سولہ برس کی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیبی نے زور دار آواز سے دروازہ بند کیا۔ نگینہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ زیبی کی سانس پھولی ہوئی تھی اور وہ بہت سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نگینہ ابھی ابھی کھانا بنا کر صحن میں آئی تھی۔ دو بج کر بیس منٹ ہوئے تھے اور اسے پتا تھا کہ دو بجے سکول سے چھٹی ہوتی ہے اور بیس منٹ میں زیبی گھر پہنچ جاتی تھی۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ زیبی اس قدر گھبرائی ہوئی آئی تھی۔

”کیا ہوا؟ میری جان اتنی پریشان کیوں ہو؟“ نگینہ فوراً اس کی طرف بڑھی۔ زیبی بھاگ کر ماں سے لپٹ گئی۔

”امی۔ امی آج۔“ زیبی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی۔ اس کے لفظ اس کی ہچکیوں میں دب کر رہ گئے۔ نگینہ نے اس کی پیشانی کو چوما پھر اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو پوچھتے ہوئے بولی۔

”زیبی بتاؤ نہ کیا ہوا، کیا کسی ٹیچر نے کچھ کہا ہے؟“
”نہیں امی! سکول کی بات نہیں ہے۔“
”اچھا آؤ پہلے پانی پی لو پھر اطمینان سے بتاؤ کہ کیا معاملہ ہے۔“

پھر جب زیبی نے پوری بات بتائی تو نگینہ کی کنپٹیاں سلگنے لگیں۔ سماج کا یہ رنگ نیا تو نہیں تھا لیکن اس سے پہلے کبھی اس نے سوچا نہیں تھا کہ ایسی صورتِ حال بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس وقت تو اس نے زیبی کو سمجھا بجھا کر چپ کروا دیا تھا لیکن رات کو سونے سے پہلے سوچ رہی تھی کہ اس مسئلے کا کوئی حل ہونا چاہیے۔ زیبی نے بتایا تھا کہ ایک لڑکا سکول سے واپسی پر اس کا پیچھا کرتا ہے۔ زیبی پیدل ہی سکول آتی جاتی تھی۔ بیس منٹ کا فاصلہ تھا۔

آدھا راستہ تو چند سہیلیوں کے ساتھ طے ہوتا تھا لیکن ایک ایک کر کے وہ سب اپنے اپنے گھر کی طرف چلی جاتی تھیں اور بقیہ راستہ اسے اکیلے طے کرنا پڑتا تھا۔ پہلے تو وہ لڑکا بس اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا تھا مگر آج اس نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا تھا۔ زیبی نے کترا کر گزر جانا چاہا تو اس نے زیبی کو اوباش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فون نمبر مانگا۔ زیبی نے انکار کر دیا اور جانے لگی تو اسے ہراساں کرنے لگا۔ اتفاق سے اس وقت گلی میں کوئی نہیں تھا۔ شاید اسی لیے وہ لڑکا سامنے آیا تھا۔ اس کے باوجود زیبی تیزی سے آگے بڑھی تو لڑکا جان بوجھ کر اس سے ٹکرا کر گزرا اور جاتے جاتے اسے ایسے انداز میں چھوا کہ زیبی آب آب ہو گئی۔

نگینہ سوچ رہی تھی کہ وہ خودچھٹی کے وقت سکول جائے گی اور زیبی کو ساتھ لے کر آئے گی وہ لڑکا چھٹی کے وقت اس کا پیچھا کرتا تھا اگر وہ نظر آیا تو اس لڑکے کو کھری کھری سنائے گی تاکہ وہ آئندہ اس کی بیٹی کو تنگ نہ کرے۔ دوسرے دن وہ چھٹی سے پہلے زیبی کے سکول کے باہر کھڑی تھی۔ زیبی اسے دیکھ کر مسکرا اٹھی۔ راستہ کٹتا رہا لیکن آج وہ لڑکا نظر نہیں آیا تھا۔ نگینہ نے پہلے ہی زیبی کو سمجھا دیا تھا کہ جیسے ہی وہ لڑکا دکھائی دے وہ اسے بتا دے پھر نگینہ جانے اور وہ لڑکا جانے۔ شاید وہ لڑکا بہت چالاک تھا اس نے دور ہی سے دیکھ لیا ہو گا کہ آج لڑکی کی ماں اس کے ساتھ ہے۔ اس لیے سامنے نہیں آیا تھا۔

نگینہ پورا ہفتہ اسے ساتھ لاتی رہی لیکن اس لڑکے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ نگینہ کے لیے یہ خاصا مشکل تھا۔ اس کے گھٹنوں میں درد رہتا تھا وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتی تھی۔ چناں چہ جب ایک ہفتے تک مسلسل مشقت کے بعد بھی وہ لڑکا نظر نہ آیا تو نگینہ نے سوچا کہ یقیناً وہ لڑکا مایوس ہو گیا ہو گا اور اب زیبی کا پیچھا نہیں کرے گا۔ نگینہ نے بیٹی سے کہا کہ اب وہ اسی طرح اکیلی آ جایا کرے۔ زیبی کو بھی یقین ہو چکا تھا کہ اس اوباش سے اس کا پیچھا چھوٹ چکا ہے۔ مگر یہ اس کی بھول تھی۔ جس دن وہ اکیلی تھی اسی دن پھر وہ لڑکا نظر آ گیا اور ایک ایسی سڑک جہاں آمدورفت ذرا کم تھی اسے گھیر لیا۔

”کیا بات ہے بے بی آج آنٹی کو ساتھ نہیں لائی، ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟“ لڑکے نے طنزیہ انداز میں کہا پھر ہنسنے لگا۔

”بے بی کیوں تڑپا رہی ہو، میں تم سے لو کرتا ہوں، آئی لو یو بے بی“ لڑکے نے بازاری لہجے میں کہا۔
”تم ہو کون؟ ہٹو میرے راستے سے، میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔“ زیبی نے غصے سے کہا۔

”ہائے! چلو اس بہانے سے بات تو کی۔ اچھا اپنا نمبر دے دو پھر میں اپنے بارے میں سب کچھ بتا دوں گا، بہت باتیں کرنی ہیں تم سے۔“ لڑکا اسے گھور رہا تھا۔

زیبی نے منہ بھینچتے ہوئے تیزی سے قدم آگے بڑھا دیے لیکن اس بار وہ پوری طرح ہوشیا رتھی۔ لڑکے نے اسے چھونے کی کوشش کی تھی لیکن اس بار وہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

زیبی نے گھر پہنچ کر ماں کو بتایا اس کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں۔ وہ سوچ رہی تھی اس معاملے میں کس سے مدد لے۔ گھر کا راشن بھی ختم تھا اسی پریشانی میں وہ چینی پتی دالیں وغیرہ خریدنے نکڑ کی دکان پر گئی تو نصر اللہ سے بھی اس کی پریشانی چھپی نہ رہ سکی۔ نصر اللہ کی کریانے کی دکان تھی۔ عام طور پر ضرورت کی چیزیں اسی دکان سے خرید لیتی تھی۔ اسے اس محلے میں آئے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ وہ یہاں اکا دکا لوگوں کو ہی جانتی تھی۔ نصر اللہ نے بل بنا دیا اور وہ پیسے بھی دے چکی تو اسے خیال آیا کہ کوکنگ آئل واشنگ پاؤڈر بھی ختم تھا۔

”اوہو مجھے یاد آیا ایک لٹر کوکنگ آئل اور آدھا کلو واشنگ پاؤڈر بھی دے دیں۔“ نگینہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

”آج آپ خاصی پریشان لگ رہی ہیں، اگر پیسوں کی بات ہے تو کوئی مسئلہ نہیں پیسے پھر آ جائیں گے، آپ جتنا چاہیں سامان لے جائیں۔“ نصر اللہ نے ہمدردی سے کہا۔

