اخباری صنعت کی زبوں حالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی گاؤں کے ایک چھوٹے سے بازار میں صبح صبح ایک شخص نے ایک اخبار پکڑا ہوا تھا اور اس کے گرد 15 سے 20 لوگ جمع تھے وہ اس اخبار کی شہ سرخیوں کو بلند آواز میں پڑھ رہا تھا اور سب لوگ گویا اس قدر دلچسپی سے اس کو سن رہے تھے کہ جیسے اخبار پڑھنے والا ایک کلاس کا استاد یا پروفیسر اور سننے والے طالبعلم ہیں وہ شخص اخبار کے تمام صفحات کی شہ سرخیاں پڑھ کر فارغ ہوجاتا ہے پھر وہ تمام لوگ ان شہ سرخیوں پر اپنے اپنے علم کے مطابق تبصرہ کرتے ہیں اس دوران ایک بچہ آتا ہے اور اخبار مانگتا ہے تاکہ کچھ فاصلے پر موجود کچھ لوگ پھر اس اخبار کو پڑھ اور سن سکیں۔

یہ حالات صرف گاؤں کے نہیں بلکہ قصبوں اورشہروں کے بھی تھے شہروں میں 20 میں سے 5 یا 8 گھروں میں اخبارات منگوائے جاتے تھے اور باقی محلہ دار تو بس اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب فلاں کے گھر سے بچے کو بھجوا کر اخبار منگوایا جائے اور حالات حاضرہ کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے پھر علاقے میں حجام کی دکان پر تو اخبار آتا ہی تھا محلہ داروں کی جانب سے اخبار تک رسائی نہ ملنے کی صورت میں لوگ سیلون جاکر بال سیدھے کرنے کے بہانے اور حجام سے حال احوال کے بعد اخبار کی شہ سرخیوں کو گویاپڑھ ہی لیتے تھے گویا زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا اخبار پڑھنے اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے کو اعزاز سمجھتا تھا اور یہ اعزاز اس وقت ہر کسی کو ملتا بھی نہیں تھا۔

جی ہاں! یہ آج کا وقت نہیں! یہ تو 20 سے 25 سال پرانا وقت ہے۔ بازاروں میں اخبار فروش بلند آواز میں اخبار میں چھپی ہوئی سرخیوں کو بلند آواز میں پڑھ پڑھ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے اخبار بیچا کرتا تھا یہ ایک فن تھا اور بلاشبہ اخبار فروش فنکار ہوتے تھے جو سنسنی پھیلائے بغیر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرکے اخبار فروخت کرتا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب اخبار بینی ہر پڑھے لکھے مرد یا خاتون کی ضرورت اور مشغلہ ہوا کرتی تھی۔

ایک واقعہ، اجلاس یا کوئی سرکاری اعلامیہ جاری ہونے سے لے کر آپ کی ناشتے کی میز پر اخبار میں چھپی ہوئی خبر پڑھنے کے بیچ ایک صنعت ہوا کرتی تھی جو آج بھی زندہ تو ہے لیکن شاید مصنوعی سانسیں لے رہی ہے۔ صحافی قلم کا استعمال کرتے ہوئے واقعہ کو ایک کاغذ پر تحریر کرتا تھا پھر کاتب حضرات اس کو ٹریسنگ پیپر پر لکھا کرتے تھے کیا خوب فن ہوتا تھا پورا اخبار ہاتھ سے لکھا جاتا تھا اور چھپائی کے بعد معلومات عامہ کا بہت بڑا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

پھر کمپیوٹرکا دور آیا اور کاتب حضرات کے علاوہ اخباری صنعت کا تمام طبقہ اپنے فرائض بطریق احسن اور بطریق سہل اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا رہا۔ عوام بھی اخبار اسی شوق سے پڑھتے رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگوں نے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی ہر 15 منٹ میں بریکنگ نیوز کی آواز، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور ویٹس ایپ جیسی چیزوں کا نام تک نہیں سنا تھا اور نہ ہی ایسا کچھ سوچا تھا یہ سب ٹیکنالوجیز تو اس وقت تصورات کی حد تک بھی نہیں سوچی جاسکتی تھیں۔

وقت گزرتا گیا جدت آتی چلی گئی اکیسویں صدی کے اوائل میں پرائیویٹ نیوز چینلز کی ایک دوڑ شروع ہوئی جس نے دن بدن ترقی ہی کی ایک چینل سے دو، دو سے چار اور پھر انگنت چینلز۔ جدیدیت اور ٹیکنالوجی کی افادیت سے انکار کرنا آج کے دور میں ممکن نہیں کیوں کہ بلاشبہ اس نے ہماری زندگی آسان ہی کی ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی اس یک طرفہ جنگ میں شاید حالات ایسے پیدا ہوتے چلے گئے کہ پرنٹ میڈیا کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اسے ایک بھرپور توانا انڈسٹری الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ کشتی کے لئے اکھاڑے میں اترنا ہی پڑا اور بالآخر 10 سے 15 سال اخبارات، جرائد اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے ہر شعبے نے اپنی بقا کی جنگ لڑی لیکن اب شاید اس کی بقا مشکل ہوتی جارہی ہے۔

نیوز چینلز کی بھرمار کے بعد جن خبروں کو پڑھنے کے لئے لوگ صبح سویرے اخبار والے انتظار کیا کرتے تھے اب وہ خبر یں چینلز پر بڑی تفصیل سے نشر ہوجاتی ہیں بلکہ واقعہ رونما ہو یا کوئی اجلاس ہو یا کوئی بین الاقوامی ایونٹ اس کی خبر فوراً نشر کردی جاتی ہے اور اگلی صبح سے قبل تو چیدہ چیدہ موضوعات پر ایک ایک گھنٹے کے تبصرے بھی نشر ہوجاتے ہیں تو اخبارات معلومات عامہ کا ذریعہ تو بالکل بھی نہیں۔

اخباری صنعت سے وابستہ لوگوں کی جنگ صرف نیوز چینلز سے نہیں تھی بلکہ اخباری صنعت میں ہی جدید مشینری نے بھی ان کے پیٹ پر لات ماری۔ اخباری صنعت ایسی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی رہی کہ ہر سیڑھی پر ملازمین کی تعداد کم ہوتی چلی گئی اور وقت آگیا کہ اب 1990 میں 100 افراد کے ہاتھوں چھپنے والا اخبار 5 سے 8 لوگ بہتر اور کم وقت میں تیار کرلیتے ہیں۔

صحافت سے منسلک وہ لوگ جو فیلڈ میں رپورٹنگ کرتے تھے آج کے جدید دور میں ان میں سے کچھ لوگ تو ٹی وی چینلز میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوہی جاتے ہیں مگر وہ لوگ جو دفتر میں مختلف مہارتوں کے ذریعے ایک اخبار کو اخبار بین کی دہلیز تک پہنچانے میں اپنی فنکاری کیا کرتے تھے وہ تو اب بے روزگاری کے خطرے میں لاحق امراض قلب کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ یہ طبقہ عمر کے اس حصہ میں ہے جہاں وہ اپنی فنی مہارت کو کسی دوسری جانب منتقل نہیں کرسکتے یہ وہ طبقہ ہے کہ جس نے 20 سے 40 سال اسی صنعت کو اپنا خون پلایا ہے۔

موجودہ دور میں اخبار کی افادیت شاید بالکل ہی ختم ہوجاتی اگر سرکاری اشتہارات کا سہارا نہ ہوتا۔ اب اخباری صنعت کی بقا صرف انہیں اشتہارات کی وجہ سے ہے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ساری چیزیں بھی اخبارات سے سوشل میڈیا یا ویب سائٹس پر پبلش ہونا شروع ہوجائے گی شاید اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا لیکن وہ وقت 5 یا 10 سال سے زیادہ نہیں ہوگا۔

اخبار بینی کے ذریعے معلومات عامہ کا جو ذخیرہ ہم جمع کرتے تھے اور وہ معلومات جتنا وقت ہمارے ذہن میں رہتا تھا اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے اخبارمیں پڑھا گیا 20 سال پرانا آرٹیکل یا کوئی غیر معمولی خبر اور اس کی سرخی شاید آج بھی ہمیں لفظ بالفظ یاد ہوگی لیکن دو گھنٹے قبل ہی ٹی وی پر کسی خبر کی سنسنی اور مختلف چینلز پر ایک ہی خبر کو مختلف انداز سے پیش کرنے کے بعد شاید ہی آپ کو یاد رہتی ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب اخبار ماضی کا حصہ بن کر رہ جائیں گے اور آنے والی نسلیں یاد کیا کرینگی کہ ایک ایسا نظام ہوا کرتا تھا کہ کاغذکے ٹکڑوں پر تصاویر اور خبریں لکھ کر گھروں اور دفتروں میں دی جاتی تھیں شاید اس وقت آنے والی نسلیں اس کو تمسخر میں اڑا دیں اور اگر کوئی بزرگ انہیں یہ بتا دے کہ اخبارات ہاتھ سے بھی لکھے جایا کرتے تھے تو شاید وہ یقین ہی نہ کرپائیں کہ ایسا بھی کچھ ہوتا تھا۔

ہاں! آج کے دور میں بھی ایک طبقہ ایسا ضرور ہے جو اخبارات کو باقاعدگی سے پڑھتا ہے اخبار بینی ان کی تو جیسے ضرورت ہے۔ دنیا کی ترقی اپنی جگہ لیکن اخبار بینی اور کتب بینی کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ بہت کی صنعتیں جدیدیت کے اصولوں پر استوار ہوجاتی ہے اسی طرح معلومات عامہ کا سب سے بڑا ذریعہ اخبار بھی وقت کے ساتھ ساتھ جدیدیت کی راہ پر چلتا رہا اور آج وہ ایسے مقام پر کھڑا ہے کہ شاید ہی ملک کے کسی بھی شہری کو اخبار پڑھنے کی ضرورت پیش آتی ہو جو پڑھتے بھی ہیں تو عادتاً ہی پڑھتے ہیں۔

ایک نظر ترقی یافتہ ممالک پر بھی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں جو شاید ٹیکنالوجی کے حساب سے ہمارے ملک سے آگے ہی ہوں گے لیکن وہاں اخبار بینی کو آج بھی وہی مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے اخباری صنعت بھی ترقی کرتی جارہی ہے۔ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں اخباروں کی چھپائی شاید آج بھی اسی تعداد میں ہوتی ہے جتنی 30 سال پہلے ہوا کرتی تھی لیکن انہوں نے اپنے قارئین کی تعداد بڑھانے کے لئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا اور ویب سائٹس پر بھی اپنے اخبارات کو پبلش کرنا شروع کردیا ایسا ہمارے ملک میں بھی کچھ اخبارات کررہے ہیں لیکن تمام اخبارات کی رسائی نہیں ہو پائی۔

ترقی یافتہ ممالک کے اہل اختیار شاید اس کی افادیت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں اخبار بینی ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے کوئی خبر پڑھ سکتے ہیں اور بار بار پڑھ سکتے ہیں جبکہ نیوزچینلز پر آپ کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں۔ اخباری صنعت صرف خبریں عوام تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میں معلومات عامہ، ادب و فکر، بچوں کے لئے فکشن سٹوریز وغیرہ کے لئے خصوصی صفحات چھاپے جاتے ہیں اور ایک اصطلاح عوامی اشتہارات کی بھی موجود ہے جس کی جگہ نیوز چینلز میں آج تک تو نہیں بن سکی بہت کم پیسوں میں آپ اپنے چھوٹے اشتہارات اخبار میں چھپوا کر ان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچاسکتے ہیں لیکن ٹی وی چینلز پر ایسا ممکن ہی نہیں کیوں کہ اگر آپ اپنے کسی کاروبار کا اشتہار چینل پر دیتے ہیں تو اس کا خرچہ دس گنازیادہ ہوتا ہے اور چھوٹے کاروبار والے حضرات کی جانب سے وہ ایک یا دو بار ہی چلوایا جاتا ہے جس کو زیادہ لوگ دیکھیں نہ دیکھیں وہ تو اس اشتہار دینے والی کمپنی یا شخصیت کی قسمت ہے ہاں اگر اخبار میں کوئی عوامی اشتہار دیا جائے تو وہ ایک دفتر کے سرکاری اخبار سے بھی شاید سیکڑوں لوگ دیکھ کر استفادہ کرسکتے ہیں۔ اخبار بینی سے دوری اور نیوز چینلز پر انحصار کا انوکھا رجحان ترقی یافتہ ممالک میں اس شدت سے دیکھنے کو نہیں ملتا جتنا ہمارے ہاں ہے۔

اس تاریخی صنعت کو دفن ہونے سے بچانے کے لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے حکومتی سطح پر احکامات جاری کیے جائیں کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں لائبریری میں شہر کے تمام بڑے اخبارات منگوائے جائیں اوراساتذہ و طلبا و طالبات کو پابند کیا جائے کہ روزانہ 20 سے 30 منٹ لائبریری میں جاکر اخبارات کا مطالعہ کریں اور ہفتہ وار ایک بحث مباحثہ کا اہتمام کیا جائے جس میں گزشتہ ہفتے کے تمام واقعات پر تخلیقی بحث کرائی جائے اور آنے والے ہفتہ کے بارے میں طلبا کی رائے کی جائے اور تحریر کیا جائے پھر اگلے ہفتہ اس تحریر کا اخباری رپورٹس، تجزیوں سے موازنہ بھی کیا جائے اس طرح ہم اسکول کالج کی سطح سے تجزیہ کاروں کی پرورش کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کیوں نہ نصاب میں اس صنعت کی تاریخ اور ارتقا سے متعلق کوئی ایک باب شامل کیا جائے بلاشبہ ماس کمیونیکیشن کا شعبہ آج بھی زندہ ہے لیکن پرائمری اور ہائر ایجوکیشن کی سطح پر کیوں نہ طلبا کو ہفتہ میں ایک یا دو روز اخبار بینی کرائی جائے تاکہ انہیں اس کی افادیت کا اندازہ ہوسکے۔ حکومت اخباری مالکان کو پابند کرے کہ وہ اپنے کارکنوں کو قوانین کے مطابق معاوضہ دے اور اپنے کارکنوں کو جاب سیکورٹی بھی دے تاکہ اخباری صنعت سے منسلک لوگوں کی بے روزگار ہونے کے خدشے کے لے کر پائی جانی والی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply