سلیماں سر بہ زانو

سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی! سلیماں سر بہ زانو، اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ ۔ ن م راشد میں چھت پر ہوں۔ سگریٹ سلگاتا ہوں۔ دار بقاء میں راشد کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ لوگ مر رہے ہیں۔ یقین و اعتماد کی مے خالی جام و سبو خالی،

Read more

اردو ناول: 2000 کے بعد کا منظر نامہ، مختصر نوٹس

وقت کے ساتھ ناول اور فکشن کی دنیا بہت حدتک تبدیل ہو چکی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا نقاد آج بھی فکشن اور ناول کو اپنی اپنی تعریف و تشریح کے محدود پیمانے میں قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی کہانی کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ ایک انجام یا کلائمکس ہوتا ہے۔ کہانی ایک صدی سے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہے۔ اور ہماری زندگی تہذیب کی اس اندھیری سرنگ میں گم ہے جہاں نہ کوئی آغاز ہے نہ انجام۔ اس تیز رفتار بھاگتی ہوئی زندگی کا کوئی انجام کیونکر لکھا جا سکتا ہے۔

Read more

عشق کے کوچے سے

محبت کیا ہے؟ خود سے سوال کرتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ بھاڑ سے الگ ایک نئی دنیا کے دروازے میرے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ غیب سے ایک آواز گونجتی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو عشق کرنا جانتے ہیں۔ میرا بے خوف عشق مجھ سے اور میری روح سے وابستہ ہے۔ اس کی محبت میری ہی محبت کا پرتو ہے۔ اس کی لبیک مجھے انتہا کے دروازے تک لے آتی ہے اور محبت کا نغمہ مجھے مسحور و

Read more

اللہ گاؤں جانے والی عائشہ سے مکالمہ

وہ نہیں ہے۔ اللہ گاؤں چلی گئی۔ مگر میری آنکھیں اب بھی اس کو دیکھ رہی ہیں۔ میں نے اسے دیکھا، اور مسکراتے ہوئے دیکھا۔ پہلا تأثر یہی تھا کہ وہ ہنس رہی ہے اور اس کے مسکراتے چہرے پر غضب کی زندگی کی علامت ہے، اس لئے جو کچھ کہ وہ کہنے والی ہے، اس سے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس نے مسکراہٹ کے ساتھ اللہ کو یاد کیا۔ میں نے بھی اس کے

Read more

عورت مارچ اور ہمارا ادب

پیارے ساتھی سعید احمد کی نظم ’عورت مارچ سے گزرتے ہوئے‘ مشرف عالم ذوقی ہٹ جاؤ راستے سے، عورتوں کا جلوس آ رہا ہے، انہیں جاہیداد نہیں، عزت، انسانی حقوق اور تمھارے ساتھ برابری سے کھڑے ہونے کی جگہ چاہیے! ۔ سعید احمد وہ آ چکی ہیں اور اس بار پوری تیاری کے ساتھ ”وہ اپنے جسم کے تنے سے اپنے گرے پتے اٹھاتی ہے اور روز اپنی بند مٹھی میں سسک کے رہ جاتی ہے وہ سوچتی ہے کہ

Read more

ہمارا نقاد اور موضوع کی اہمیت

’دی روڈز ٹو فریڈم‘ سارتر نے 1940 میں تحریر کیا۔ ان کا ارادہ ان ناول کو چار حصوں میں مکمل کرنے کا تھا۔ مگر تیسرے حصے آئرن ان دی سول کے بعد چوتھے حصے کا خیال سارتر نے چھوڑ دیا۔ جبکہ چوتھے حصے کا کچھ حصہ وہ تحریر کر چکے تھے۔ منصوبہ بند چار جلدوں میں سے صرف تین اشاعت کی گئیں۔ اس کے بعد سارتر زیادہ دنوں تک زندہ بھی نہیں رہے۔ اس تثلیث کے بعد چوتھے ناول لا

Read more

وہ راسپوٹین تھا

دروازے کے پاس مٹیوں کا ایک ملبہ پڑا ہے۔ میں اندر داخل ہوتاہوں تو جابجا مکڑیوں کے جالے نظر آتے ہیں۔ اور اندر جاتا ہوں تو مجھے وہ چائے خانہ نظر آتا ہے جہاں پرنے زمانے کی کرسیوں پر آٹھ دس افراد بیٹھے تھے اور ایک جگہ بوسیدہ دیوارسے ٹیک لگائے وہ اجنبی کھڑا تھا، جس نے پادریوں جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کی داڑھی کسی پہونچے ہوئے ولی کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے بال سیاہ اور گھنگریالے

Read more

حکمران، وائرس اور بونسائی عوام

مرگ انبوہ، مردہ خانے میں عورت، صحرائے لا یعنی اور ہائی وے پر کھڑا آدمی لکھنے کے دوران مجھے بار بار احساس ہوا کہ میں البرٹ کیمو کے زیادہ قریب ہوں۔ کیمو عالمی سطح پر فسطائیت کے جشن سے بوجھل تھا اور ایک ناول کا خاکہ اس کے ذہن میں پیدا ہونے لگا تھا۔ فسطائیت کے بارے میں ناول لکھنے کا خیال 40 کے عشرے کے اوائل میں البیر کیمو کے سامنے آیا جب اس نے اوران میں تعلیم کی اہمیت اور معنویت کو سمجھا۔ تاہم، ناول پر کام 1943 میں شروع ہوا۔

ناول کا کردار ڈاکٹر گھر کے زینے پر ایک مرا ہوا چوہا دیکھتا ہے اور خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے تمام تجربات اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدگی کا شکار ہے، لیکن وہ شکایت نہیں کرتا ہے۔ شدید تھکن کے باوجود وہ مریضوں کا علاج کرتا رہتا ہے۔ طاعون کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈاکٹر پر عزم ہے۔ اس نے چوہوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ کچھ دن بعد ، شہر میں چوہے کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ صرف ایک ہی دن میں ہزاروں چوہوں کی لاشیں جل گئیں۔

Read more

مذاق، زندگی اور ادب

زندگی وہ نہیں ہوتی ہے جسے دوسرے دیکھتے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی ہمارے لئے بھی پیچیدہ ہوتی ہے۔ اور بہت سے معاملات میں ہم زندگی کو سمجھتے ہوئے بھی مختلف گوشوں سے انجان رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے بارے میں، جیسا ہم سوچتے ہیں، محض قیاس ہے، یہ ایک فیصد بھی وہ نہیں ہے جو وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ یعنی جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کے ظاہری حصے یا ظاہری حسن، یا ظاہری بد صورتی تک ہی

Read more

فاروقی: ایک شہنشاہ کی موت

جب رانجھا کا الوہی عکس ہیر کے پانیوں میں ظاہر ہوا تو ہیر پکار اٹھی، مجھ میں رانجھا اتنا بس چکا ہے کہ میں خود رانجھا بن چکی ہوں، اب مجھے ہیر کوئی نہ کہے۔ میں اس ذات کے الوہی عکس کے بارے میں سوچتا ہوں تو تعبیر ملتی ہے کہ اس نے اپنی چمک سے اردو ادب کو فاروقیت کے مشکیزے میں تبدیل کر دیا۔ 1960 کے بعد ایک موسم ایسا آیا جب اردو زبان کا عکس اس کے وجود میں تحلیل تھا اور ایک زمانے نے کہا، کہ میرا چہرہ شان فاروقی کی گواہی دینے کو تیار ہے۔

1960 کے پہلے کی تاریخ گم، اور ایک نئی بوطیقا نئی روشنائی سے تحریر ہوئی جس نے ادب کی تنقید کو ایک نیا ولولہ اور ایک نئی جہت فراہم کی لیکن اس بوطیقا میں یہ بھی تحریر تھا، کہ جو اس شاہراہ کی نفی کرے، وہ ادیب کے منصب پر نہیں۔ جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں۔ کھو گئی ہیں مری دونوں آنکھیں۔ پھر پئے نذر نئے دیدہ و دل لے کے چلوں۔ حسن کی مدح کروں شوق کا مضمون لکھوں۔ یہ شوق کا مضمون لکھنا مجھے نہیں آیا، اور میں زندگی میں کبھی خود کو اس الوہی طاقت کا عکس نہیں بنا پایا۔

Read more

کسان تحریک : چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں تیس سے زائد کسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک نے خودکشی کی۔ لیکن امبانی ادانی حکومت کو خوش کرنے کے لئے مودی قانون واپس لینے کے لئے تیار نہیں۔ یہ میں نہیں، کسان کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان میں اب مودی کی جگہ ادانی امبانی کی حکومت ہے۔ اس لئے ان کے تمام پروڈکٹ کی خریداری سے بچنا ہوگا۔ کسان تحریک میں مسلمان بھی نشانہ بنے۔ پہلے پاکستان پھر خالصتان پھر دہشت گرد آ گئے۔ یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ تحریک میں شامل کسانوں کی ہندو آبادی 98 فی صد ہے اور مودی ملک کی 98 فیصد ہندو آبادی کے خلاف جا رہے ہیں۔

اب کسان تحریک کو لے کر 1962 کی جنگ کو حوالہ بنایا گیا ہے۔ وزیر زراعت مسٹر تومر نے بتایا کہ کس طرح ایک نظریہ کے لوگ مختلف امور پر مدتوں سے معاشرے میں عدم اطمینان اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور آج بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ اس تحریک کے پیچھے چھپی ہوئی سازش کو محسوس کرتے ہوئے ہوئے، انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ تمام کسان اس نظریہ کی نیت کو تسلیم کریں جس نے 62 کی جنگ میں ملک کا ساتھ نہیں دیا۔

Read more

اردو ناول، پبلسٹی، گمراہ کن رویہ

مائی ڈیر قاری، وہ ناول آ گیا جس کا انتظار تھا۔ ایک سو پچاس برس کے عرصہ میں یہ پہلا ناول ہے جو مغرب کے شاہکار ناولوں پر حاوی ہے۔ اردو میں ناول کہاں لکھا گیا۔ عینی آپا، تاڑر صاحب، سب بھاڑ ہی جھونکا کیے ، ناول تو یہ ہے۔ آج کل فیس بک پر کچھ اسی انداز سے ناولوں کی پبلسٹی کی جا رہی ہے۔ اشتہار بازی کی اس مہم سے میں حیران ہوں۔ پکے پکائے ناسٹیلجیا کو لیا،

Read more

صادقین کی نرالی دنیا

کیسے کیسے لوگ ہمارے درمیاں تھے۔ ایم ایف حسین کو ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا تھا۔ انتہا پسند گروپ نے انھیں مارنے کی دھمکی دی۔ قطر میں جلا وطنی کی زندگی گزار کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ پکاسو کے تعلق سے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ پکاسو ان دنوں پریشان اور خالی ہاتھ تھے۔ ایک عورت ان کے پاس پہنچی اور کچھ بھی بنا دینے کی ضد کرنے لگی۔ پکاسو نے کچھ لکیریں کھینچ کر عورت کی طرف بڑھایا اور بولے، یہ لو۔ کروڑوں کی پینٹنگ۔

عورت کو تعجب ہوا۔ وہ اسی وقت بازار گئی۔ پینٹنگ کی قیمت دریافت کی تو معلوم ہوا، دس سیکنڈ میں بنائی گئی یہ پینٹنگ حقیقت میں کروڑوں روپے کی ہے۔ اس نے پکاسو سے پوچھا، محض دس سیکنڈ۔ پکاسو کا جواب تھا، اس کے تجربے میں صدیاں لگی ہیں۔ مونا لزا، یہ ایک ایسی عورت کی تصویر ہے جس پر ہر کوئی فدا ہے۔ اس پرفتن لڑکی کی خفیہ مسکراہٹ کی قیمت 850 ملین امریکی ڈالر ہے۔ لوگ مونا لیزا کی اس پینٹنگ کو دیکھنے کے لئے ساری دنیا سے آتے ہیں۔

Read more

سعدیہ دہلوی: ایک نور تے جگ اپجیا

سعدیہ دہلوی رخصت ہو گئیں۔ پہاڑیوں کے درمیان کرنیں مسکرائیں۔ صحرا کو زندگی کا سراغ ملا۔ وادی تصوف کے لطیف جھونکوں نے بدن کو گدگدایا۔ ہواگلاب کی خوشبوؤں کو ساتھ لے آیی۔ ’لعل بدخشاں‘ کے ڈھیر میں اس نے نور کا جلوہ دیکھا۔ غروب آفتاب کے منظر کے بعد یہی ’لعل بدخشاں کے ڈھیر‘ تھے، جہاں اس کے قدم چل پڑے۔ وادی کہسار میں غرق شفق ہے سحاب۔ ۔ ۔ لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب۔ ۔ ۔ عبدالحلیم

Read more

راحت اندوری : ایک بلند آواز جس کی ضرورت تھی

وہ مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا۔ اس کا قہقہہ مشہور تھا۔ سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں اور اس کی اس کی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے۔ میں کیوں لکھتا اس پر؟ لکھتا تو سنجیدہ مہذب دانشوروں کے درمیان نشانہ بن جاتا۔ بازارو اور مشاعرہ باز۔ یہ کوئی شاعری ہے؟ مگر ایوان سیاست میں اسی کے نام سے زلزلہ آ جاتا تھا۔ جب وہ کہتا تھا،

تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔
اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ۔ ہم بھی کسی آندھی، کسی طوفان سے کم نہیں۔ ہم سے مت ٹکراؤ۔

Read more

ذوقی : دوستوئیفسکی کا احمق، جسے میں نہیں جانتا

’being‘ in ’nothingness‘ ہاں اور نہیں کے درمیان ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ میرا راستہ ہے۔ دوستوئیفسکی کا احمق اپنے مزاحیہ ماڈل، ڈان کیخوٹے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیخوٹے کے کردار میں رومان اور مذہب کی پرانی شکلوں کا عکس ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ دو ستوفسکی کا احمق میشکن ایک اچھا آدمی ہے۔ مگر وہ مسکین اور بیوقوف ہے۔ رومی کے مطابق، انسانی نجات کے لئے، خدا اور اس کی مخلوق سے محبت لازمی ہے۔ میں محبت کرنے چلا،

Read more

انور سجاد : خوشیوں کے باغ کا سفیر

مستنصر حسین تارر کے ناول منطق الطیر، میں تمام پرندے اپنے بادشاہ ”سی مرغ“ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ اس تلاش کی راہ میں حق آتا ہے اور حق سے معرفت اور دنیا کے بھید کھلتے ہیں۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ خوشیوں کے باغ کا خزانہ شیخ فرید الدین عطار کی مثنوی سے دریافت ہوا ہے۔ یہ مثنوی ہفت وادی بھی کہلاتی ہے۔ یعنی سات وادیاں۔ طلب و جستجو، عشق، معرفت، استغنا، توحید، حیرت اور فنا اور

Read more

سجاد ظہیر: ترقی پسندوں کا بادشاہ

بقول قاضی عبد الستار، ”سامو گڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی، جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دِل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفہ حکمت تو دوسری طرف شعر و ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔“ جنگ میں بادشاہ کو شکست بھی ہوتی ہے۔ بادشاہ فاتح بھی ہوتا ہے۔ جنگ بادشاہ کے اشاروں پر لڑی جاتی ہے۔ وہ لندن اور

Read more

عرفان صدیقی : پھول کی شرح سے صرف بلبل واقف ہے

صوفی از پرتو مے راز نہانی دانست گوہر ہر کس ازیں لعل توانی دانست شرح مجموعہ گل مرغ سحر دانس و بس کہ نہ ہر کو ورقے خواند و معانی دانست ۔ حافظ شیرازی صوفی نے شراب کے پرتو سے پوشیدہ راز کو جان لیا۔ پھول کے مجموعے کی شرح صرف بلبل جانتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے، ایک آواز غیب سے آیی ہوگی، اٹھ عرفان، اٹھ عرفان صدیقی، غالب کو آئے صدیاں گزر گین۔ یہ پھولوں کا مجموعہ قبول

Read more

قمر رئیس : اٹھ گیا ناوک فگن۔ ۔ ۔

(پروفیسر قمر رئیس ہندوستانی اردو تنقید میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اسی صف میں شامل ہیں جس صف میں نارنگ، شمس الرحمن فاروقی جیسے اہم نقاد ہیں۔) اور مولانا رومی کو اقرار کرنا پڑا۔ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نہ شد تم کبھی بھی مولانا روم نہیں بنتے اگر شمس تبریز کی غلامی میں نہیں آتے۔ یہ ان کی نگاہ تجلی کمال تھا کہ مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ نوجوانی کی عمر،

Read more

شفق : کبیر گنج والا کانچ کا بازیگر

کمرے میں بے ترتیبی سے رکھی ہوئی کتابیں۔ ۔ ۔ میں دیر سے ان بکھری کتابوں کے درمیان کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ۔ ۔ وہ کتاب یہیں کہیں رکھی تھی۔ ۔ ۔ بس ابھی کچھ دن پہلے، بالکل اسی جگہ۔ ۔ ۔ میں بھولنے پر یقین نہیں رکھتا۔ میں نے کچھ سکنڈ کے لیے کتاب کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ ۔ ۔ اچانک آنکھوں کے پردے پر کانچ کے بازیگر

Read more

پروفیسر شکیل الرحمان : زندگی کی حسین لہروں سے کھیلنے والا مسافر

آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود زین آمدن و بودن ورفتن مقصود (میں اضطراب کی لہروں کے ساتھ اس فانی دنیا میں آیا۔ یہاں حیرتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور جب یہاں سے لے جایا گیا تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یہاں آنے کا مقصد کیا تھا۔ ) ۔ عمر خیام عمر خیام، ان کے نام پر مے خانے بھی بنے۔ سر مستی و

Read more

پانی کی سطح

And the spirit of God moved upon the face of the waters۔ ’اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی‘ (بائبل ) ٭٭٭   ٭٭٭ ایک برہمن تھا۔ ایک مسلمان، ایک دلت تھا۔ شہر میں درخت لگانے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی حفاظت کے لئے ’باڑ‘ یا فارم بنائے جا رہے تھے۔ یہ کہانی وہیں سے نکلی، جہاں کانٹا چبھنے کے بعد ایک ننہا برہمن طیش میں آ گیا اور کانٹوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرنے

Read more

بانو قدسیہ : راجہ گدھ یا ملکہ رانی؟

کالج کا زمانہ تھا۔ بانو قدسیہ کا ناول ہاتھ میں تھا۔ مگر الٹنے پلٹنے کی خواہش نہیں ہو رہی تھی۔ سرورق پر لمبی گردن والے ایک گدھ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ۔ میں لگاتار گدھ کو دیکھے جا رہا تھا۔ ملکہ رانی راجہ گدھ کیسے ہو سکتی ہیں؟ ویسے بھی گدھ اپنی تصویر میں خونخوار نظر نہیں آ رہا تھا۔ جیسے تیسے ناول کا مطالعہ کیا۔ کچھ سمجھا کچھ نہیں سمجھا۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ پہلی قرات میں مجھے ناول سمجھ میں نہیں آیا۔

Read more

اپندر ناتھ اشک اور گرتی دیواریں

بیدی: میرا ہم دم میرا دوست اور منٹو میرا دشمن کے خالق اپندر ناتھ اشک اپنے عہد میں، اپنے ہمعصر لکھنے والوں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ یہ دور حقیقت میں بڑے لکھنے والوں کا دور تھا۔ اشک بسیار نویس تھے۔ پھر اپنا پریس بھی بٹھایا اور اپنی کتابیں بھی خوب شایع کیں۔ ان کی اہلیہ کوشلیا اشک بھی افسانہ نگار تھیں۔ مجھے کوشلیا کے دو ایک افسانے پسند ہیں۔ اشک کا افسانہ ڈایے چی بھی اس زمانے میں بہت

Read more

کیدار ناتھ سنگھ :اردو کا رسیا

سر، میں ہندی میں کویتا لکھنا چاہتی ہوں ۔ آپ نے میر و غالب کا مطالعہ کیا ہے؟ لیکن سر، میں ہندی میں لکھنا چاہتی ہوں ۔ ۔ ۔ میر و غالب کے مطالعہ کے بغیر آپ کویتا نہیں لکھ سکتیں۔ حضرت شمس تبریز کے تعلق سے ایک واقعہ ہے کہ انہیں بھوک لگی اور وہ گوشت کا ایک ٹکڑا بھوننا چاہتے تھے تو انہوں نے ایک اشارے پر سورج کو نیچے بلا لیا تھا۔ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں

Read more

اک بنجارہ عوامی شاعر: حبیب جالب

دیوندرستیا رتھی نے منٹو پر لکھا کہ منٹو جب خدا کے دربار میں پہچا تو اس نے خدا سے کہا، تم نے مجھے کیا دیا۔ بیالیس برس، اور کچھ مہینے۔ میں نے تو سوگندھی کو صدیاں دی ہیں۔ حبیب جالب خدا کے دربار میں پہچا تو اس کے چہرے پر عجب شان برس رہی تھی۔ اس نے خدا سے کہا۔ خدا ہمارا نہیں ہے، خدا تمہارا ہے۔ وہ عالم اضطراب میں تھا اور اس نے خدا کی طرف ایک لمبی

Read more

کنور اخلاق محمد خاں، شہریار: خوابوں کا سوداگر

گہے خندم گہے گريم گہے افتم گہے خيزم مسيحا در دلم پيدا و من بيمار می گردم (مولانا روم) جب اداسی رقص کر رہی تھی، وہ جنوں کی حالت میں تھا۔ کبھی تو میں ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں۔ کبھی گرتا ہوں اور کبھی سنبھلتا ہوں۔ میں بیمارعشق ہوں مگر میرے دل میں میرا مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں اپنے مسیحا کے گرد طواف کرتا ہوں۔ یہ کسی کی زندگی میں بھی عجیب عالم ہوتا ہے، ذات اپنے

Read more

نامور سنگھ: بے وفا نہیں تھا

”باسی بھات میں خدا کا ساجھا“ نامور سنگھ کا مضمون تھا، جس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ باسی بھات مطلب اردو اور اس پر خدا کی شمولیت۔ ہندی ترقی پسند نہ صرف ناراض ہوئے بلکہ نامور سنگھ کے نام کی تختیاں بھی جلائی گئیں۔ یہ مضمون شایع کرنے سے قبل راجندر یادو نے مجھے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے بھی آسہمتی یعنی غصہ کا اظہار کیا اور یادو جی سے پوچھا، کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اردو کا رسم الخط تبدیل ہونا چاہیے؟

اردو پر اسلام کا اثر ہے؟ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس زمانے میں کم و بیش یہی رویہ کملیشور کا بھی تھا۔ اس مضمون سے بہت قبل عصمت چغتائی بھی رسم الخط تبدیل کیے جانے کی بات کہہ چکی تھیں۔ اردو، مسلمان، شریعت کو لے کر بھی مضامین لکھے گئے۔ ہنس میں جب نامور جی کا مضمون شایع ہوا تو اردو خیمے سے زیادہ ناراضی ہندی خیمے میں تھی۔ ترقی پسندوں نے مورچہ کھول دیا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہندی میں سو فی صد اکثریت ترقی پسندوں کی ہے۔ جو مسلمان اور اردو کے خلاف کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتے۔

Read more

عابد سہیل :آخری ترقی پسند

’اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ مجھے اچانک احساس ہوا، فرانز کفکا کا کردار گریگور میرے اندر داخل ہو چکا ہے۔ مگر میں کہاں ٹھیک تھا۔ سر بھاری، طبیعت بوجھل۔ اس وقت رکشہ علی گڑھ یونیورسٹی کی گلیوں سے گزر رہا تھا۔ اس طرف دور تک ا ندھیرا تھا۔ رکشہ پر میں اور عابد بھائی بیٹھے تھے۔ مجھے نہیں معلوم، اس درمیان ہم کتنی بار مل چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ

Read more

انیتا نائر : اسلام کو سمجھنے اور بتانے کی ضرورت ہے

ہندوستانی ادب دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ چھ برسوں میں ہندوستان بدل گیا۔ فسطائیت کا عروج ہوا۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل مسلم مخالفت میں تمام حدود سے تجاوز کر گیا؟ حضرت محمد کے خلاف بولنے والے بھی بی جے پی سے واہ واہیاں لوٹتے نظر آئے۔ زی نیوز جیسے ٹی وی چینلز باضابطہ اسلام مخالفت میں سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستانی بھگوڑے کو بلا کر قرآن شریف، حدیث کی حرمت پامال کی جا رہی ہے۔ چند

Read more

کمال کے کملیشور : ایسا اردو دوست کہاں ملے گا

مجھے سب کچھ یاد ہے۔ 2 فروری 2007، صبح 10 بجے پاکستان سے اردو کے مشہور نقاد صبا اکرام کا فون تھا۔ ”اردو کہانی یتیم ہوگئی۔ کملیشور کے جانے کا جتنا دکھ آپ ہندستانیوں کو ہوگا، ممکن ہے شاید آپ اتفاق نہ کریں، ہمارے لیے بھی یہ کسی اپنے کو کھونے جیسا صدمہ ہے۔ جان لینے والا۔ صبا بولتے رہے لیکن میرے کانوں میں صرف ایک ہی جملے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ ’اردو کہانی یتیم ہوگئی‘ لیکن اردو

Read more

حیرتوں کو للکارنا ضروری ہے

نوبل انعام یافتہ ترک مصنف اورہان پاموک کی ایک کتاب ہے، اے سٹرینگنس ان مائی مائنڈ۔ اکثر ہمارے دماغ میں ایک اجنبی ہوتا ہے، جس سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ جو شرارتیں کرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ اتنا مختلف ہوتا ہے کہ دماغ میں رہنے کے باوجود ہم اس کی شناخت نہیں کر پاتے۔ ’برف‘ ، ’میرا نام ہے کہ سرخ‘ اور ’دی بلیک بک‘ جیسی کتابوں کا مصنف بار بار

Read more

اکرام باگ : گم ہوتا ہوا کارواں

اکرام باگ، قمر احسن مجھ سے کافی سینیر تھے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب یہ نام افسانے کی دنیا میں عزت و احترم سے لئے جاتے تھے۔ مجھے قمر احسن بھی پسند تھے اور اکرام باگ بھی۔ اس کے باوجود کہ یہ دور فکشن کی بھول بھلیوں کا دور تھا۔ بے سر پیر کی کہانیاں حاوی تھیں۔ ایک دلچسپ بات اور تھی۔ شروع کی کہانیوں میں علامتیں، بہت مبہم یا بوجھل نہیں تھیں لیکن اکرام باگ سے قمر احسن

Read more

قرة العین حیدر کی افسانوی کائنات

قرة العین حیدر پر لکھنا آسان نہیں۔ آپ پریم چند سے لے کر اردو فکشن کے 4 ستون یعنی منٹو، بیدی، کرشن چندر اور عصمت چغتائی پر صفحے کے صفحے سیاہ کر سکتے ہیں مگر قرة العین حیدر کے ادب پر لکھنے اور سوچنے کے عمل میں قلم خاموش ہوجاتا ہے۔ کیوں خاموش ہوجاتا ہے، اس کا بھی جواب ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتی تھیں کہ اردو کے نقاد انہیں سمجھ ہی نہیں پائے۔ وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے

Read more

پنجاب کی سرزمین اور بلونت سنگھ

وہی زمین۔ وہی مٹی۔ وہی خوشبو۔ جگا سے کالے کوس تک کے فاصلے کو بلونت سنگھے کے افکار وخیالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مطالعہ اوران کے تجربات ومشاہدات نے ان کے تخلیقی سفر میں نئی نئی راہیں کھولیں اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پنجاب، پنجاب کے رہن سہن، رسم ورواج کوموضوع تحریر بنانے والوں کی کمی نہیں رہی۔ مگرمیراخیال ہے کہ بلونت سنگھ کا پنجاب اورتھا اور وہ انوکھا پنجاب جو ان کی تخلیقات میں نظرآتا ہے صرف اورصرف

Read more

شاہد علی خان: قرنطینہ کی کورونا ڈائری

مجھے چینی خاتون ووین کے بارے میں علم تھا، کہ اس نے ڈائری لکھی اور چینی حکومت اسے گرفتار کرنے کے لئے حیلے بہانے تلاش کرنے لگی۔ کورونا ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ایک صدی کے بعد ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ فطرت کی فتح ہوتی ہے۔ اور انسان از سر نو زندگی کے تماشے میں الجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جنگ کبھی

Read more

ہندوستانی مسلمان: اپنے دیس میں اجنبی

کیا میں آپ کو جانتا ہوں؟ ۔ شاید نہیں جانتا۔ کون ہیں آپ لوگ؟ دیکھئے، میں اس ملک کے لئے اجنبی ہوں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ سچ ہوگا کہ اجنبی بنا دیا گیا ہوں۔ یہ میرا ہندوستان نہیں ہو سکتا۔ یہاں ہر قدم، ہر موڑ پر کچھ وحشی درندے کھڑے ہیں۔ اور میں نے ایسے مناظر ہندوستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھ۔ پہلے کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ کچھ لوگ ہمیں اجنبی بنانے کے لئے ہمیں اس خاک سے

Read more

خواجہ احمد عباس : پروپیگنڈا نگار یا حقیقت نگار؟

خواجہ احمد عباس 7 جون 1914 کو پیدا ہوئے اور یکم جون 1967 کو انتقال کرگئے۔ 1920 سے 1960 تک کے ادب پر نظر ڈالتا ہوں تو گراہم گرین، ڈی ایچ لارنس، ژاں پال سارترے، ولیم فاکنر، سیمول بکٹ، ارٹیسٹ ہیمنگ وے، جارج آرویل، ورجینا ولف، پرل اس بک اور جیمس جوائز تک کے نام ذہن میں آ جاتے ہیں، اور بھی کئی بڑے نام ہیں۔ غور کریں تو جوائز سے سارترے اور جارج آرویل تک مغرب کا ادب محض

Read more

ٹوٹتے گلیشیئر کے نیچے خواب کی زمین پر چہل قدمی۔۔۔

زندہ سچائی، زندہ واقعات اور زندہ لوگوں سے اس کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کہانی کا مردہ لوگوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ***    *** ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے نیند میں ہوتے ہیں تو ہم زیادہ جاگتے ہیں۔ جیسے آنکھوں کے آگے دور تک پھیلی ہوئی نہ ختم ہونے والی دھند ہوتی ہے۔ یہ دھند ہمیں گلیشیئر پر تیرتے خواب سے برآمد کرتی ہے۔ ۔ ۔

Read more

کرشن چندر کیوں بڑا ہے؟

بڑے ادیب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ خواب دیکھتا ہے اور خواب میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ غور کریں تو 05 سے زائد ناولوں اور پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھنے والے کرشن چندر نے ساری زندگی خوابوں کے دروازے پر دستک دی۔ غلامی سے آزادی کا سفر بھی خواب تھا اور آزادی کے بعد ننگے بھوکے ہندوستان کو خوشحالی کے راستہ پر دیکھنا بھی ایک خواب۔ کرشن چندر اس خواب میں رومانیت کوشامل کر

Read more

لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔

اس وقت جب تم اپنے گلاس میں اسکاچ انڈیلتے ہو،
کاکروچ مارتے ہو
یا اپنی گھڑی دیکھتے ہو
جب تم اپنی ٹائی درست کرتے ہو۔ ۔ ۔ لوگ مر رہے ہیں
یہاں مرنے کی مہلت بھی نہیں دی جاتی
۔ ۔ مگر لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔ اس وقت جب تم تغافل اور ضبط نفس وغیرہ
کے نئے پیغمبروں کا انتخاب کر رہے ہو۔ ۔ ۔
لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔
(جوزف براڈسکی A Tune for Bosnia )

مردہ لاشوں کے درمیان حیران، روتے بچے کو کس نے جواب دیا تھا، کہ یہاں انسان نہیں رہتے۔ بچے نے انسان کا مطلب بھی کب سمجھا

Read more

سشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں؟

ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصہ ہیں، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھری سے نکالنے کا بہترین وقت ہے، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وہ جو پتھروں سے ٹکراتے تھے، دریاؤں کے سینے کو چیڑ دیتے تھے، اور جو بہتر طور پر جانتے تھے کہ زندگی میں، سب سے زیادہ اہمیت زندگی کی ہے۔ زندگی، جسے ہر طور پر قائم رکھنا ہے۔ زندگی، جسے جنگ اور بیماریوں سے فتح کرنا ہے، زندگی جس کے لئے سب سے بڑی طاقت، فطرت نے ہمیں للکارا ہے۔

ہم حبس، گھٹن، قید سے گھبرا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔ سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی۔ ہندوستان میں ہر برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے نوجوان اس وقت اداسی کا مرثیہ لکھ رہے ہیں اور اچانک ایک لمحۂ ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے جب وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سوچتے اور مر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ، وہ اپنے ماں باپ اور گرل فرینڈ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے۔ کبھی کبھی وہ ایک محبت کے فنا ہونے پر موت کو گلے لگاتے ہیں۔

Read more

کیا آپ گلزار کو جانتے ہیں؟

گفت پیغمبر کہ بردست صبا از یمن می آیدم بوئے خدا (پیغمبر نے کہا کہ ہوا کے زور پر یمن سے مجھے خدا کی خوشبو آ رہی ہے ) وہاں خدا کی خوشبو کا جلوہ تھا اور یہاں انسانی رشتوں کی خوشبو کا آبشار۔ آدم نے گندم کا قرض لیا اور دنیا میں بھیج دیے گئے۔ شجر ممنوعہ میں انسانی رشتوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان پوشیدہ تھی۔ اور مقام حیرت یہ کہ انسانی رشتوں کی پرتیں کھولنے

Read more

ہتھنی کیوں مری؟ بارش کیوں ہوئی؟ آندھی کیوں آئی؟ مجرم مسلمان

ہتھنی کیوں مری؟ مجرم مسلمان
بارش کیوں ہوئی؟ مجرم مسلمان
آندھی کیوں آئی؟ مجرم مسلمان

یہ نیا ہندوستان ہے، جہاں آنکھیں موند کر تمام الزامات مسلمانوں پر ڈال دیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد انہدام معاملہ کی عدالت میں گواہی چل رہی ہے۔ اب ہنسی آتی ہے۔ کیا اس کی کوئی ضرورت ہے؟ فیصلہ آ چکا۔ کہہ دیا گیا کہ یہ ہندوتو کی جیت ہے۔ پھر ہندوتو کی فتح کا جشن منانے والے ملزمان کہاں سے ہو گئے؟ ان گواہیوں سے کیا ہو گا جبکہ رام مندر تعمیر کا راستہ بھی کھل چکا ہے۔ اور یہ تعمیر کا معاملہ بھی جے پی کے منشور کے عین مطابق ہے۔

Read more

کہانی کس کو لکھتی ہے

انیس سو اڑتالیس میں ژاں پال سارتر کی ایک کتاب شایع ہوئی۔ ادب کیا ہے۔ سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہارکیا تھا۔ سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اورلفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اورنئی سیاسی صورتحال سے گریز کرہی نہیں سکتا۔ سارتر نے صاف طور پر کہا۔ ۔ ۔ ایک مصنف کے طو رپر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اوراپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔ سارتر

Read more

شیطان اور کراماتی میڈیا کے خوفناک کھیل

آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے، دہشت ہے، خوف ہے،

Read more

مزدور، بغاوت اور زندگی

آگے راستہ بند ہے گھبرائے نہیں، مزدور ہمارے ساتھ ہیں، راستہ کھل جائے گا۔ راستہ کھولنے والے مزدور اچانک تاریخ کی کتابوں سے غائب کر دے گئے۔ پھر وہ آوارہ سڑکوں پر نظر اہے۔ کروڑوں کی تعداد میں۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی ہجرت تھی، جس کے لئے مزدوروں کے حصے میں صرف چار گھنٹے اے تھے۔ کیا کویی بتا سکتا ہے کہ کتنے مزدوروں نے ہجرت کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی؟ کتنے مزدور ریل کی پٹریوں پر

Read more

آصف فرخی اپنا گلوب اپنے ساتھ لے گیا ہے

میں موت پر نہیں لکھ سکتا۔ کم از کم آصف کی موت پر نہیں۔ کیا موت نے اب ہماری عمر کے لوگوں کا دروازہ دیکھ لیا۔ ہٹا کٹا صحت مند۔ پیشے سے ڈاکٹر۔ مگر باہر اور اندر تک ادب کا سمندر۔ ایک بڑے باپ کا بیٹا۔ باپ نے بھی زندگی ادب میں بسر کی۔ بیٹے نے روایت کو نا صرف آگے بڑھایا بلکہ ایک ایسا نام ثابت ہوا کہ جس کے وجود میں اردو مہکتی تھی۔ جو اردو کو ساری

Read more

لاک ڈاؤن، ہم اور اردو افسانہ

باہر سناٹا ہے
طوطے اڑ گئے
انسان گھروں میں قید ہو گیا

انیس سو اڑتالیس میں ژاں پال سارتر کی اہم کتاب منظر عام پر آئی تھی۔ ادب کیا ہے۔ اس کتاب میں، سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا۔ سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اور لفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اور نئی سیاسی صورتحال سے گریز کر ہی نہیں سکتا۔ سارتر نے صاف طور پر کہا۔ ۔ ۔ ایک مصنف کے طور پر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اور اپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔

سارتر نے یہ بھی کہاکہ شاعری میں ہم زبان کے ساتھ کھلواڑ تو کر سکتے ہیں، تجربے بھی کر سکتے ہیں مگر فکشن کے لیے یہ تجربے خطرناک ہوں گے۔ سارتر کی نظر میں لکھنے والے کا کام ہتھیار کو ہتھیار کہنا ہے، یعنی جیسا کہ وہ ہتھیار ہے۔ اگر لفظ، مرض میں مبتلا ہیں تو پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مرض (لفظ) کا علاج کریں۔ شاید اس لیے سارتر نے جدید ادب کو ایک اور نام دیا۔ لفظوں کا کینسر۔

Read more

جب آپ فکشن نگار سے کچھ زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔ ۔ ۔

میں نے کیی دفعہ محسوس کیا، قاریین کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو مجھے ایک ایسے منصب پر دیکھنے کا خواہشمند ہے، جہاں میں چٹکی بجاتے ہی اس دنیا سے، نفرت کے رنگ کو غائب کر دوں گا۔ فنکار یا ادیب کے پاس نہ الہ الدین کا چراغ ہے نہ توقع اور خواہشوں کو پورا کرنے والا جن۔ ادیب کچھ سطحوں پر اتنا کمزور اور چھوٹا ہوتا ہے کہ بادل کی گھن گرج سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ آنکھوں

Read more

عینی آپا کی باون گز کی دنیا

بے شمار تجربات اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر آپ غور کریں تو صرف آگ کا دریا کو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ یہ ڈھائی ہزار برسوں کا قصہ ہے، ان کی عام کہانیوں میں بھی، قصہ چاہے ایک خاندان کا کیوں نہ ہو، لیکن یہ خاندان پھیلتے پھیلتے صدیوں کی داستان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات محض قصے کہانیوں تک محدود نہیں، کتابوں کے دیباچے، مقدمہ یا پیش لفظ لکھتے ہوئے بھی وہ ایک ایسی فاسٹ ٹرین میں سفر کرتی ہیں، جہاں قصے، واقعات وقت کے کسی ایک لمحہ سے جست لگا کر لا مکانوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

Read more

گزشتہ راکھ کی چنگاریاں اور انتظار حسین

7 دسمبر 1923ء کو بلند شہر، میرٹھ میں پیدا ہونے والے انتظار حسین نے خوفناک بندروں کے اس میلے کو اتنے قریب سے دیکھا کہ ہجرت کے بعد بھی ماضی کی گٹھری اور پوٹلی سے خود کو آزاد نہ کرسکے۔ وہ ایک ایسے داستان گو تھے جس کا مکمل اثاثہ ماضی کی وہ داستانیں تھیں، جسے عمر کے آخری دور میں بھی، آخری ناول ’سنگھاسن بتیسی‘ کی تخلیق تک وہ خود سے الگ نہیں کرسکے۔ برسوں پہلے دوردرشن ٹی وی

Read more

ہندوستانی مسلمان: حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے

کہاں سے شروع کروں؟ کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری۔ ہم اب بھی بے خبر ہیں اور خوش فہمی کے کمزور اور نازک پل پر سوار ہیں۔ ایک ایسی شاطر حکومت ہمارے درمیان ہے جس نے بغیر تختی، اور اعلان کے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا۔ کچھ بات ہے کہ ہستی۔ ہستی مٹنے والی ہے صاحب اور یہ مکالمہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو سنجیدہ ہو کر ہاتھی کی تعریف بیان کر رہے تھے۔ پانچ

Read more

قرنطینہ، عید، ہلاکت اور مسلمان

روسی تھیٹر ڈائریکٹر کیریل سیربرینکوف کو ماسکو میں ڈیڑھ سال تک نظربند رکھا گیا۔ اس درمیاں انھوں نے ایک ویڈیو تیار کی کہ ’جب آپ گھر کے اندر پھنس جائیں تو پاگل ہونے سے کیسے بچیں۔‘ جب شاہین باغ نفرت کے خلاف حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا، ہم نے ان فسادی چہروں کو دیکھا جو ہندوستان کو پاگل خانہ میں تبدیل کرنے آئے تھے۔ ہندوستان اب ایسا ملک تھا، جہاں کھلے عام مسلم دشمنی کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ مسلمانوں کو ہلاک کیا جا رہا تھا، اور انصاف پسند جن عمارتوں اور لوگوں پر ہمارا یقین تھا، ان لوگوں کو خریدا جا رہا تھا۔ آزادی کے غیر متوقع لمحات کا جائزہ لیتے ہوئے یولیا تسویتکوفا نے ایک سروے میں بتایا ’جب انھوں نے مجھے 500 میٹر کی چہل قدمی کے لیے جانے دیا تو وہ بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی آزادی کی طرح لگا لیکن اس نے اس بات کا اور بھی احساس دلایا کہ میں باقی اوقات کتنی غیر آزاد ہوں۔‘

غیر آزاد۔ کیا مسلمان حقیقت میں آزاد ہیں؟ یہ نہ بھولیں کہ رمضان کے مقدس مہینے جس صبر و تحمل کا ثبوت مسلمانوں نے پیش کیا اس کی نذیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب مزدور، مردہ اور ذلیل سیاست کا شکار ہو کر ہجرت کر رہے تھے، مسلمان تراویح سے نکل کر، یا روزہ رکھ کر ان کی مدد کر رہے تھے۔ اور یہ ان مزدوروں کا بیان ہے کہ جو مدد مسلمانوں نے پہنچائی، ایسی خدمت کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ ایک سروے میں یہ بات بھی آئی کہ مہاجر مزدوروں کے لئے 80 فیصد مسلمان سامنے آئے اور بیس فیصد غیر مسلم۔

Read more

ادب ایک مخصوص لہجہ کی قید میں ہے

بلراج مینرا ہوں، انور سجاد، اکرام باگ ہوں یا قمراحسن، ایسے تمام لوگوں پر جدیدیت کے اثرات تو تھے مگر ایک حد تک ترقی پسندی بھی غالب تھی۔ 1960 تک آتے آتے ’انگارے‘ سرد پڑ گئے تھے۔ ترقی پسند کہانیوں کو پروپیگنڈا کہانیاں بتا کر مذاق اڑایا جا رہا تھا، مگر مذاق اڑانے والے بھول گئے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس دور کی کہانیاں ہی یاد رکھی جائیں گی اور 60 کی جدیدیت کے ہیرو

Read more

ہندو پاک: اب جنگ قبول نہیں

ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔ 26 / 11 حادثہ کے بعد ہندستان میں جو کشیدگی اور غم وغصہ کی فضا پیدا ہوئی، اس نے دوستی اور محبت کے تمام رنگوں کو فراموش کر دیا۔ ایک حقیقت اور بھی ہے کہ پاکستان سے دوستی رکھنے والی نسل اب یا تو نہیں ہے، یا اگر ہے تو وہ اتنی بوڑھی ہوچکی ہے کہ سرحدوں کی دشمنی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بعد کی نسلیں ہیں، انہوں

Read more

ٹیگور میری نظر میں

رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر گفتگو کے دروازے نہ کھلے ہوں۔ میرے لیے مشکل یہ تھی کہ ان پر لکھتے ہوئے کس گوشہ کا انتخاب کروں۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ان بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، جہاں حسین سے حسین خواب بھی معمولی اور چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ہشت پہلو شخصیت سے ان درجات کو طے کر گئے تھے، جہاں تمنا کا دوسرا قدم بھی کم معلوم ہوتا ہے۔ وہ اول تا آخر ہندستانی تھے اور ان کی تحریر میں عشق و محبت اور صداقت پاروں کا ایک ایسا سنگم تھا جہاں تصوف اور روحانیت کی لہریں بھی ہیں اور ایک سچے انسان کے بلند اخلاقی کردار کی نمائندگی بھی۔

Read more

منٹو شریف بدمعاش تھا

منٹو کو سمجھنے کے لیے صرف اس وقت کی غلامی کو ذہن میں رکھنا ہی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے منٹو کی کہانیاں صرف تقسیم کا المیہ نہیں ہیں۔ وہ کہانی لکھتے وقت اتنا بے رحم ہو جاتا تھا کہ اس کے الفاظ سے لہو رستے دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اظہار اس کے درد کا ترجمان بن جاتا تھا۔ منٹو کے لیے آزادی محض ایک لفظ بھر نہیں تھا۔ منٹو کے لکھنے کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی شروعات، غلامی کے سیاہ دن اور کالا پانی کے خوفناک قصوں سے بھری ہے۔

کہتے ہیں 1857 میں کالا پانی کی سزا پانے والے ہندستانی باغیوں نے انڈمان میں ایک نیا ہندستان بنایا تھا۔ ایک ایسے ہندستان کا تصور جس کی بنیاد یکجہتی اور آپسی بھائی چارے پر رکھی گئی تھی۔ لیکن منٹو پر باتیں کرتے ہوئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سمندر سے گھرا ہوا ایک ایسا جزیرہ جہاں سے ان قیدیوں کا بھاگنا آسان نہیں۔ چاروں طرف گرجتا ہوا سمندر، دھاڑتا ہوا شور، خوفناک درختوں کے بے رحم سائے، جنگلوں میں رہنے والے دہشت گرد آدی واسی، قسم قسم کے جانور اور زہریلے کیڑے مکوڑے انگریزوں نے ملک پر ست وفادار ہندستانیوں کے لیے کالا پانی کی سزا کا انتخاب کیا تھا۔

جہاں وہ طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجائیں یا دردناک موت کے آہنی شکنجے میں پھنس کر اپنا دم توڑ دیں۔

Read more

گل بوزا اور باقی چھ

دائمی سکون۔ ۔ ۔ گل بوزا کو احساس تھا کہ اگر یہ سکون کہیں ہے تو وہ صرف اس کے پاس ہے، اس علاقے میں کہیں نہیں۔ حاجی صاحب کے پاس بھی نہیں، جن کا گھر اچانک ساتھ گھروں کے درمیان آج گم ہوگیا تھا۔ اسے والد صاحب کی بات یاد آئی جو کہا کرتے تھے، جن کے دماغ کمزور ہوتے ہیں، وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ دبلے پتلے اور پستہ قد گل بوزا کو کبھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کوئی پر اسرار انجانی طاقت کیسے اس دماغ کے ساتھ کھیلتی ہے۔

Read more

میرے پسندیدہ 15 ناول (ڈاکٹر شہناز شورو کی فرمائش پر )

جب بیس برس کا تھا، میں نے بیس ناولوں کی ایک فہرست تیار کی تھی کہ مرنے سے قبل ان ناولوں کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ اب عمر کی اس منزل میں پہنچ چکا ہوں جہاں مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری فہرست سے کون خوش ہوتا ہے اور کون دکھی۔ عمر کی یہ یہ منزل ایک انوکھی منزل ہے جب آپ اس طلسم کے حصار میں ہوتے ہیں کہ اٹھ، چل کہتے ہی آپ کا

Read more

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

ایک دن وہ تمہیں تمھارے گھروں میں قید کریں گے۔ اور ان کے پاس ہر طرح کے ہتھیار ہوں گے ، تمہارے لئے۔ وہ تم سے تمہاری بے بسی کی قیمت بھی نہیں پوچھیں گے۔ اور تمہارے بچوں کے مستقبل میں نہیں ختم ہونے والا اندھیرا لکھ دیں گے۔ لاک ڈاؤن، جب ہم نے خود کو رمضان اور عید کے موقع پر اپنے گھروں میں قید کر لیا ہے، جب ہم دوسروں سے کہیں زیادہ لاک ڈاؤن کے اصولوں، قاعدے

Read more

ادب میں عورت کا تصور

تخلیق کی سطح پر عورتوں کا قلم باغی اور وحشیانہ بن گیا ہے، تو یہ بھی مرد سماج کی ہی دین ہے۔ بشریٰ اعجاز، سیمیں کرن، طاہرہ اقبال، نفیس بانو شمع، ترنم ریاض کے یہاں بغاوت نئی کہانی کا مرکز بن گئی ہے۔ غزال ضیغم لیسبیئن بن جانے کی صلاح دیتی ہیں۔ تو کہانی ’عکس‘ میں نگار عظیم باپ بیٹی کے جنسی رشتے پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے ں۔ عورت دراصل اپنے وجود کی نفرت میں جی رہی ہے۔

Read more

محبت الوداع :رشی کپور

. ”Love loves to love love.“ — James Joyce ”The one thing we can never get enough of is love. And the one thing we never give enough is love.“ — Henry Miller پہلے عرفان خان پھر رشی کپور۔ بالی ووڈ میں سناٹا پسرا ہے۔ اس وقت یہ سناٹا میرے اندر بھی ہے۔ لفظ گونگے ہیں۔ شہنایی کی آواز ماتم میں تبدیل۔ امیر خسرو اور مولانا روم کی بانسری کی آواز میں ایک دھندلی دھنلی شبیہ اترتی ہے۔ میں۔ محبت

Read more

عرفان خان: میں نے شیکسپئر کو مرتے ہوئے دیکھا ہے

غمزدہ اور اداس ہوں۔ عرفان خان۔ کیا صرف ایک ایکٹر تھا؟ اس کی آنکھوں اور پتلیوں کی ہلچل میں ہر بار مجھے محسوس ہوا کہ میں ادب کی دنیا میں ہوں اور مارخیز، میلان کندرا، وکٹر ہیوگو، ٹالسٹائی یا دو ستوفسکی کے قد کے کسی نایاب ہیرے کو دیکھ رہا ہوں۔ دو بڑی آنکھیں جو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھیں۔ دو بڑی بڑی آنکھیں جو سیدھے دل میں اتر جاتی تھیں۔ ان آنکھوں میں زندگی کے افسانے پوشیدہ تھے۔ جب

Read more

ہم ڈوبتے سورج کا نظارہ نہیں کرنا چاہیں گے

جب چین کے شہر ووہان میں کرونا سے متاثرہ مریض نے ڈاکٹر لی سے اپنی زندگی کے آخری ڈوبتے سورج کو دیکھنے کی حسرت آمیز التجا کی، تو اس خبر کو کئی اخبارات نے ”آخری ڈوبتا سورج“ کے عنوان سے چھاپا۔ ( رابعہ احمد ) جب لکھنؤ میں نماز پڑھتی ہوئی عورتوں پر بے رحم پولیس والوں کی لاٹھیاں برس رہی تھیں، جب شاہین باغ پر گجرات ماڈل کی طرح پیٹرول بموں سے حملہ کیا جا رہا تھا، جب افق

Read more

اردو ناول کی گم ہوتی دنیا

مستنصر حسین تارڑ بھی ناول کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔ ’خس وخاشاک زمانے‘ تارڑ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کے بغیر اردو ناولوں پر گفتگو ممکن ہی نہیں ہے۔ اپنے ناول نگار دوستوں سے مخاطب ہوں جو افسانوں اور ناولوں میں تجربوں کا دم بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تجربہ تو ہونا ہی چاہیے، مگر زیادہ تر لوگ تجربہ تب کرتے ہیں جب ان کے پاس وہ فن یا ہنر نہیں ہوتا، جو مکالمہ نگاری پر قدرت

Read more

ہندوستان کے مسلمان اور موجودہ رمضان

بگ برادر اور میڈیا کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ میڈیا مسلمانوں پر عقاب کی طرح نظر رکھے گی۔ جھوٹ پھیلانا، فرضی خبروں کو پروموٹ کرنا اس کا پیشہ ہے۔ سمبٹ پاترا، سدھیر چودھری، چورسیا، ارنب گو سوامی اور گوڈی میڈیا رمضان کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ فرض کیجئے، ہم گھر میں رہے، گھر میں تراویح کے لئے خاص انتظام کیا، میڈیا کی نظر اس بات پر بھی ہوگی۔ میڈیا اس

Read more

کرشنا سوبتی : وقت کے بھیانک تانڈو کے درمیان ایک سپنے کا اَنت

کرشنا سوبتی چلی گئیں، مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ وہ اس ماحول میں زندہ کیسے تھیں؟ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، اگر آپ کرشنا سے ملے ہیں، تو اس درد کی کیفیت کا سراغ مل سکتا ہے اور نہیں ملے، تو آپ اس درد کا اندازہ نہیں لگاسکتے کہ وہ زندہ کیسے تھیں، جیسے لاکھوں کروڑوں زندہ رہتے ہیں، کرشنا سوبتی ان میں سے نہیں تھیں اور کوئی دوسرا کرشنا سوبتی ہو بھی نہیں سکتا، وہ ایک

Read more

میرا جسم، میری مرضی: یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گا

وہ اپنے بدن سے روز کھلونے بناتی ہے اور کھلونے سے زیادہ ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ کنواری ہے، لیکن ذلت کا لگان سہتی ہے وہ ہماری ہے لیکن ہم بھی اُسے اپنی دیواروں میں چُن کے رکھتے ہیں کہ ہمارے گھر اینٹوں سے بھی چھوٹے ہیں (سارا شگفتہ) اقبال نے کہا تھا وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ عورت آج برانڈ بن چکی ہے۔ ایک ایسا برانڈ، جس کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنے پروڈکٹ کو

Read more

اردو ادب میں غیر کا مسئلہ

آنکھیں کھلتے ہی لامحدود و لا متناہی سوالوں کے شیش محل ہوتے ہیں، جس کا ہر دروازہ ایک بھول بھلیاں ہوتا ہے۔ بے بس و مجبور انسان کی مجموعی شناخت اس کنج قفس میں اسرار و رموز کی پرتیں ادھیڑتے، تلاش کرتے ہوئے رائیگاں گزر جاتی ہے پھر بھی وہ سرا نہیں ملتا جس کے بارے میں کہا گیا کہ غور کرو، تمہارے لئے نشانیاں ہیں۔ یہاں میں ’میں‘ ہونے کے باوجود عکس نا آفرید کی شاخوں میں جھولنے، ڈولنے

Read more

میں نے ہندوستان کو بدلتے ہوئے دیکھا

سڑکوں، چوراہوں پر ترشول اٹھائے اب ان خانہ بدوشوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے ان خانہ بدوشوں کو ہالی وڈ کی فلموں میں دیکھا تھا۔ مارخیز کے ناول میں یہ بھلے خانہ بدوش تھے جو ہر دن نئی دنیا سے ٹکرا رہے تھے۔ ان کا ایک سماج تھا اور اس سماج میں محبت جیسی شے بھی قائم تھی۔ مگر ان خانہ بدوشوں کے چہرے سے زہریلے پوسٹر جھولتے تھے اور ان کے پیچھے وہ لوگ تھے جو تعلیم

Read more

جوناتھن سوئفٹ کے بندر، انجان عدلیہ، ہانپتا ہوا ملک

جمعیت علمائے ہند نے سپریم کورٹ میں دعوی پیش ٰکیا کہ نظام الدین مرکز کیس کو میڈیا نے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سازش کی ہے۔ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ تبلیغی جماعت کے کچھ حصوں سے متعلق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹ نے پوری مسلم قوم کو نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی توہین کی گئی۔ میڈیا کے ذریعے جو رویہ اختیار کیا گیا اس سے مسلمانوں کی آزادی اور ان کی

Read more

سب کچھ بھول بھلیاں

ہمارے نقادوں نے اصطلاحات کے نام پر محض اپنی تنقید کو مستعار مغربی افکار سے آراستہ کرنے یا سجانے کا کام کیا ہے۔ جدیدیت، ترقی پسندی، ساختیات، پس ساختیات، متن، ماہیت، نظریہ، رجحان یہ سب مانگے کی خیرات یا اصطلاحات ہیں، جن سے ادب تخلیق کرتے ہوئے ہمارا فکشن رائٹر کبھی دوچار نہیں ہوتا۔ کسی مخصوص نظریہ یاکسی مخصوص رجحان کے سیلاب میں تنکے کی طرح بہہ جانا بھی جینوئن ادیب کا کام نہیں ہے۔ یہ ہماری ذہنی پسماندگی ہے

Read more

ہم گہری نیند کے مجرم، ہم اب بھی گہری نیند میں ہیں

ایک اشارہ اور رات کے اندھیرے میں موم بتیاں جل اٹھتی ہیں۔ دیے روشن ہو جاتے ہیں۔ ایک اشارہ، تھالی اور تالی سے ملک گونجنے لگتا ہے۔ ایک اشارہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور ہم اب بھی خوش فہمیوں کا شکار، گہری نیند کے مجرم، تنہائی کی بساط پر گھوڑے اور مہرے کے کھیل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کس نے کہا کہ زی نیوز نے معافی مانگی۔ زی نیوز نے لفظ کھید یعنی دکھ محسوس کیا ہے۔ جس دن

Read more

فکشن کی سلطنت میں ہمیشہ دو چار نام ہی رہتے ہیں

جب اردومیں افسانہ نگاری کا آغاز ہوا، اس وقت مغرب کے کئی شاہکار ہمارے سامنے آچکے تھے۔ جان گالزوردی، موپاساں، چیخوف اور ایڈ گرایلن پو کی کہانیوں نے اردو زبان کے شروعاتی دور کے افسانہ نگاروں کو متوجہ کیا تھا۔ سجاد حیدر یلدرم اور سلطان حیدر جوش کی کئی کہانیاں ایسی ہیں، جن پر آپ محض روایتی ہونے کا فتویٰ نہیں دے سکتے۔ اس وقت کی کہانیوں میں ایڈ گرایلن پو، موپاساں اور چیخوف کا رنگ غالب تھا۔ اسی طرح

Read more

راستہ بند نہیں ہوتا مگر ہمارے پاؤں الٹے ہیں

میرے دوست اکثر سوال کرتے ہیں کہ حل کیا ہے؟ جب میڈیا جھوٹ کی بارش کرنے لگے، فرضی خبروں کو حقیقت کی طرح پیش کرنے لگے اور اکثریت کو اس بات کا احساس ہونے لگے کہ ہندوستان میں ہر جرم کے پیچھے مسلمان ہیں۔ وائرس کے پیچھے مسلمان ہیں۔ مسلمان غائب تو سارے مسائل خود بہ خود حل ہو جاییں گے۔ جب ایسی فکر سامنے ہو تو ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں، احتساب کریں

Read more

اردو ہندی اخبارات کی دنیا اور تقسیم کا منظرنامہ

ایک زمانہ تھا جب فرنگیوں نے ہندو اور مسلمانوں کو دو حصوں کو تقسیم کردیا تھا۔ یہ فرنگی سیاست تھی جس کی بنیاد ہی تقسیم کر و اور حکومت کرو کی بنیاد پر رکھی گئی تھی۔ اور آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ آزادی اپنے ساتھ لہو لہان تقسیم کے الیہ کو ساتھ لے کر آئی تھی۔ مگر غور کیجئے تو آزادی کی جنگ میں ہندستان سے نکلنے والے تمام اخبارات ایک سر میں انگریزوں کی مخالفت کررہے تھے۔ اردو، ہندی کے علاوہ علاقائی زبانوں سے نکلنے والے اخبارات کا لہجہ اور مقصد ایک ہی تھا۔

Read more

اردو افسانے کا بدلتا منظرنامہ

2020۔ ایک دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ عالمی ادبی منظر نامے میں بھی سیاست اور تبدیل شدہ معاشرے کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ وقت بدلا۔ بدلتے ہوئے وقت کا عکس اردو کہانیوں میں بھی نظر آیا۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ یہ اردو کہانیاں اپنی زمین سے وابستہ بہت کم رہ سکیں۔ کچھ برس قبل مجھے ایک دلچسپ خط ملا۔ کہانی کار زیب اختر کا۔ اس نے اردو میں نہ لکھنے کی یہ وجہ بتائی: ”اردو کو میں نظر

Read more

یہ نئی دنیا پاگل کرنے والی ہے

ایک بھیانک دنیا۔ کچھ عجیب سے سچ۔ اور تماشا دیکھنے والے ہم۔ سماجی آئین سے الگ ایک نئی اخلاقیات سامنے آچکی ہے۔ آسٹریلیا کے حوالے سے ایک خبر آئی کہ ایک شیرنی، ایک چھوٹی سی بلی کی محافظ بن گئی۔ انگلینڈ کے ایک جنگل میں کتے اور بھالو ساتھ ساتھ کھیلتے پائے گئے۔ دنیا کے سب سے چھوٹے ماں باپ 51 سال کے بچے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی سائبر ورلڈ، ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور پگھلتے ہوئے گلیشیرس۔ نیوزی لینڈ کی عورت نے اپنے گھر سے دو بھوت پکڑے۔ ایک بوتل میں بند کیا اور آن لائن خریدار مل گئے۔ ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جہاں کچھ بھی فروخت ہوسکتا ہے۔ در اصل ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر حیوان بنانے کی تیاری چل رہی ہے ۔ نئی قدریں تشکیل پا رہی ہیں۔

Read more

لاک ڈاؤن ، ٹھہری ہوئی زندگی اور خوف

اسمرتی آدتیہ نے ڈین آر کونٹز کے حوالہ سے دی آئیز آف ڈارکنس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کی مانگ مارکیز کی کتاب وبا کے دنوں میں محبت کی طرح بڑھ گئی ہے۔ دراصل 1981 کے آس پاس لکھی گئی اس کتاب میں ایک انفیکشن کا ذکر ہے اور اس کا نام ووہان 400 ہے۔ یعنی، تقریبا 40 سال پہلے، اس وائرس کا ذکر کتاب میں ہوا تھا۔ ناول ایک ایسی والدہ سے شروع ہوتا ہے جو اپنے

Read more

تبلیغی جماعت، وائرس اور آخر میں ادب

پہلے ان دونوں بیانات کا جائزہ لیجیے۔
بھارت میں کورونا پھیل نہیں رہا بلکہ پھیلایا جا رہا ہے اس کی تازہ مثال نظام الدین سے ملے چودہ سو سور ہیں۔ ۔ راہل کمار ( فیس بک )
نظام الدین میں لوگ چھپے ہوتے ہیں لیکن ماتا ویشنو دیوی مندر میں پھنسے ہوتے ہیں۔ پروفیسر خالد مبشر ( فیس بک )

پہلا بیان ارون کمار کا ہے۔ یہ نام فرضی ہے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طرح کے بیانات بلکہ اس سے بھی زیادہ فحش بیانات مسلمانوں کے خلاف سوشل ویب سائٹ پر چھائے ہوئے ہیں۔ خالد مبشر نے چھپے اور پھنسے کے فرق کو ظاہر کیا ہے۔ یہ بات صاف تھی کہ کورونا کے دنوں میں بھی سوشل میڈیا، گوڈی میڈیا کو ایک بڑی چونکانے والی مسلم مخالف خبر کی ضرورت تھی۔ اور وہ انھیں آسانی سے نظام الدین کے حوالہ سے مل گئی۔ بغیر سوچے سمجھے مسلمانوں نے بھی سیکولرزم کے دروازے کو کھول دیا اور تبلیغی جماعت والوں پر برس پڑے۔

Read more

وبا کے دنوں میں رامائن

پرکاش جاورکڑ  نے رامائن کے شروع ہونے کی اطلاع دی ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے یہ ایک عام خبر ہو سکتی ہے۔ لیکن نفرت اور وبا کے دنوں میں اس خبر کی خاص حیثیت ہے۔ راما نند ساگر سیکولر ذہن کے مالک تھے۔ ترقی پسند تحریک چلی تو ان کے ناول اور انسان مر گیا کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ بھاگ ان بردہ فروشوں سے جیسی خوبصورت کہانیوں میں بھی، ان کے اندر کا ترقی پسند انسان زندہ تھا۔ یہی راما نند ساگر فلموں میں آئے تو اپنی کمرشل فلموں کو ادب سے دور رکھا۔

Read more