ولی ولی کو پہچانتا ہے
پچھلے سال جب میں نے اورینٹ گروپ میں نوکری شروع کی تو ایک دن میٹنگ کے دوران ایک صاحب جانے پہچانے سے لگے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک ریٹائرڈ میجر جنرل ہیں جو جنرل مشرف کے دور حکومت میں 2003 سے 2007 تک ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر تعینات رہے۔ جنرل صاحب اورینٹ گروپ آف کمپنیز میں بطور ڈائریکٹر ہی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
ان کی تنخواہ اور مراعات کا پتا لگانے کے بعد اورینٹ والوں کو داد دینے کا دل کیا۔ کیوں کہ وہ وہاں کام کرنے والے باقی ڈائریکٹرز سے بہت زیادہ تھی اور ویسے بھی اورینٹ والے تنخواہیں کم ہی دیتے تھے۔ اب کوئی تو وجہ ہوگی کہ ایک اتنی بڑی کمپنی نے اتنے اہم عہدے پر اتنی زیادہ تنخواہ اور مراعات کے ساتھ ایک ریٹائرڈ جنرل کو فائز کیا ہوا تھا۔ ظاہر ہے جو فوائد ان سے حاصل ہوتے تھے، باقیوں سے کہاں ملتے ہوں گے۔
یہ کہانی مجھے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے پر تعیناتی سے یاد آئی۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ عاصم باجوہ صاحب کچھ زیادہ ہی قابل اور ذہین ہیں کیونکہ اس سے پہلے وہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور ایک خطیر رقم بمد ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں۔ اب ان کو وزیراعظم کے معاون خصوصی کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس عہدے پر ان کی تقرری اعزازی ہو گی۔
اب یار دوست ان کی اس تعیناتی کو لے کر فضول میں سیخ پا ہو رہے ہیں کہ کیا سویلین لوگوں میں ایسا کوئی بھی بندہ نہیں ہے جو کہ اس عہدے کے لیے اہل ہو سکے۔ تو جناب زیادہ سیخ پا ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بالکل حقیقت ہے کہ قابل صرف ہمارے فوجی بھائی ہی ہوتے ہیں اسی لیے تو ریٹائر ہوجانے کے بعد بھی کسی اہم عہدے کے لیے ان کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آرہا تو کچھ نام بتا رہا ہوں جو ان ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسران کے ہیں جو اس وقت مختلف محکموں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
وزیر داخلہ : بریگیڈیر (ر) اعجاز شاہ
سیکرٹری داخلہ : میجر (ر) اعظم سلیمان
چیرمین سی پیک اٹھارٹی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات : لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ
چیرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ : لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل
چیرمن پی آئی اے : ائیر مارشل ارشد محمود
چیرمین واپڈا : لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین
اور یہ لسٹ آگے چلتی جاتی ہے۔ اب آپ خود بتائیں جب سویلین لوگوں میں کوئی قابل بندہ نہ ہو تو پھر ہمارے پیارے ادارے کے افسروں سے ہی رابطہ کرنا پڑے گا ناں چاہے وہ ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے ہی تو جنرل عاصم باجوہ صاحب کو اب آپا فردوس عاشق اعوان کی جگہ اس اہم ذمہ داری کے لیے خاص طور پر چنا گیا ہے۔
ہماری آپا فردوس نے بھی اپنی کوشش تو پوری کی کہ وہ اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے حکومت کی درست طریقے سے ترجمانی کرسکیں۔ اس حوالے سے انھوں نے اپنے مخصوص دبنگ انداز میں تقریباً روز ہی پریس کانفرنسز بھی کیں۔ مگر پھر بھی اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں۔ اب یار لوگ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے کرپشن کی ہے اور الزام بھی ٹن پرسنٹ کا لگ رہا۔ جو کہ بہت بری بات ہے کیونکہ ہمیں تو اتنا پتا ہے کہ ہماری آپا ایسی نہیں ہیں
ہاں شاید اپنی دبنگ اور لڑاکو طبیعت کی وجہ سے شاید مار کھا گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کبھی ان کی اپنے ہی کابینہ کے وزیروں سے توں توں میں میں ہوجاتی تھی اور کبھی میڈیا والوں سے بھی۔ اب جو بھی ہو ان کی جگہ جس قابل ترین شخص کو لگایا گیا ہے۔ وہ ان تمام کمیوں اور کوتاہیوں پر احسن طریقے سے قابو پا کر بالکل اس طرح زبردست طریقے سے کام کریں گے جیسے انھوں نے سی پیک پروجیکٹ کو چار چاند لگائے ہیں۔
اب رہ گئی بات ان کی تعیناتی کی تو خواہ مخواہ یار لوگوں نے اس کو اتنا بڑا مسئلہ بنا لیا ہے۔ ان کو نہ تو عاصم صاحب کی قابلیت کا درست طریقے سے علم ہے اور نہ ہی یہ فارسی کی اس مثل کو سمجھتے ہیں کہ ”ولی را ولی می شناسد“ (ولی ولی کو پہچانتا ہے) جس کا مطلب ہے کہ ایک طرح کے لوگ ایک دوسرے کو پہچان بھی لیتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال بھی کرتے ہیں۔


