سیاست دانوں کا کٹھ پتلی تماشا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل فرانس میں لاک ڈاؤن ہے اس لیے پچھلے سات ہفتوں سے ہم گھر پر ہی ہیں۔ کام بھی کوئی نہیں تو گھر میں اس طرح سے رہنا ایک مشکل کام دکھائی دیا۔ زیادہ سے زیادہ خبریں ٹیلی ویژن، دوستوں یا پاکستان میں گھر والوں کو فون کر کے کچھ نہ کچھ اپنا وقت پاس کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ بندہ جو آوارہ گرد ہو کبھی گھر میں نہیں ٹکا ہو اس کے لئے سارا دن گھر میں رہنا بہت مشکل کام ہے۔ اس مشکل سے نکالنے کے لئے ایک دوست نے نہایت اچھا مشورہ دیا کہ آپ پاکستانی ڈرامے دیکھو۔

بہت عرصہ ہوا تھا ڈرامے نہیں دیکھے تھے اس لیے ایک، دو، تین کئی ڈرامے دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ڈراموں میں جس کو اچھا دکھایا جاتا ہے وہ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ عام زندگی میں ایسا کردار یا آدمی ملنا نا ممکن ہوتا ہے۔ ڈرامے ہمارے بہت اچھے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن بعض ایسے کردارجو حقیقت سے بہت دور ہوں اس کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب بندہ فارغ ہو تو اس کے ذہن میں بڑے فضول قسم کے سوالات اتے ہیں۔

ابھی میں اس چیز پر سوچ ہی رہا کہ ٹی وی پر کچھ سیاستدانوں کا انٹرویو سن کر ایک نیا سوال ذہن میں آیا۔ کہ اگر یہ سیاست کے بجائے ٹی وی میں اداکاری کرتے تو زیادہ کامیاب ہوتے۔ بلکہ موجودہ بڑے بڑے سٹار تو پیچھے رہ جاتے ان کے مقابلے میں۔ مجھے اس بات پر بڑا افسوس ہوا کہ ہم اپنے ٹیلنٹ کو اس طرح سے برباد کر رہے ہیں۔ اب میں ان دو مسئلوں کے حل کے لئے پاکستانی ٹاک شو دیکھنے لگا کہ وہاں پر معلومات ہوتی ہے شاید میرے سال کا جواب وہاں مل جائے۔

لیکن مجھے تو ٹاک شو بھی ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی سٹیج ڈرامہ چل رہا ہو، ایک دوسرے پر جگتیں ماری جا رہی تھیں۔ معلومات کے بجائے عوام کو کنفیوز کر رہے تھے۔ الجھن اب مزید بڑھ گئی۔ اسی دوران ایک دوست کا فون آیا اس کو دل کا حال بتا دیا کہ اس وجہ سے پریشان ہوں۔ دوست نے کہا اس تمام مسائل کی وجہ عوام ہیں ہم خود ہیں۔ ہم ان سیاستدانوں کو ووٹ دیتے ہیں ان کو آگے لے کر اتے ہیں۔ ہم ایسے ڈرامے دیکھتے ہیں۔ اور ایسے ٹاک شو کو دیکھ کر ان کی ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔

دوسرا ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے ہمارا قانونی نظام میں بڑے مسائل ہیں پیچیدگیاں ہیں۔ انصاف ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ جس کی وجہ سے عوام میں خوف نہیں۔ دوست کی بات سن کر اور پریشانی کا شکار ہوا۔ پریشانی کے حالت میں ٹی وی کھولا۔ ٹی وی پر علما کا انٹرویو سنایا جا رہا تھا کہ کورونا وائرس کے باوجود مساجد ضرور کھلیں گی، لوگ نماز، اور تراویح پڑھنے ضرور ائیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا جہاں دنیا بھر میں تمام مذاہب کے عبادت خانے بند ہیں ہمارے اسلامی ممالک میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے تو ہم کیوں حفاظتی اقدامات اختیار نہیں کر رہے۔

ابھی ایک مسئلے کو بھی سلجھایا نہیں کہ دوسرا تیسرا اور چوتھا مسئلہ آ جاتا ہے۔ پریشانی بڑھنی لگ گئی۔ اگر عوام، سیاستدان، صحافی، جج اور علما سب ہی اس طرح کر رہے ہیں تو کیسے ہمارا ملک چلے گا؟ انہی سوچوں میں غرق تھا کہ ٹی وی پر خبر سنی کو ملی کہ فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر جنرل عاصم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کیا گیا۔ میں سوچنے لگا کہ ہمارے ملک میں اختیار کن کے پاس ہے طاقت کن کے پاس ہے فیصلے کون کرتے ہیں ان سیاستدانوں کو آگے کون لاتا ہے۔

ملک کے اہم عہدوں پر، اہم اداروں پر کن کے لوگ ہیں۔ اصل حکومت تو یہ کر رہے ہیں تو پھر یہ سیاستدان کیوں کٹھ پتلی تماشا کر رہے ہیں۔ آج نہ ہی حکومتی اقتدار والی پارٹی اپنا آئینی کردار ادا کر پا رہی ہے اور نہ اپوزیشن کی پارٹی اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے۔ تو ان حالات میں سیاستدان کب تک کٹھ پتلی تماشا جاری رکھیں گے اور کس قیمت پر؟ بجائے کٹھ پتلی تماشا کے حکومت اصل طاقت کے حوالے کرنا چاہیے۔ پہلے بھی تو یہی لوگ حکومت کر رہے ہیں، تو ان کو سامنے آ کر سب کچھ کرنا چاہیے۔

کیا ضروری ہے کہ کٹھ پتلی تماشا کیا جائے؟ جب تک ملک میں یہ کٹھ پتلی تماشا جاری رہے گا۔ یہ سب کچھ ہو گا جو ہم بھگت رہے ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ پچھلے 72 سالوں سے فوج ہم پر حکمرانی کر رہی ہے۔ لیکن کبھی سوچا ہے کہ کیوں؟ اس کی وجہ یہ سیاستدان ہیں۔ یہ ان کے لئے جگہ بناتے ہیں ان کے لئے قانون بناتے ہیں۔ انہیں اہم سویلین پوسٹوں پہ تعینات کیا جاتا ہے۔ ایسے قوانین اور تعیناتی اداروں کے لیے نہیں، دینے اور لینے والے کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہے اور نہ ہی ان میں آزادنہ فیصلے کرنے کی صلاحیت، ورنہ آج جو ملک میں ہو رہا ہے اس پر کم از کم اپوزیشن کی جماعتیں ضرور آواز اٹھاتی۔ لیڈر ظلم، جبر اور عدم مساوات کے خلاف مزاحمت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply