مولانا خادم رضوی، مولانا طارق جمیل اور علامہ ضمیر اختر نقوی


عصر حاضر میں تین علما نے جو عروج پایا ہے وہ قابلِ دید ہے۔ اپنے دلچسپ اور معلوماتی بیانات سے یہ علما سوشل میڈیا پر ہر وقت چھائے رہتے ہیں۔ ان کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے اردو زبان کو بعض نئے محاورات اور روزمرہ نصیب ہو گئے ہیں۔

مرشد خادم رضوی اپنی ولولہ انگیز تقاریر میں اس دنیا کے معاملات کا ذکر کرتے ہیں۔ ادھر کوئی فرعونیت دکھائے تو اسے اوقات دکھا دیتے ہیں۔ پنجابی زبان کے برمحل اور قاتلانہ انداز نے انہیں جو عروج بخشا ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ ویسے تو مرشد خادم رضوی عام فہم پنجابی گالیوں سے بدکاروں کی خاطر تواضع کرتے ہیں، مگر ان کا رعب اتنا ہے کہ جو انہوں نے کہا ہی نہیں وہ ان کا سب سے مقبول قول ٹھہرا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے ناشتے میں بونگ اور سری پائے خاص جذبے سے کھاتے ہیں۔

مرشد خادم رضوی بڑے سے بڑے فرعون کو ایک منٹ میں ہی چار فقرے مار کر غرق کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ بعض ناسمجھ ان پر بدزبانی کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منبر سے دشنام طرازی اچھی نہیں لگتی۔ اچھی لگتی ہے تو پھر ہی مولانا خادم رضوی اتنے مقبول ہیں۔ مولانا ایک بڑے عالم ہیں، اپنے اس عمل کو بھی اسلاف کی تقلید ثابت کر کے ایسے ناسمجھوں کو چپ کروا دیتے ہیں۔ اور جو پھر بھی چپ نہیں کرتا اس کی۔ ۔ ۔

مولانا طارق جمیل کا انداز مختلف ہے۔ حاکم وقت کا دربار نا ہو تو وہ اس فانی دنیا کے سیاسی و سماجی معاملات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی بجائے انہیں ابدی دنیا کے معاملات سے لبھاتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل ایک غیر معمولی خطیب ہیں۔ مولانا خادم رضوی کی طرح ان کی کوئی خاص ترکیب یا محاورہ تو مشہور نہیں ہوا مگر وہ بظاہر عام سے الفاظ سے ایسا سماں باندھتے ہیں کہ ان کے خوش عقیدہ مقلد اسے سن کر محفل میں ہی پانی پانی ہو جاتے ہیں۔ مولانا کے ان بیانات کا مرکز نگاہ مرد ہوتے ہیں۔

ان مریدین کو مولانا کے بیانات سے ہی علم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ ایسی کارکردگی دکھا ہی نہیں سکتے کہ سرخرو ہو پائیں، ہاں اگر وہ جنت میں چلے گئے تو پھر وہاں کارکردگی دکھانے کے لیے نہایت ہی وسیع و عریض میدان دستیاب ہو گا۔ لیکن اس میدان کی تمام تر لمبائی اور چوڑائی کے باوجود وہ تھکیں گے نہیں۔ ہاں پیدل چلنے میں وہ کئی کئی دہائیاں لگا دیں گے اس کے بعد ہی مولانا کا بیان کردہ گوہر مراد پائیں گے۔ ایسے میں بندہ ہانپ جائے تو پریشانی کی بات نہیں ہے، مولانا اس قصے میں یہ ضرور یاد دلاتے ہیں کہ پیاسوں کے لیے مناسب بندوبست موجود ہے۔

مولانا کے مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی بیان کردہ حور کی لمبائی چوڑائی واقعی اتنی ہی ہے جتنی وہ بیان کرتے ہیں، تو بندہ غلطی سے اس کے پیر کے نیچے آ کر کچلا جا سکتا ہے۔ حالانکہ واضح سی بات ہے کہ بندہ خود بھی اپنی حور کے حساب سے قد کاٹھ نکال لے گا۔ نہیں نکالتا تو اسے مر ہی جانا چاہیے۔

مولانا کا بیان نہایت پراثر ہے۔ مشہور سے مشہور اور بدنام سے بدنام ہستی ان سے متاثر ہوتی ہے۔ خواہ کرکٹ کا پلیئر ہو یا دیگر کسی میدان کا پلے بوائے، یا ان دونوں میدانوں کا بیک وقت کھلاڑی، ان کے دست حق پرست پر سب ایمان لاتے ہیں۔ خواہ سٹیج کی رقاصائیں ہوں یا ہوشربا اثاثے ظاہر کر کے مشہور ہونے والیاں، سب ان کا بیان سن کر سیدھی ہو جاتی ہیں۔

مولانا طارق جمیل کو صرف ایک جگہ فیل ہوتے ہم نے دیکھا ہے۔ سرکاری افسران اور حکمرانوں پر ان کی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ حاکم وقت بظاہر ان کی عزت تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کی باتیں سن کر راہ راست پر نہیں آتے۔ مولانا نے نواز شریف کو کتنا سمجھایا، کتنا ان نے آگے پیچھے پھرے کہ وہ سیدھے ہو گئے تو قوم کی حالت بدل جائے گی۔ مگر نواز شریف پر اثر نا ہوا اور وہ چکنے گھڑے بنے رہے۔ اب یہی معاملہ عمران خان کے ساتھ بھی پیش آ رہا ہے۔ اللہ جانے ان کے حق میں مولانا کی دعائیں کیوں قبول نہیں ہو رہیں؟ مولانا کو اس کی تحقیق کرنی چاہیے اور حکمرانوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہے۔

علامہ ضمیر اختر نقوی علم کا بہتا دریا ہیں۔ تاریخ کا قاموس ہیں۔ ان کی زبان لکھنوی ہے اور بیان طلسم ہوشربائی۔ کتابوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور ایسے ایسے گڑے مردے اکھاڑ لاتے ہیں کہ دوست دشمن سب انگشت بدنداں ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا تو لوگوں کو علم ہوا کہ نیپال کے بارے میں کتابوں میں کیا لکھا ہوا ہے۔ ان کا بیان سن کر حاضرین مجلس نے گواہی دی کہ ہاں واقعی لڈن میاں مرے تھے اور پھر جی اٹھے اور وہ انہیں جانتے ہیں۔

ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات ان کی زنبیل میں پڑے ہیں کہ عمرو عیار کی زنبیل اس کے آگے پانی بھرتی ہے۔ اگر علامہ صاحب نا بتاتے تو قوم کو کیسے پتہ چلتا کہ پاکستان کا اصل بانی کون ہے؟ نپولین کے بارے میں وہ تاریخ کیسے پتہ چلتی جسے اہل یورپ چھپاتے ہیں؟ سقراط کا کسے پتہ تھا کہ وہ اہل بیت کا ماننے والا تھا؟

مرشد خادم رضوی ہی کی مانند علامہ ضمیر اختر نقوی کو بھی سوشل میڈیا پر ایک لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر بڑے بڑے بزرگ تک ان کے کلپ شیئر کرتے ہیں اور لہو گرماتے ہیں۔ لیکن مرشد خادم رضوی کے برعکس علامہ ضمیر اختر نقوی کی زبان ہمیشہ کوثر و تسنیم میں دھلی رہتی ہے۔ کوئی ان کی زبان پر اعتراض نہیں کر سکتا نا ان کے اخلاق پر۔ لے دے کر ان کے قصوں پر ہی جاہلانہ اعتراضات کیے جاتے ہیں۔

یہ تین علما جس جانفشانی سے نئی ڈیجیٹل نسل کو راہ راست پر لا رہے ہیں، اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ان سے پہلے نوجوان جانے کیسے کیسے برے کلپ لطیفوں کے نام پر شیئر کیا کرتے تھے اور ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ اب وہ ان علما کی باتیں شیئر کرتے ہیں اور لوگوں میں سکون اور خوشی بانٹتے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar