نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٓویسے تو کسی نہ کسی طرح ہمارے ملک کے نوجوان اپنے کسی نا کسی کام سے ملک کا نام روشن کرتے رہتے اور میڈیا کے ذریعے ان کا علم بھی ہوتا رہتا ہے مگر آ ج پارس طالب نامی لڑکی کووزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار صاحب کے نوٹس پر ضلع وہاڑی میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ذریعے نوکری کی خبر پڑھی تو بہت اچھا لگا۔ خصوصاً ان کی حاصل کردہ تعلیم اور پرانی نوکری دونوں ہی قابل غور نقطے رہے اور میر ی نظر میں پارس طالب نوجوانوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہ ہے۔

نوجوانوں کے بے روزگاری کے اس دور میں پارس طالب کے ہمت اور جذبے کی ضرور پیروی کرنی چاہیے۔ ضرور ہے کہ ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد تمام نوجوانوں کی طرح انہوں نے مختلف جگہ پر نوکریوں کے لئے اپلائی بھی کیا ہو گا اور نوکری نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے تعلیمی معیار کو رکاوٹ نہیں بننے دیا اور جو بھی چھوٹے سے چھوٹا کام ملا اس سے اپنی پریکٹیکل زندگی شروع کر دی۔ اور شاید ہم سب گواہ ہیں کہ جب تک ہم کام شروع نہیں کرتے، اور مختلف قسم کے خود ساختہ بہانے تراش کر اپنی کوششیں ملتوی کرتے رہتے ہیں تو ہمیں مزید موقع نہیں۔

ایک عالمگیر ماہر نفسیات کے سٹڈی بتاتی ہے کہ نوجوانوں میں پیشہ چننے کے فیصلے کچھ انفرادی اور کچھ اجتماعی عوامل اثر انداز ہوتے مثلاًذاتی دلچسپی، نوکری کا تحفظ، خاندانی سپورٹ، مالی معاوضہ، خود افادیت اور دوسرا اجتماعیت میں خاندانی ہم آہنگی، اساتذہ سے صلاح مشورہ، ہم مرتبہ کا اثر رسوخ۔ باتیں تو دل کو لگتی ہیں مگر یہاں جب اکثر نوجوانوں سے بہتر نوکری کی خصوصیت پوچھیں تو برملا کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری۔ اس میں مالی معاوضہ اگرچہ کم ہے مگر جاب کا تحفظ ہے، تعلیمی قابلیت اگرچہ میری بزنس ایڈ منسٹریشن ہے مگر سرکاری نوکری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ ظاہر سرکار پینسٹھ فیصد کے لئے جابز پیدا بھی نہیں کر سکتی۔ تو کیا ہی بہتر نہیں سرکاری نجی شعبے کو کام شروع کرنے سے پہلے تما م تر سرکاری نوکریوں والے شرائط اور سہولتیں لازم کر دے۔

پنجاب حکومت کے ای روزگار اور وفاق کے یوتھ لان کے نتائج ہی بتا سکتے ہیں کہ موجودہ حکومت عملی طور پر پینسٹھ فیصد کو کیسے استعمال کر رہی ہے یا ان کے لئے اب تک کیا کیا ممکنات پیدا کی گئی ہیں۔ ہیومن ریسورس وزارت، پارلیمانی سیکرٹری اور سٹاف سب تنخواہیں لے رہیں ہیں مگر کارکردگی؟ تو وہ بہت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملی۔ تما م تر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے سروسز کے شعبوں کے ترقی دے کر اپنے ملکوں تر قی کی راہ پر ڈالا۔ ہمارے ہاں آ جا کر نوجوانوں کا تمام تر دھیان سب سے پہلے گورنمنٹ جاب اس کے بعد جہاں بہتر آپشن مل جائے۔ کیونکہ یہاں کسی بھی انڈسٹری میں استحکام نہیں ہے کہ بندہ باقاعدہ سے کیئر ئیر اختیار کرے۔

پچھلے چند عشروں میں ٹیلی کمیونیکیشن شعبے نے، بینکنگ سیکٹر، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کے شعبے نے بہت سے نوجوانو ں کو متاثر کیا اور بہت سارے لوگوں نے اپنے تعارف میں اپنی کمپنی کا نام بھی شامل کرلیا مگر شاید سروسز سے متعلقہ شعبے پچھلے کچھ عشروں میں سیاسی عدم استحکام کی طرح اپنا استحکام کھو چکے ہیں اور اس دوران فریش گریجویٹ کی بڑی تعداد بھی فارغ التحصیل ہونے کے بعد بے روزگاروں میں اضافے کا سبب بن چکے ہیں۔

گیمز، بزنس سٹارٹ اپس، فنکار، میوزک، سائنسدان، ڈانس، گائیکی، ایجاد کار، آرکیالوجسٹ، سیاست، آئی ٹی، ہوٹل مینجمنٹ، ہیلتھ سروسز، زراعت، ٹیکسٹائل، انجنینئرنگ، ایکٹنگ، فلم میکنگ، فوٹو گرافر، فیشن ڈیزائنر، انٹیریر ڈیزائینر، رائٹر، فٹنس ٹرینر، ٹیکنیکل جابز، حکومتی ایوانوں میں موثر نمائندگی اور اس جیسے شعبوں پر بھی توجہ دی جائے تو بہت سے نوجوان ان شعبوں میں روزگار بھی کما سکتے ہیں اور کیئرئیر بھی بنا سکتے ہیں۔ مگر یہاں ساری حکومتی توانائیاں اس کو لگا دو اس کو ہٹھا دو، آ ٹا چینی سکینڈل، احتساب اور جوڑ توڑ میں لگ جاتی ہیں۔

انڈسٹریل شعبے کو مراعاتی پیکج اور اس میں پنہاں ایمنسٹی بظاہر ایک احسن قدم اور وقت حاضرہ میں ضرور یہ سولہ انڈسٹریز کو فائدہ پہنچائے اور ظاہر ہے یہ فوائد ان شعبوں سے وابستہ لوگوں تک بھی پہنچیں گے۔ مگر کیا صرف ایک شعبہ تما م تر دیگر شعبوں کو بھی سہارا دے گا یقیناً نہیں۔ اس لئے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر توجہ دی جائے، ایک ہی عینک سے دیکھنے کی بجائے عینک کے شیشوں کے تما م نمبروں پر توجہ دی جائے اور تھوڑی سی ترمیم کر کے اب نوجوانوں کو ملک کے مستقبل کی بجائے حال سمجھا جائے او ر خدارا اپنے حال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply