طاہر اشرفی بنام دعائیہ قصیدہ گو مولانا طارق جمیل


مولانا طارق جمیل نے دین مبین میں دعائیہ قصیدہ گوئی کی نئی صنف متعارف کرائی، شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا اور سوزوساز سے دلوں کو مسخر کیا، غنایت کو موثر ہتھیار بنایا، دین و دنیا کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹا، درباروں تک رسائی پائی، دعائیہ قصیدہ گوئی کے امام بن کر ابھرے۔ جب وزیراعظم عمران خان کی ٹیلی تھون میں اسی دعائیہ قصیدہ گوئی میں ناموزوں اصطلاحات استعمال کرنے پر نیم خواندہ اور متکبر اینکروں کے ہتھے چڑھے اور اپنے آپ کو تنازعات میں گھرا پایا تو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور جان چھڑائی۔ اس حوالے سے جوان فکر اور ہمہ رنگ مزاج مولانا طاہر اشرفی جناب طارق جمیل سے مخاطب ہیں

"چند گذارشات حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کی خدمت میں کرنا چاہتا ہوں۔

چند ماہ سے مولانا طارق جمیل اور محترم تبلیغی بزرگوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔ سیاسی اعتبار سے صورت حال ناقابل تصور ہے۔ مولانا طارق جمیل کو اللہ تبارک وتعالی نے علم اورخطابت کے میدان میں بہت نام دیا اور یہ شہرت اللہ کے بعد تبلیغ جماعت کی وجہ سے ملی۔ جب تک مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کے اسلوب پر رہے مولانا کے مخالفین نے بھی کبھی ان پر انگلی نہیں اُٹھائی۔

 چند سال قبل مولاناطارق جمیل کا اصحاب رسولؐ خاص طور پر سیدنا ابوبکر صدیق کے حوالے سے متنازع موقف سامنے آیا تو اس وقت خط کے ذریعے مولانا سے یہ گذارش کی تھی کہ وہ ایسے معاملات کو مت چھیڑیں جو اُمت کے متفقہ ہیں اور پھر اس پر مولانا طارق جمیل نے معذرت کر کے رجوع کر لیا ۔

پاکستان ہی نہیں دنیا بھرمیں مولاناطارق جمیل کو سوشل میڈیا پر بالخصوص اب بڑے ہی احسن انداز سے سنا اور دیکھا جاتاہے لیکن گذشتہ سال ڈیڑھ میں مولانا کی شخصیت جس بری طرح سے مجروح ہو رہی ہے، تکلیف دہ ہے۔

 مولانا طارق جمیل سے عرض کرنا چاہتا ہوں آپ سیاسی میدان کے آدمی نہیں تھے اور اگر آپ نے سیاسی میدان میں آنا ہے اگر آپ نے سیاست کرنی ہے پھر آپ اپنی کوئی جماعت بنا لیں یا پھر جو جماعت اچھی لگتی ہے، اس میں شامل ہو جائیں۔

 بہت سے اُمور پر ہم بھی عمران خان کی تائید اور مخالفت کرتے ہیں۔جہاں غلط سمجھتے ہیں، انہیں غلط کہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جس کی حمایت ہو، اس کو اچھا لگتا ہے۔ جس کی مخالفت ہو، اسے برا لگتا ہے لیکن مولانا آپ توایک متفق شخصیت تھے جن کے بارے میں سب کا احترام اور اتفاق تھا۔ آہستہ آہستہ روزوشب آپ متنازع بنتے چلے جا رہے ہیں، یہ قابل افسوس بات ہے، خوشی کی بات نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے اصحاب آپ کو نہ بتاتے ہوں کیونکہ آپ خود اتنا سوشل میڈیا نہیں دیکھتے ہوں گے یا اگر دیکھتے ہیں تو آپ اس کو اہمیت نہ دیتے ہوں لیکن آپ سے جو محبت کرنے والے ہیں ان کے لیے یہ بڑا تکلیف دہ امر ہے۔

ابھی حالیہ ایام میں تبلیغی جماعت کے ساتھ جو مسائل پیش آئے جس اندازسے تبلیغی جماعت کو ہدف تنقید بنایا گیا اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب آپ کی وہ متنازعہ دعا تھی جو وزیراعظم عمران خان کی ٹیلی تھون کے دوران کی گئی اینکروں نے سارا غصہ تیر اور تلوار لے کر ان غریب تبلیغی جماعت والوں پر نکالا گیا جن کا حال آپ نے اس طرح نہیں پوچھا جس طرح پوچھا جانا چاہیے تھا بلکہ آپ نے بھی کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ان غریبوں کو قرار دے دیا۔ آپ تو ان کے بہت قریب ہیں، ہم بہت دور ہیں۔ تبلیغی جماعت کے حضرات کا بڑا واضح موقف ہے کہ اگرحکومت ہمیں کہتی کہ جماعتیں نہ نکالو تو ہم نہ نکالتے اور آج اللہ کی راہ میں نکلنے والی جماعتوں کا جو حشر ہو رہا ہے، وہ کسی مخفی نہیں ہے، خواہ وہ اندرون ملک ہے یا بیرون ملک ہیں۔  ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو یہ عزت جس جماعت کی وجہ سے دی، ان لوگوں کا حال بھی نہیں پوچھا اور اگر پوچھا بھی ہے تو میرا خیال ہے کہ اس کے کوئی اثرات سامنے نہیں آئے۔

دنیا آپ کو بہرحال تبلیغی جماعت کے حوالے سے ہی جانتی اور پہچانتی ہے۔ سیاسی لوگ تبلیغی جماعت کی وجہ سے آپ کے قریب ہوتے یا کہ آپ کو اپنے قریب کرتے ہیں کہ اتنی بڑی جماعت ان کے کھاتے میں چلی جائے۔ آپ کی معذرت کے بعد یہ تنازعہ ختم ہو جانا چاہیے، آپ نے اس پر معافی بھی مانگ لی ۔

آپ کے قریبی احباب آپ کو  صحیح صورت حال نہیں بتا رہے آپ نے بیچارے محنت کرنے والے ان نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے یوٹیوب چینل بند کروائے جن کی وجہ سے آپ کا پیغام پوری دنیا تک پہنچ۔ اس سے انہوں نے مال بنایا ہو گا پیسے کمائے ہوں گے، آواز آپ کی تھی، محنت ان کی تھی۔ اس کو آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ان لوگوں آپ کا پیغام بھی گلی گلی، محلے محلے اور سات سمندر پار پہنچایا۔ اپنے کندھوں پر ٹی وی کیمرے اُٹھائے وہ آپ کے پیچھے پیچھے گلی گلی، محلے محلے میں پھرتے رہے، آپ کی بات کروڑوں لوگوں تک پہنچاتے رہے اور پھران کے ساتھ جو کچھ آپ نے کروایا، وہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ اور یہ پہلی چیز تھی جو تبلیغ کے اسلوب کے خلاف آپ کی طرف سے ہوئی اور پھر اس کے بعد یہ چیز روز وشب بڑھتی چلی گئی۔ مولانا مبلغ کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ میری بات پوری دنیا تک پہنچ جائے۔ جہاں تک بھی ہو سکے مبلغ اپنی بات کو قید نہیں کرتا ۔

اب وقت آگیا ہے کہ آپ کو اپنا راستہ متعین کرنا چاہیے تھے کہ آپ نے سیاست کرنی ہے یا آپ نے ایک مبلغ کے طورپر ایک خطیب کے طور پر، طارق جمیل کے طور پہ اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔

 پچھلے دنوں ٹی وی پروگرام میں آپ نے اپنے آپ کو تبلیغی جماعت کے ساتھ جوڑا اوروہ بیچارے غریب اب بھگت رہے ہیں اور آپ کو بھی احساس ہوگیا ہوگا اس ایک ڈیڑھ دن میں کہ میڈیا نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا یہی میڈیا نے دو ڈھائی دن آپ کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے ساتھ کیا تو آپ جیسی بھاری بھر کم شخصیت وہ برداشت نہیں کرپائی وہ مسکین بیچارے کہاں کھڑے ہوتے اور پھر ہم دیکھ رہے ہیں جو حال ہوا ہے۔ ممکن ہے میری بات آپ کو اچھی بھی نہ لگے، آپ کے چاہنے والوں کو بھی اچھی نہ لگے کیونکہ آپ کے چاہنےوالوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جس طرح بعض سیاسی جماعتوں کا آپ گلہ کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں، علما میں قوت برداشت کی کمی ہے، علما لڑاتے ہیں۔ بات لمبی ہو جائے گی، قوت برداشت تو آپ میں بھی نہیں ہے، اس حوالے سے بہت سے واقعات، بہت سی چیزیں بیان کی جا سکتی ہیں۔  علما کے ساتھ بھی محاذ آرائی، میڈیا کو بھی برابھلا کہنا، پوری قوم کو بددیانت کہہ دینا، بندہ یہ تو سوچ لیتا ہے کہ اس قوم میں آپ خود بھی ہیں۔ اس قوم کے اندر بڑے بڑے اولیاء اللہ ہیں، اس میڈیا میں بہت سےلوگ اچھے نہیں ہوں گے لیکن بہت سے لوگ بہت اچھے بھی ہیں۔

موجودہ صورت احوال میں واضح ہو رہا ہے کہ یا تو اپنی خطابت کی اس رو میں یہ نہیں سوچتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یا یہ ہے کہ زعم باطل اس قدر زیادہ ہے کہ جو کہیں گے، چل جائے گا۔ میرا خیال ہے یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں ۔

عرض یہ ہے اگر آپ نے یہی اسلوب رکھنا ہے کم از کم آپ تبلیغی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کردیں کہ آپ صرف ایک مبلغ ہیں، آپ کا تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف آپ ایک مبلغ ہیں، خطیب ہیں، تبلیغی جماعت سے اللہ تعالی نے آپ کو یہ عزت شہرت دی ہے تو آپ جیسے بہت سارے علما ہیں، خطیب نہیں ہوں گے مبلغ تو لاکھوں ہزاروں ہیں۔ آپ بلاشبہ اس خطابت کی دنیا میں بہت بڑے خطیب ہیں تو آپ کی توہین مقصود نہیں ہے۔ صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ کی شخصیت بھی مجروح ہو رہی ہے۔ آپ کی وجہ سے تبلیغی جماعت کو بھی نقصان ہو رہا ہے اور تیسرے درجے میں وہ طبقہ ہے جو علمائے حق اور علمائے دیوبند پرانگلی اُٹھانا چاہتا ہے، انگلیاں اُٹھا رہا ہے۔ از راہ مہربانی آپ یا تو کوئی سیاسی پارٹی بنا لیں، طارق جمیل کے طور پر اپنے آپ کو متعارف کرائیں۔ آپ کے کروڑوں چاہنےوالے ہیں۔ یہ جو آدھا تیتر، آدھا بٹیر ہے، اس سے باہر نکلیں اور اس کی وجہ سے جو نقصان تبلیغی جماعت کو ہو رہا ہے، آپ کی وجہ سے جو گالیاں علمائے حق کو پڑ ر ہی ہیں۔ ہمارے جیسے طالب علموں کو کوئی برا بھلا کہے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ بڑی شخصیت ہیں، آپ اپنے اس انداز پہ غور ضرور فرمائیں۔ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

Facebook Comments HS

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 57 posts and counting.See all posts by aslam-khan