”نہیں نہیں، پیسے ہیں میرے پاس، میں کسی اور وجہ سے پریشان تھی۔ خیر آپ سامان دیجیے۔“

نگینہ سامان لے کر آگئی۔ شام کو مین ڈور کی بیل بجی تو وہ چونک اٹھی۔ اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ اس نے دروازہ کھولا تو باہر نصر اللہ تھا۔ نصر اللہ کے ہاتھ میں دو شاپنگ بیگ بھی تھے۔

”آپ؟“
”جی مجھے اندر تو آنے دیں۔ آخر پڑوسی ہوں آپ کا۔ کچھ بات کرنی تھی۔“
”جی جی آئیے۔“ وہ دروازے کے سامنے سے ہٹ گئی۔

اس نے نصر اللہ کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ نصر اللہ نے شاپنگ بیگ میز پر رکھے اور بیٹھ کر دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔

”آپ کیا لیں گے، چائے بناؤں؟“ نگینہ نے پوچھا۔

”نہیں نہیں، میں تو آپ کے لئے اپنی دکان سے کچھ چیزیں لے کر آیا تھا۔ وہی سامان ہے جو آپ ہر دس پندرہ دن بعد خریدتی ہیں۔ لیکن اس بار آپ نے سامان کم خریدا تھا۔ آپ پریشان بھی تھیں۔ یقین کیجیے آپ کے جانے کے بعد مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ میں کیسا پڑوسی ہوں۔ شاید آپ کے پاس پیسے کم تھے۔ اس لیے سامان لے آیا ہوں اور پیسوں کی بالکل فکر نہ کریں، جب آپ کو سہولت ہو دے دیں۔ بلکہ میں آپ کا کھاتہ کھول دیتا ہوں۔ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے لے لیا کریں پھر پیسے تھوڑے تھوڑے کر کے دیتی رہیں۔“ نصر اللہ سر جھکائے کہہ رہا تھا۔

”اوہ! یہ آپ نے کیا کیا۔ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔“ نگینہ نے فوراً کہا۔

”دیکھیں میں سمجھتا ہوں۔ آپ اکیلی ہیں آپ کے خاوند کی بھی وفات ہو چکی ہے، کپڑے سی کر آخر کتنی آمدنی ہوتی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مجھے پہلے اس بات کا خیال کیوں نہ آیا۔“ نصر اللہ نے کہا۔

نگینہ کے دل پر چوٹ سی لگی۔ ایک برس پہلے تک اس کے حالات ایسے نہیں تھے۔ اس کا خاوند شریف حسین زندہ تھا۔ شریف حسین ایک کلرک تھا۔ آمدنی زیادہ نہ سہی مگر اتنی ضرور تھی کہ وہ کرائے کے گھر میں آرام سے رہتے تھے۔ لیکن پھر ایک دن موٹر سائیکل پر آفس جاتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے ایسی ٹکر ماری کہ ہسپتال جانے سے پہلے ہی اس کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔ اس کے بعد جیسے نگینہ کی زندگی پر بھی اندھیرے چھا گئے۔

سلائی کڑھائی کے کام میں وہ ماہر تھی۔ پہلے وہ جز وقتی طور پر کپڑے سی کر کچھ پیسے جمع کیا کرتی تھی اب اس نے اسے مکمل طور پر آمدنی کا ذریعہ بنا لیا۔ بہر حال اتنے پیسے کما نہیں پاتی تھی کہ اخراجات پورے ہوں۔ چناں چہ کرائے کا وہ مکان بھی چھوڑ دیا، اس کا کرایہ زیادہ تھا اور اس محلے میں آ گئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ نصر اللہ بہت ہمدرد آدمی ہے۔ شاید اللہ نے اسے ہماری مدد کے لیے بھیجا ہے۔

نگینہ نے اسے بتا دیا کہ کیا مسئلہ ہے۔ اسے شک تھا کہ لڑکا اسی محلے کا ہے۔ پوری بات سن کر نصر اللہ کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے۔

”بد بخت، الو کا پٹھا، ایسے لڑکوں سے نمٹنا میں خوب جانتا ہوں۔ نصر اللہ نے فوراً اس نامعلوم لڑکے کی خبر لینا شروع کی۔“ بس آپ فکر نہ کریں۔ میں سب دیکھ لوں گا۔ ”نصر اللہ نے پورے یقین سے کہا۔

زیبی نے اتنی دیر میں چائے بنا لی تھی۔ وہ چائے لے کر آ گئی۔
”یہ میری بیٹی زیبی ہے۔“ نگینہ نے تعارف کروایا۔

”اچھا اچھا! ماشا اللہ“ نصر اللہ نے فوراً مسکراتے ہوئے کہا۔ چائے پینے کے بعد ایک بار پھر نصر اللہ نے یقین دلایا کہ وہ خود چھپ کر دیکھے گا کہ زیبی کو کون تنگ کرتا ہے۔ نگینہ کافی حد تک مطمئن تھی۔

اگلے دن جب زیبی گھر آئی۔ تو اس کے چہرے پر دبا دبا جوش تھا۔
”کیا ہوا۔ زیبی آج وہ لڑکا نظر آیا تھا؟“ نگینہ نے پوچھا۔

”جی امی! نظر آیا تھا لیکن اس کے بعد نصر اللہ انکل آ گئے۔ انہیں دیکھتے ہی اس کا رنگ یوں اڑا جیسے موت کے فرشتے کو دیکھ لیا ہو۔ دم دبا کر بھاگا۔ نصر اللہ انکل بھی اسے گالیاں دیتے ہوئے اس کے پیچھے چلے گئے تھے۔ لگتا ہے خوب درگت بنائی ہو گی اس کی۔“ زیبی نے بتایا۔

”شکر ہے! مسئلہ حل ہوا۔“ نگینہ نے ایک لمبی سانس لی۔ سہ پہر کو بیل بجی اور دروازہ کھولنے پر نصراللہ کا چہرہ نظر آیا۔

”آئیے آئیے! مجھے پتا ہے۔ آج آپ نے اس لڑکے کو سبق سکھا دیا ہے۔“ نگینہ مسکرائی۔
”جی۔“ نصر اللہ نے بڑی آہستگی سے کہا اور مردہ قدموں سے اندر داخل ہوا۔
” کیا بات ہے۔ کوئی پریشانی ہے کیا؟“ نگینہ نے پوچھا۔

”میں آپ سے بے حد شرمندہ ہوں۔ آپ سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہے۔ وہ منحوس، گھٹیا اور ناہنجار میرا ہی بیٹا ہے۔“

”اوہ!“ نگینہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

”آپ فکر نہ کریں میں نے اس کی وہ درگت بنائی ہے کہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ اب وہ زیبی کی طرف کبھی دیکھنے کی بھی جرات نہیں کرے کا۔“ نصر اللہ نے کہا۔

”اچھا آئیں چائے تو پی لیں۔“

تھوڑی دیر بعد ڈرائنگ روم میں ان کے قہقہے گونج رہے تھے۔ اسی دوران زیبی چائے بنا کر لائی۔ تو وہ بھی وہیں بیٹھ گئی۔ کافی دیر باتیں چلتی رہیں۔ نصر اللہ کے جانے کے بعد گھر میں خاموشی چھا گئی۔ جب وہ دونوں ماں بیٹی ہوتی تھیں تو اکثر گھر میں خاموشی ہی رہتی تھی۔ زیبی میٹرک میں تھی۔ وہ اپنی کتابیں پڑھتی رہتی تھی اور نگینہ سلائی کڑھائی میں مصروف رہتی تھی۔

”امی! کتنا اچھا لگ رہا تھا ناں! جب نصر اللہ انکل یہاں بیٹھے تھے۔ باتیں، مسکراہٹ، قہقہے۔ اور اب پھر وہی اداسی۔“ زیبی نے اچانک کہا۔

”ہاں بیٹی! لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں۔“ نگینہ بھی اداس تھی۔

اس دن کے بعد نصر اللہ اکثر ان کے گھر آنے لگا۔ وہ اکثر اپنے ساتھ اپنی دکان سے کچھ چیزیں بھی لے آتا تھا۔ اب تو نگینہ کو اس کی دکان پر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ جب بھی ان تینوں کی محفل جمتی تھی خوب خوش گپیاں ہوتی تھیں۔ کبھی کبھی نصراللہ سے فون پر بھی بات ہو جاتی تھی۔ ایک دن نصر اللہ کا فون آیا۔

”جی فرمائیے“ نگینہ نے کہا۔
”مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔“ نصر اللہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”خیریت! آپ کی آواز میں پریشانی سی ہے۔“ نگینہ نے کہا۔

”نہیں میں پریشان نہیں ہوں۔ اصل میں ایک بہت ہی سنجیدہ مسئلے پر گفتگو کرنی ہے اس لیے آپ کو ایسا لگا ہے۔“

”تو بتائیے نا۔“
”نہیں ابھی نہیں میں شام کو گھر آؤں گا پھر اطمینان سے بات کریں گے۔“
”لیکن کچھ بتائیے تو سہی کس حوالے سے بات کرنی ہے۔“

”ہوں۔ دیکھیں میں آپ کے بارے میں بہت سوچتا رہتا ہوں۔ آپ کے گھر میں کسی مرد کا ہونا ضروری ہے۔ زمانہ بہت خراب ہے۔ اسی حوالے سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔“

”چلیں ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی۔“
فون بند کیا تو زیبی نے پوچھا کہ کس کا فون تھا۔ نگینہ نے اسے بھی بتا دیا۔ زیبی مسکرا اٹھی۔
”امی آپ برا نہ مانیے گا لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ انکل نصر اللہ آپ کو پسند کرتے ہیں۔“
”چپ بے شرم! کیسی باتیں کر رہی ہو۔“ نگینہ ہنس پڑی۔
”بلکہ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ سے محبت کرنے لگے ہیں اور آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔“
”دیکھو لڑکی حد میں رہو، بہت باتیں کرنے لگی ہو“ نگینہ نے ڈانٹا مگر انداز ڈانٹنے والا نہیں تھا۔

”بس بس میں سمجھ گئی۔ آپ بھی انہیں پسند کرتی ہیں۔ دیکھیں امی! میں تو آپ کی سہیلی بھی تو ہوں ناں اور کوئی دودھ پیتی بچی نہیں ہوں سولہ سال کی ہوں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں۔ ورنہ آپ نے کہنا تھا میری بچی میں تمہیں پال لوں تو یہی بہت ہے۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔ آپ نے جو باتیں بتائی ہیں ایسا لگتا ہے کہ نصر اللہ انکل آپ سے شادی کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپ چاہیں تو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

”سکول میں تقریریں کرتے کرتے گھر میں بھی تقریریں کرنے لگی ہو۔ چپ رہو پتا نہیں انہوں نے کیا بات کرنی ہے اور تم بھی ناں“ نگینہ نے اسے چپ کرا دیا۔ لیکن وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہی بات ہو۔ اسی لیے شام کو وہ مہینوں بعد اچھی سی تیار ہوئی۔ اسے زیبی کے ایک دو مذاق بھی برداشت کرنے پڑے۔ آخر بیل بجی اور نصر اللہ اندر آیا۔ آج تو نصر اللہ بھی چمک رہا تھا۔ داڑھی پر تازہ کلر کیا گیا تھا۔ نیا شلوار قمیص، اس پر کالی واسکٹ۔ کپڑوں پر خوب پرفیوم چھڑکا گیا تھا۔

”آئیے آئیے! آپ ہی کا انتظار تھا۔“ نگینہ مسکرائی۔
”اور دیکھیے میں آ گیا۔“
ابھی لاؤنج میں بیٹھے ہی تھے کہ زیبی سموسے پکوڑے بسکٹ وغیرہ لے کر آ گئی۔

”ارے اتنی جلدی! کیا یہ سب کچھ پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔“ نصر اللہ نے زیبی کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”اور نہیں تو کیا۔ مجھے پتا تھا کہ آپ آ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ میں نے خود بنایا ہے۔“ زیبی بولی۔

”ارے واہ! پھر تو میں انگلیاں چاٹتا رہ جاؤں گا۔“ نصر اللہ نے فوراً سموسے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ زیبی بھی وہیں بیٹھ گئی۔ نصر اللہ نے سموسوں اور پکوڑوں کے ساتھ خوب انصاف کیا اور زیبی کی بے حد تعریفیں بھی کیں۔ زیبی پھولے نہیں سما رہی تھی۔ آخر نگینہ نے اسے خود کہا کہ جا کر پڑھ لو۔

”پڑھ لوں گی ناں۔ ابھی یہیں بیٹھنے دیں۔“ وہ بھی تنگ کرنے پر آمادہ تھی۔
”سمجھا کرو، نصر اللہ صاحب نے ضروری بات کرنی ہے۔“ نگینہ نے آنکھیں نکالیں۔
”اوکے اوکے۔ جاتی ہوں“ زیبی مسکراتے ہوئے چلی گئی۔
”جی نصر اللہ صاحب! اب بتائیے۔ آپ کیا کہہ رہے تھے۔“
نصر اللہ نے ایک گہری سانس لے کر چہرے پر سنجیدگی طاری کی۔ پھر کہنا شروع کیا۔

”دیکھیے! بات یہ ہے کہ اچھا برا وقت انسان پر آتا ہے۔ یقین کیجیے آپ کے حالات پر دل بہت افسردہ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں دو عورتیں اکیلی رہتی ہوں تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ شریفوں کا محلہ ہے لیکن کسی وقت بھی آپ پر ایسے گندے الزامات لگ سکتے ہیں کہ آپ کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہو۔ لیکن میں ایسا نہیں چاہتا۔ میری نیت صاف ہے۔ میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے میں شادی شدہ ہوں میرا ایک بیٹا ہے۔ لیکن دین بھی اجازت دیتا ہے تو حرج کیا ہے۔ میں اپنا رشتہ پیش کرتا ہوں حتمی فیصلہ تو آپ نے ہی کرنا ہے۔“

”نصر اللہ صاحب! میں آپ کے جذبات کی قدر کرتی ہوں۔ لیکن یہ بڑا مشکل فیصلہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میری بیٹی زیبی میٹرک میں ہے، سولہ برس کی ہے۔ اس کے سوا میرا اور کوئی نہیں۔ مجھے سوچنے کا موقع دیں۔“

”زیادہ مت سوچیں، زیادہ سوچنے سے بھی انسان غلط فیصلہ کر لیتا ہے، بس آپ اللہ کا نام لے کر ہاں کر دیں۔ باقی رہی زیبی کی عمر کی بات تو سولہ برس کی عمر شادی کے لیے نہایت مناسب ہے اور میں زیادہ عمر کا نہیں ہوں۔ دیکھنے میں زیادہ لگتا ہوں لیکن عمر انچاس برس ہے۔ اور پھر اس شادی سے آپ کے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ گھر بھی یہی رہے گا۔ سارا خرچ میرے ذمے ہو جائے گا۔ میں انصاف کے ساتھ ایک دن اس گھر میں اور ایک دن پہلے گھر میں گزارا کروں گا۔ آپ کو بھی سلائی سے کمائی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ آرام سے ٹی وی دیکھا کرنا۔ زیبی سے اچھے انداز میں بات کیجئے گا۔ اونچ نیچ سمجھا کر منا لیجیے گا۔ بس یہی عرض تھی آپ سے۔“ نصر اللہ یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گیا۔ نگینہ پتھر کے بت کی طرح ساکت اسے دیکھ رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply