں علما ہی سناتے ہیں کہ اونٹ کو رسی سے پہلے باندھو پھر توکل کرو۔ اس حدیث کے خوبصورت اور آفاقی پیغام پہ عمل کب کریں گے؟
بہرحال وہ لوگ جن سے یہ توقع لوگ رکھتے ہیں کہ وہ ہماری بھلائی ہی سوچیں گے ان سے ایسے فیصلے نہ ہو پائے جو اجتماعی بھلائی کا سندیسہ لاتے۔ آج پوری دنیا کسی پنڈت، پادری، عامل یا مفتی کے ساتھ آس باندھے نہیں بیٹھی بلکہ وہ کسی دوا یا ویکسین کی ایجاد کے لئے سائنسدانوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے۔
اگر ہم بازاروں میں دیکھیں تو لگتا ہے ہم خود لاپرواہ لوگ ہیں۔ جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو خطرے کو خطرہ نہیں سمجھتے۔ نہ جانے کیوں سوچ لیتے ہیں کہ باقی دنیا ہی برباد ہو گی ہم بچ جائیں گے۔ پتہ نہیں کون سی تحقیق کے بعد کہتے ہیں کہ یہ سازش ہے۔ کون سی جانچ کے بعد کہتے ہیں کہ پاکستان میں اتنا نہیں پھیل رہا۔ کس ریسرچ کی بنیاد پہ ہم نے ’او، کجھ نہیں ہوندا‘ جیسا خود ساختہ نتیجہ نکال لیا ہے۔
جب ویکسین، دوا، علاج کچھ نہیں ہے تو احتیاط ہی واحد علاج ہے۔ وہ ہم کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو یہ کرنا ہو گا۔ ہر وہ شخص جو احتیاط کرتا ہے وہ انسانیت کا دوست ہے۔ اور ہر وہ شخص جو احتیاط میں لاپرواہی برتتا ہے وہ انسانیت کا دشمن۔
اگر حکومت، علما ، ڈاکٹرز، عوام مل کر کام کریں گے تو پھر سب کی بھلائی ہو گی۔ اگر ان میں کوئی لاپرواہ رہے گا تو پھر خیر کہاں ملے گی؟ یہ معلوم نہیں۔


