فردوس عاشق اعوان اور پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان تلخ کلامی کی اندرونی کہانی؟
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کی ممکنہ اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ایک میٹنگ کے دوران ملاقات کا پیغام پہنچایا اور پھر اسی ملاقات میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ اعظم خان نے فردوس عاشق اعوان کیخلاف چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے کرپشن کے الزامات بھی لگائے تاہم فردوس عاشق اعوان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور اعظم خان سے کہا کہ میرے خلاف ایسی غلط خبریں، آپ کے دفتر سے پھیلائی جارہی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے اعظم خان سے کہا کہ انہیں وزیراعظم نے معاون خصوصی لگایا، اعظم خان نے نہیں۔ میں وزیراعظم کو ہی جواب دہ ہوں۔ اس کے بعد فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ” مجھے ہٹانے کی خبریں گردش کررہی ہیں”۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ایسا فیصلہ کیا تو بتا دوں گا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالے اہم اجلاس میں فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ اجلاس جیسے ہی ختم ہوا تو اعظم خان نے فردوس عاشق اعوان کو اپنے دفتر بلوایا اور چارج شیٹ پیش کی جن میں پیمرا کی گاڑیوں وغیرہ سے متعلق مختلف آرٹیکلز شامل تھے۔ اعظم خان نے ان سے جواب مانگا تو دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی اور فردوس عاشق اعوان نے موقف اپنایا کہ وہ سیکریٹری کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو جواب دہ ہیں۔ اعظم خان نے کہا کہ پھر ایسی خبریں کون پھیلا رہا ہے؟ جس پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہائوس کے اندر سے بلکہ آپ کے دفتر سے پھیلائی جارہی ہیں۔ ٹی وی چینل نے وزیراعظم ہائوس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس تلخ کلامی کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جہانگیر خان ترین بھی وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان پر انگلیاں اٹھا چکے ہیں۔


