کیا عورت کی آزادی شیطانی جال ہے؟
جنوری 2018 میں بی بی سی چائنہ کی ایڈیٹر کیری گریسی نے استعفی دے دیا ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے ہم منصب مرد ساتھیوں سے کم تنخواہ دی جا رہی تھی۔ یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں تھا انہی باتوں پر تحریک آزادی نسواں فیمینزم کھڑی ہوئی تھی۔ اگر اکیسویں صدی میں برطانیہ جیسے ملک میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے تو یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ فیمینزم کی تحریک کا نعرہ ہی یہ ہے کہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں۔
قدیم یورپ میں جن خواتین کی شادی نہ کرنی ہوتی تھی انہیں کانونٹ بھیج دیا جاتا تھا، دلچسپ امر یہ ہے کہ لڑکیوں نے لکھنا پڑھنا سیکھا اور سوچنا شروع کیا اور فیمینزم کی ابتدا وہیں سے ہوئی۔ اس وقت چرچ میں خواتین کا سوال کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا عام روایت یہی تھی کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے مردوں سے مذہبی معاملات میں سوال جواب کر لیں۔
چرچ کا بیان کردہ اس زمانے کا سچ یہی تھا کہ عورت دماغی طور پر کمزور ہے، اس کا یہی کام ہے کہ وہ خاموشی سے سنے اور سیکھنے کی کوشش کرے۔ مرد کو سربراہ بنایا گیا ہے کیونکہ عورت کمزور ہے۔ ملکہ الزبتھ کے بارے میں کہا گیا کہ ”ان میں عورتوں جیسی دماغی کمزوری نہیں تھی“ ملکہ الزبتھ نے خود فوج کی ایک ٹکڑی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگرچہ میں جسمانی طور پر کمزور ہوں مگر میرا دماغ مردوں جیسا ہے اور وہ بھی انگلینڈ کے بادشاہ جیسا“ ۔ ایک اور گناہ جس کی وجہ سے عورت معتوب ٹھہرائی گئی تھی وہ آدم کو باغ عدن سے نکلوانے کا جرم تھا۔ عورت اس جرم سے پیدائشی طور پر بندھی تھی اور اس سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔ حمیرا گل کی ایک نظم۔
رب نے تو اپنی مہربانی کی
باوا آدم کو حوا رانی دی
ابن آدم نے کام خوب کیا
آبگینوں سی نازک حوا پر
سب گناہوں کا بوجھ ڈال دیا
جب عورتوں نے سوچنا شروع کیا تو وہ ا س نتیجے پہ پہنچیں کہ عورت دماغی طور پر کمزور نہیں ہے بلکہ عورت کو تعلیم سے دور رکھ کے مردوں نے ان پہ حکومت کی ہے۔ سترہویں صدی عیسوی میں خواتین کو جادوگری کے الزام میں زدوکوب کیا گیا اور بیدردی سے قتل کیا گیا۔ عورتوں نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مرد مٹی سے بنا ہے جب کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی اس لئے عورت مرد سے کمتر کیسے ہو سکتی ہے۔ (یہ اس وقت کی یورپی خواتین کی دلیل تھی جس سے اب شاید وہ خود بھی متفق نہ ہوں ) اس کے علاوہ اگر مرد کو سربراہ بنایا گیا ہے تو پھر شیطان کے بہکاوے میں آ کر ممنوعہ پھل کھانے کی ذمہ داری عورت کی بجائے مرد پر عائد ہوتی ہے۔
تاریخ میں جب نامی گرامی مرد فتوحات کر رہے تھے، ادب تخلیق کر رہے تھے اور سائنسی ایجادات کر رہے تھے اس وقت یقیناً خواتین بھی کوئی نہ کوئی کام کر رہی تھیں مگر وہ تاریخ کے پنوں پر محفوظ نہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق زرعی دور کے شروع میں چونکہ خواتین کو حمل سے گزرنا پڑتا تھا اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی اسی لئے شاید مردوں اور عورتوں نے آپس میں کام بانٹ لئے مگر ایسا نہیں تھا کہ خواتین صرف گھر کے کام کرتی تھیں بلکہ وہ کھیتی باڑی میں بھی شانہ بشانہ کام کرتی تھیں۔
آج اکیسویں صدی میں کوئی صاحب علم خواتین کو گناہ گار نہیں ٹھہرا سکتا اور نہ ہی انہیں کم علم یا کمزور دماغی کا طعنہ دے سکتا ہے۔ خواتین نے اپنے حقوق کے لئے ایک لمبی اور صبر آ زما جنگ لڑی ہے۔ مگر یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ابھی بھی بہت سے ملکوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی آزادی نہیں ابھی بھی انہیں جائیداد میں پورا حصہ نہیں ملتا، تعلیم، صحت اور روزگار میں انہیں پورا حصہ نہیں ملتا اس لئے ابھی یہ لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ بہت سی خواتین اور مردوں نے فیمینزم کی تحریک سے ہونے والے فوائد سے لطف اٹھایا ہے مگر وہ اب بھی جانے انجانے میں اس تحریک کی مخالفت کرتے ہیں اسے
Backlash of Femininsm
کا نام دیا گیا ہے، عورتوں کے حقوق بھی انسانی حقوق ہی ہیں اور ہمیں یہ چیز سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نعرے لگانے والے لوگ صرف اور صرف دنیا میں فساد پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں یا پھر وہ لوگ جو یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ آج بھی کسی بھی معاملے میں عورت کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی ہے اور عورت کو بہت اعلیٰ مقام دیا جا رہا ہے تو پھر کیوں نا یوں کر دیکھیں کہ معاشرے میں جو جگہ عورت کو حاصل ہے وہ مر دکو دے دی جائے اور جو مرد کامقام ہے وہ عورت کو دے دیا جائے کیا اس پر وہ راضی ہو جائیں گے؟ حمیرا گل کی ایک نظم۔
میری چھت پر آنے والے کئی پرندے
بالکل میرے جیسے ہیں
پہلے مجھ کو دیکھ کے سارے ڈر جاتے تھے
پاس آنے سے اڑ جاتے تھے
کچھ دن ان کو دانا ڈالا
پیار سے ان کو یقین دلایا
پاس بلایا، دوست بنایا
اب سب بھول کے پگلے پنچھی
میرے ہاتھ پہ آبیٹھے ہیں
اب چاہوں تو انہیں پکڑ کر
قفس میں ڈالوں
یا چاہوں تو میں پر کاٹوں
اور پھر ان کو
اڑنے کا سندیس سناؤں
جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے
ان کے ساتھ وہی دہراؤں؟
ہائے توبہ میں مر نہ جاؤں
اور جہاں تک آزادی نسواں کے شیطانی جال ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے تو عرض یہ ہے کہ جو چیز ہمیں سمجھ نہ آئے وہ شیطانی جال ہے اور ہمیں مشکل سے ہی کچھ سمجھ آتا ہے۔


