بے حیائی عورت سے ہی وابستہ کیوں؟


وہ ایک سوال پھنسا ہوا ہے دماغ میں، نکالنے کی بہت کوشش کی مگر نکال نہیں پائی۔ اس لیے جان کی امان چاہتے ہوئے وہ سوال اس کالم کی صورت میں پوچھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ میرے خیال میں جب لوگ کسی کی پیروی کرتے ہیں تو غیر محسوس طور پر اس کے کہے کو تسلیم کرتے ہیں تو کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ نے لاکھوں کروڑوں زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے؟ آپ کے چاہنے والے اپنی زندگی میں شامل خواتین کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

سوال۔ آپ کہتے ہیں کہ پاکستانی عورتیں بے حیا ہیں اسی لیے عذاب آتے ہیں؟

مجھے پوچھنا یہ ہے کہ جب تین چار سال کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے اور ان کے معصوم جسموں کو جلا دیا جاتا ہے تب عذاب نہیں آتے کیا؟

جب معاشرے کے شرموں والے مرد لونڈے بازی کرتے ہیں تب عذاب نہیں آتے کیا؟
جب کسی پنچایت کے حکم پر عورت کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی ہوتی ہے تب عذاب نہیں آتے کیا؟
جب عورت کو پدرشاہی معاشرے کی نافرمانی پر زندہ درگور کر دیا جاتا ہے تب عذاب نہیں آتے کیا؟
جب عورت کو عریاں کر کے شہر بھر میں گھسیٹا جاتا ہے تب عذاب نہیں آتے کیا؟

جب معصوم صورت لڑکوں کے حصول میں ناکام لونڈے باز انہیں جنسی تشدد کر کے قتل کر دیتے ہیں تب عذاب نہیں آتے کیا؟

جب حصول حلال رزق کے لیے گھر سے نکلی ہوئی عورت کو چکلے پر بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے تب عذاب نہیں آتے کیا؟

اس وقت عذاب نہیں آتے کیا جب اللہ کی تخلیق کو تیزاب سے جلا کر اپنی مردانگی کا چراغ جلایا جاتا ہے؟

اس وقت عذاب نہیں آتے کیا جب عورت کو نکاح کے نام پر شہوت پسندی کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے اور سفلی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھوکا اور تنہا رکھا جاتا ہے؟ نکاح جسے اللہ کی رضا سے مشروط کیا جاتا ہے کہ جس نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا، اس نکاح کی بے حرمتی پر عذاب نہیں آتے کیا؟ شاید عذاب آتے ہیں مگر صرف عورت پر۔

جب معاشرے میں چار سال کی بچی سے لے کر اسی سال کی بزرگ عورت کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو عذاب نہیں آتے کیا؟

اس وقت عذاب نہیں آتے کیا جب غیرت کے نام پر عورت ہی قتل کر دی جاتی ہے جبکہ اپنے گھروں میں دوست، کزن کے روپ میں شیطانوں کو داخل ہم خود کرتے ہیں۔

صفیہ حیات کہتی ہیں،
چاردیواری میں
عصمت دری کرنے والے
نوچتے کھسوٹتے درندوں سے تو بے حیائی نہیں پھیلتی
۔
خدا کے نائب
خوبصورت چہروں کو
پیار سے دیکھتے
سیلفی بنوائیں
یا
حوروں کے مومی جسموں کے دائروں اور قوسوں کے تصوراتی نقشے مزے لے کر بیان کریں
تو کوئی آفت نہیں آتی
۔
مگر
جینز پہننے والی
دفتروں میں کام کرتی
گھر کا با ر اٹھاتی لڑکیاں ضرور
بے حیائی کا سبب ہیں۔

معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو عورت سے نتھی کرنا، آپ کی ذہنی پسماندگی تو ہو سکتی ہے، مذہبی اساس کی عکاسی نہیں۔ جس مذہب کی بنیاد پر آپ مولانا یا عالم دین کہلاتے ہیں، اس نے مرد اور عورت کے لیے شرم و حیا اور پاکدامنی کے پیمانے ایک جیسے رکھے ہیں۔ مگر جس خطے سے ہم تعلق رکھتے ہیں وہاں ہر برائی کی جڑ عورت قرار دی جاتی رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کر لیں کہ ہمیں مذہبی فکر کے مطابق جینا ہے یا علاقائی تہذیب کے ساتھ۔

دوسری جانب آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عورت ایک سوچ بھی ہے، سانس لیتا ہوا ایک وجود ہے۔ جس کی کوکھ سے پیغمبروں اور اولیاء نے جنم لیا۔ جس نے دنیا کے عظیم ترین مردوں کی پرورش کی۔ یہ ہم سب جب تعلیم کی اہمیت پر نوٹ لکھتے ہیں تو 99 فیصد اس جملے سے آغاز کرتے ہیں یا پھر یہ جملہ ان کی تحریر کا حصہ ہوتا ہے کہ ”ماں کی گود سے گور تک تعلیم حاصل کرو“ ۔ تو ماں ایک عورت ہی ہے نہ، کوئی خلائی مخلوق تو نہیں۔

ماں، بہن، بیٹی، بیوی، دوست، کولیگ، ہر تعلق میں قابل احترام ہے اور اگر وہ آپ کی معشوق ہے تب بھی۔ عزت اس کا بنیادی اور اولین حق ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹ کر ایک گھر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ مرد کی وحشت کو سنبھالتی ہے۔ اسے پروان چڑھاتی ہے۔ وہ مرد جب اس کا دل کسی عورت پر آ جائے تو اس کے حصول میں ہزار جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتا۔ جھوٹ کے راستے پر مرد چلتا ہے عورت نہیں اور سچ سامنے آنے پر اپنا شرعی حق استعمال کرنے والی عورت ہی بے حیا کہلاتی ہے اور وہ جھوٹا عیاش مرد پارسائی کا سرٹیفیکیٹ لیے ایک اور شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

مرد کے ماضی کی طرح عورت کا بھی ایک ماضی ہے۔ کہیں اسے اپنوں کی بے اعتنائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کہیں محبت کے اعتبار میں سب کچھ لٹا بیٹھی۔ کہیں اسے دھوکے سے لوٹ لیا گیا وہ بھی بنام نکاح، تو کہیں جبرا اس کے وجود اور روح کو تار تار کیا گیا۔ تو کیا اس کی کسی غلطی یا دوسروں کی غلطیوں کی سزا اسے دیتے ہوئے اس سے جینے کا حق چھین لیں گے؟ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہر انجام سے ایک آغاز جنم لیتا ہے اسی سوچ کو عورت سے وابستہ کیجئے۔

آپ مرد ہیں ایک عام انسان کوئی خدا نہیں جو عورت کی سنی، ان دیکھی غلطیوں پر جزا و سزا کے ذمہ دار بن جائیں۔ ہر انسان انفرادی طور پر اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب دہ۔ میں ملیحہ سید ذاتی طور پر اس بات کا یقین رکھتی ہوں کہ ایک مرد، کے برے کردار کی سزا پورے معاشرے کو دینے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر کسی نے میرے لیے برا سوچا۔ یہ برا کرنے کی کوشش کی۔ تو اس نے مجھے وہ دیا جو اس کے پاس تھا۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے چند افراد پورے معاشرے کا تعارف نہیں ہو سکتے۔ یہی نکتہ ہمیں یاد رکھنا ہے جو ہم بھول جاتے ہیں اور پورے معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

دراصل عورت کے بارے میں یہ نظریات جہالت پر مبنی ہیں۔ دور جہالت اور دنیا کی مختلف تہذیبوں میں عورت کو ہمیشہ نچلا درجہ دیا گیا ہے مگر یہ اسلام ہے جس نے عورت کی عزت و تکریم پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا اور اسے سماجی بربریت سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس عظیم مذہب کا حصہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا مذہب مجھے شعور کی آبیاری کے لیے تعلیم حاصل کرنے، آگے بڑھنے اور اپنی مذہبی احکامات کی روشنی میں کام کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔

میں جس عظیم عورت کو آئیڈلائز کرتی ہوں وہ حضرت خدیجہ رضی تعالیٰ عنہ ہیں۔ ان کا کردار، ان کی شخصیت ہمارے لیے مشعل راہ ہونی چاہیے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک تاریک معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے حضرت خدیجہ رضی تعالیٰ عنہ نے اپنے لیے ایک شریف النفس اور پاکیزہ مرد کی خواہش کی اور صادق و امین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ جن کی پاکیزگی اور پارسائی کی قسم مکہ کا ہر فرد کھاتا تھا۔

لیکن ہمارے معاشرے میں ایسا سوچنا بھی غلط ہے جس کی وجہ اس خطے کی ابتدائی تاریخ ہے۔ وہ کلچر ہے جس پر برصغیر کا سماجی ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اس لیے بے حیائی، نحوست کا دھبہ ہمیشہ عورت کے سر رہا جبکہ عورت کی عزت پامال کرنے والو کا شملہ ہمیشہ اونچا رہا۔

میں اس آدمی کی زبان
کاٹ دینا چاہتا ہوں
جس نے پہلی بار
پاؤں چاٹنے کی روایت قائم کی
میں اس لڑکی کے ہاتھ
قلم کرنا چاہتا ہوں
جس نے پہلی بار
ایک مرد کے پیروں کو چھوا
اس ماں کو سنگسار کرنا چاہتا ہوں
جس نے بیٹی کے خواب پھاڑ کر
بیٹے کی کتابوں پر کور چڑھائے
اور بیٹی کو بدبودار شوہر دیتے ہوئے
بیٹے سے آتی کوٹھے کی خوشبو
نظر انداز کردی
اس باپ کو
کوڑے کے جلتے ہوئے ڈھیر میں
دبا دینا چاہتا ہوں
جس نے اپنے بستر میں
ایک کنواری لڑکی حاملہ کی
اور بیٹی کو
غیرت کی تیلی سے پھونک دیا !

Facebook Comments HS