عینی آپا کی باون گز کی دنیا

بے شمار تجربات اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر آپ غور کریں تو صرف آگ کا دریا کو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ یہ ڈھائی ہزار برسوں کا قصہ ہے، ان کی عام کہانیوں میں بھی، قصہ چاہے ایک خاندان کا کیوں نہ ہو، لیکن یہ خاندان پھیلتے پھیلتے صدیوں کی داستان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات محض قصے کہانیوں تک محدود نہیں، کتابوں کے دیباچے، مقدمہ یا پیش لفظ لکھتے ہوئے بھی وہ ایک ایسی فاسٹ ٹرین میں سفر کرتی ہیں، جہاں قصے، واقعات وقت کے کسی ایک لمحہ سے جست لگا کر لا مکانوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

Read more

گزشتہ راکھ کی چنگاریاں اور انتظار حسین

7 دسمبر 1923ء کو بلند شہر، میرٹھ میں پیدا ہونے والے انتظار حسین نے خوفناک بندروں کے اس میلے کو اتنے قریب سے دیکھا کہ ہجرت کے بعد بھی ماضی کی گٹھری اور پوٹلی سے خود کو آزاد نہ کرسکے۔ وہ ایک ایسے داستان گو تھے جس کا مکمل اثاثہ ماضی کی وہ داستانیں تھیں،…

Read more

ہندوستانی مسلمان: حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے

کہاں سے شروع کروں؟ کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری۔ ہم اب بھی بے خبر ہیں اور خوش فہمی کے کمزور اور نازک پل پر سوار ہیں۔ ایک ایسی شاطر حکومت ہمارے درمیان ہے جس نے بغیر تختی، اور اعلان کے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا۔ کچھ بات ہے کہ ہستی۔ ہستی…

Read more

قرنطینہ، عید، ہلاکت اور مسلمان

روسی تھیٹر ڈائریکٹر کیریل سیربرینکوف کو ماسکو میں ڈیڑھ سال تک نظربند رکھا گیا۔ اس درمیاں انھوں نے ایک ویڈیو تیار کی کہ ’جب آپ گھر کے اندر پھنس جائیں تو پاگل ہونے سے کیسے بچیں۔‘ جب شاہین باغ نفرت کے خلاف حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا، ہم نے ان فسادی چہروں کو دیکھا جو ہندوستان کو پاگل خانہ میں تبدیل کرنے آئے تھے۔ ہندوستان اب ایسا ملک تھا، جہاں کھلے عام مسلم دشمنی کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ مسلمانوں کو ہلاک کیا جا رہا تھا، اور انصاف پسند جن عمارتوں اور لوگوں پر ہمارا یقین تھا، ان لوگوں کو خریدا جا رہا تھا۔ آزادی کے غیر متوقع لمحات کا جائزہ لیتے ہوئے یولیا تسویتکوفا نے ایک سروے میں بتایا ’جب انھوں نے مجھے 500 میٹر کی چہل قدمی کے لیے جانے دیا تو وہ بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی آزادی کی طرح لگا لیکن اس نے اس بات کا اور بھی احساس دلایا کہ میں باقی اوقات کتنی غیر آزاد ہوں۔‘

غیر آزاد۔ کیا مسلمان حقیقت میں آزاد ہیں؟ یہ نہ بھولیں کہ رمضان کے مقدس مہینے جس صبر و تحمل کا ثبوت مسلمانوں نے پیش کیا اس کی نذیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب مزدور، مردہ اور ذلیل سیاست کا شکار ہو کر ہجرت کر رہے تھے، مسلمان تراویح سے نکل کر، یا روزہ رکھ کر ان کی مدد کر رہے تھے۔ اور یہ ان مزدوروں کا بیان ہے کہ جو مدد مسلمانوں نے پہنچائی، ایسی خدمت کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ ایک سروے میں یہ بات بھی آئی کہ مہاجر مزدوروں کے لئے 80 فیصد مسلمان سامنے آئے اور بیس فیصد غیر مسلم۔

Read more

ادب ایک مخصوص لہجہ کی قید میں ہے

بلراج مینرا ہوں، انور سجاد، اکرام باگ ہوں یا قمراحسن، ایسے تمام لوگوں پر جدیدیت کے اثرات تو تھے مگر ایک حد تک ترقی پسندی بھی غالب تھی۔ 1960 تک آتے آتے ’انگارے‘ سرد پڑ گئے تھے۔ ترقی پسند کہانیوں کو پروپیگنڈا کہانیاں بتا کر مذاق اڑایا جا رہا تھا، مگر مذاق اڑانے والے بھول…

Read more

ہندو پاک: اب جنگ قبول نہیں

ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔ 26 / 11 حادثہ کے بعد ہندستان میں جو کشیدگی اور غم وغصہ کی فضا پیدا ہوئی، اس نے دوستی اور محبت کے تمام رنگوں کو فراموش کر دیا۔ ایک حقیقت اور بھی ہے کہ پاکستان سے دوستی رکھنے والی نسل اب یا تو نہیں ہے،…

Read more

ٹیگور میری نظر میں

رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر گفتگو کے دروازے نہ کھلے ہوں۔ میرے لیے مشکل یہ تھی کہ ان پر لکھتے ہوئے کس گوشہ کا انتخاب کروں۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ان بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، جہاں حسین سے حسین خواب بھی معمولی اور چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ہشت پہلو شخصیت سے ان درجات کو طے کر گئے تھے، جہاں تمنا کا دوسرا قدم بھی کم معلوم ہوتا ہے۔ وہ اول تا آخر ہندستانی تھے اور ان کی تحریر میں عشق و محبت اور صداقت پاروں کا ایک ایسا سنگم تھا جہاں تصوف اور روحانیت کی لہریں بھی ہیں اور ایک سچے انسان کے بلند اخلاقی کردار کی نمائندگی بھی۔

Read more

منٹو شریف بدمعاش تھا

منٹو کو سمجھنے کے لیے صرف اس وقت کی غلامی کو ذہن میں رکھنا ہی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے منٹو کی کہانیاں صرف تقسیم کا المیہ نہیں ہیں۔ وہ کہانی لکھتے وقت اتنا بے رحم ہو جاتا تھا کہ اس کے الفاظ سے لہو رستے دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اظہار اس کے درد کا ترجمان بن جاتا تھا۔ منٹو کے لیے آزادی محض ایک لفظ بھر نہیں تھا۔ منٹو کے لکھنے کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی شروعات، غلامی کے سیاہ دن اور کالا پانی کے خوفناک قصوں سے بھری ہے۔

کہتے ہیں 1857 میں کالا پانی کی سزا پانے والے ہندستانی باغیوں نے انڈمان میں ایک نیا ہندستان بنایا تھا۔ ایک ایسے ہندستان کا تصور جس کی بنیاد یکجہتی اور آپسی بھائی چارے پر رکھی گئی تھی۔ لیکن منٹو پر باتیں کرتے ہوئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سمندر سے گھرا ہوا ایک ایسا جزیرہ جہاں سے ان قیدیوں کا بھاگنا آسان نہیں۔ چاروں طرف گرجتا ہوا سمندر، دھاڑتا ہوا شور، خوفناک درختوں کے بے رحم سائے، جنگلوں میں رہنے والے دہشت گرد آدی واسی، قسم قسم کے جانور اور زہریلے کیڑے مکوڑے انگریزوں نے ملک پر ست وفادار ہندستانیوں کے لیے کالا پانی کی سزا کا انتخاب کیا تھا۔

جہاں وہ طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجائیں یا دردناک موت کے آہنی شکنجے میں پھنس کر اپنا دم توڑ دیں۔

Read more

گل بوزا اور باقی چھ

دائمی سکون۔ ۔ ۔ گل بوزا کو احساس تھا کہ اگر یہ سکون کہیں ہے تو وہ صرف اس کے پاس ہے، اس علاقے میں کہیں نہیں۔ حاجی صاحب کے پاس بھی نہیں، جن کا گھر اچانک ساتھ گھروں کے درمیان آج گم ہوگیا تھا۔ اسے والد صاحب کی بات یاد آئی جو کہا کرتے تھے، جن کے دماغ کمزور ہوتے ہیں، وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ دبلے پتلے اور پستہ قد گل بوزا کو کبھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کوئی پر اسرار انجانی طاقت کیسے اس دماغ کے ساتھ کھیلتی ہے۔

Read more

میرے پسندیدہ 15 ناول (ڈاکٹر شہناز شورو کی فرمائش پر )

جب بیس برس کا تھا، میں نے بیس ناولوں کی ایک فہرست تیار کی تھی کہ مرنے سے قبل ان ناولوں کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ اب عمر کی اس منزل میں پہنچ چکا ہوں جہاں مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری فہرست سے کون خوش ہوتا ہے اور کون دکھی۔…

Read more