عرفان خان: میں نے شیکسپئر کو مرتے ہوئے دیکھا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غمزدہ اور اداس ہوں۔ عرفان خان۔ کیا صرف ایک ایکٹر تھا؟ اس کی آنکھوں اور پتلیوں کی ہلچل میں ہر بار مجھے محسوس ہوا کہ میں ادب کی دنیا میں ہوں اور مارخیز، میلان کندرا، وکٹر ہیوگو، ٹالسٹائی یا دو ستوفسکی کے قد کے کسی نایاب ہیرے کو دیکھ رہا ہوں۔ دو بڑی آنکھیں جو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھیں۔ دو بڑی بڑی آنکھیں جو سیدھے دل میں اتر جاتی تھیں۔ ان آنکھوں میں زندگی کے افسانے پوشیدہ تھے۔ جب عرفان بیمار ہوئے تو انہوں نے ایک ٹویٹ کیا۔

یہ ٹویٹ زندگی کے نام تھا۔ مجھے ارنیسٹ ہیمنگوے کا بوڑھا انسان نظر آیا جو سمندر کی جنگ میں فاتح کے کردار کے طور پر ابھرا تھا۔ عرفان کا ٹویٹ مجھے اب بھی یاد ہے۔ ۔ ”کبھی کبھی آپ اچانک بیدار ہوتے ہیں جب زندگی کانپتی ہوئی آپ کے سامنے ہوتی ہے۔ زندگی کے پندرہ دن کسی سسپنس کہانی کی طرح گزر گئے۔ میں نے زندگی میں نایاب کہانیوں کا تصور کیا۔ اور مجھے ملی، ایک نایاب بیماری۔ میں نے امید کا دامن تھام رکھا ہے۔ امید میری مضبوطی سے وابستہ احساس کا نام ہے۔ میں آئندہ دس دنوں میں اپنی کہانی آپ کو سناونگا۔ ابھی ڈاکٹر کو مرض کی تشخیص کر لینے دیجئے۔“

یہ آخری ٹویٹ۔ پھر علاج شروع ہوا۔ وہ کسی حد تک ہیمنگوے کے بوڑھے کی طرح جیت چکے تھے۔ وہ کہانیوں اور داستانوں میں جیتا تھا۔ ایک پڑاؤ بالی ووڈ تو دوسرا ہالی ووڈ۔ اس کی شخصیت ہر سرحد کو توڑ کر، ایک ایسی علامت بن گئی تھی جہاں ہندوستان نظر آتا تھا۔ بیماری کے دنوں میں بھی اسے کہانیوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ وہ اپنی کہانی سنانا چاہتا تھا کہ جب وہ عروج پر تھا، ایک نایاب بیماری نے اسے لپک لیا۔

ہم کب جانتے ہیں، کسی یو ٹوپیا میں رہتے ہوئے، خوابوں کی دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے، دہشت اور وحشت کی سرنگوں سے گزرتے ہوئے، فسادات کا مقابلہ کرتے ہوئے، دنیا میں شداد کی طرح نئی نئی جنتیں تعمیر کرتے ہوئے۔ ہم کب جانتے ہیں کہ ایک اندیکھی موت ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ عرفان ممبئی آ گئے۔ موت نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ زندگی کو اپنی اداکاری سے منور کرنے والا شخص، رمضان کے مقدس مہینے اس خاموشی سے چلا جائے گا، کس کو یقین تھا۔

اسکی کہانی ادھوری رہ گییں۔ عرفان نے جھوٹ بولا تھا۔ وہ دس دن خدا کی مٹھیوں میں تھے، اس کی مٹھیوں میں نہیں۔ وہ آخری ٹویٹ تھا۔ اس کے افسانے ادھورے رہ گئے۔

آج ہندوستان میں ہلچل ہے۔ ہر شخص، ہندو ہو یا مسلمان، ماتم کر رہا ہے۔ مجھے عرفان کے شروعاتی دور کی ایک فلم یاد آتی ہے۔ ایک ڈاکٹر کی موت۔ ڈاکٹر جو مسیحا تھا، جس کی حیاتیاتی ویکسین عالمی صحتی ادارے کو قبول نہیں تھی۔ ڈاکٹر جد و جہد کر رہا تھا۔ آج کورونا کے دنوں میں ایک ڈاکٹر مر گیا۔ میں نے عرفان کی آنکھوں میں شیکسپئر کی زندہ روح کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
آج ادب اور فلموں کے شیکسپئر نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔ جسم فانی۔ روح زندہ۔ اس کی فلمیں زندہ رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *