مثبت رپورٹنگ

ہم لوگ بحیثیت قوم انتہائی نا شکرے ہیں۔ ہر چیز پر تنقید کرتے ہیں کسی بات پر خوش نہیں ہوتے۔ کوئی سیاسی لیڈر جھوٹ بولے اور اس پر غصہ آئے تو بات تو سمجھ آتی ہے لیکن اگر کوئی لیڈر سچ بھی بول رہا ہو اور پھر بھی غصہ آئے تو اس پر کیا کہا…

Read more

مداری پنا ترقی کا دشمن ہے

1999 اور 2000 میں جب میں پاکستان نیشنل فٹ بال کا حصہ تھا۔ تو ہم پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں رہائش پذیر تھے۔ روزانہ ہم محتلف کھیلوں کے کھلاڑی آبپارہ مارکیٹ اتے تھے۔ ہم زیادہ تر یا تو کامران ہوٹل میں بیٹھتے تھے یا شیخ تسلیم کے میوزک شاپ پر گپ شپ لگتی۔ کامران ہوٹل کے…

Read more

عمران خان کی تقریر اور ہمارے خارجہ امور

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق حالیہ اقدامات کو عالمی دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام…

Read more

اگر دونوں طرف پاکستان کے بیٹے ہیں تو مکالمہ کیوں نہیں؟

کسی بھی جنگ میں پہلا شکار سچ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، سب ہارتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کودہرانے سے نہیں ان کے ازالہ سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسسز کے درمیان جاری ٹینشن میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔…

Read more

بھلا کٹھ پتلیوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

کسی بھی جنگ میں پہلا شکار سچ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، سب ہارتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کودہرانے سے نہیں ان کے ازالہ سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسسز کے درمیان جاری ٹینشن میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رکن پارلیمنٹ محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں چوکی پر حملہ کیا گیا، پشتون تحفظ موومنٹ کے کا رکنان گرفتار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو چھڑانا چاہتے تھے، اس مقصد کے لئے بویا میں واقع خارکمر چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی۔

Read more

بھلا کٹھ پتلیوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

پچھلی کئی دہائیوں سے جب بھی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے تو تمام سیاسی جماتیں عوام کو مستقبل کے بارے میں سبز باغات دکھاتی ہیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ، مہنگائی کا خاتمہ، مستقبل کے سہانے خواب، ملک کو ترقی کے جانب گامزن کر دیا جائے گا کے نعرے لگتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں حکومت وقت کے کاموں پر تنقید کرتی ہے جبکہ حکومتی پارٹی اپنے اصلاحات اور اور پالیسیوں کا دفاع کرتی ہے۔ الیکشن کے بعد برسر اقتدار پارٹی یہ گردان شروع کر دیتی ہے کہ ملک نازک دور سے دور گزر رہا ہے، پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نئی حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے اور نئی حکومت کو وقت چاہیے، کیوں کہ پچھلی حکومتوں کے ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت کو وقت درکار ہے۔

Read more