وزیر اعظم کی ہدایت پر احمدیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری پر تنازع


ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر احمدیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جس پر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ” نائنٹی ٹو نیوز” کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر احمدیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ اس سلسلہ میں وزارت مذہبی امور کو اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو کیلئے ہدایات جاری کر دی گئی۔ نجی ٹی وی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے احمدیوں کو بطور غیر مسلم کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

کابینہ اجلاس میں مذہبی امور ڈویژن نے اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا نظرثانی شدہ ٹی اور آرز ترتیب دے دیے ہیں جس کے مطابق کمیشن کے آفیشل ممبرز کی کل تعداد 7 جبکہ نان آفیشل ممبران کی تعداد 8 ہو گی۔ نان آفیشل مسلم ممبران میں مولانا سید محمد عبدالکبیر آزاد اور مفتی گلزار احمد نعیمی شامل ہیں۔ ہندو، سکھ، پارسی اور کیلاش برادری کے افراد بھی کمیشن میں شامل کئے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران ارکان نے کمیشن کی ہیئت پر تحفظات کا اظہار کیا جبکہ کمیشن کو معنی خیز بنانے اور اس کی خود مختاری کیلئے اقلیتی برادری کی نمائندگی کو بڑھانا ضروری قرار دیا۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت نے احمدیوں کو سرکاری کمیشن میں شامل کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں قادیانیت کا پنڈورا بکس کھولنا ناقابل فہم ہے۔ قادیانی خود کو اقلیت تسلیم کرتے ہیں اور نہ آئین مانتے ہیں۔

صوبائی وزیر عمار یاسر نے احمدیوں کو کمیشن میں شامل کرنے کی تجویز غیر دانشمندانہ قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی پہلے آئین کو تسلیم کریں پھر دیگر چیزیں زیر بحث آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے غدار گروہ کو سرکاری پلیٹ فارم مہیا کرنا ریاست کے باغی عناصر کو سرکاری طور پر پروموٹ کرنے کے مترادف ہے۔

Facebook Comments HS