میڈیا نے ناچنے گانے والوں کو ہمارا ہیرو بنا دیا: انصار عباسی کے بیان پر فواد چودھری کا دوٹوک ردعمل


بھارتی اداکار رشی کپور کے انتقال پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان اور معروف صحافی انصار عباسی کے بیانات پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے رد عمل سے سوشل میڈیا پر زبردست بحث شروع ہو گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیر برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہاکہ "رشی کپور کے جانےپہ سب اپنے اپنےانداز میں دکھ کا اظہار کر رہے ہیں بحیثیت انسان ہم سب کوان کا دکھ ہے چاہےتعلق کسی بھی مذہب سے ہو لیکن وہ اک لمبی زندگی جئے اور طبعی موت مرے۔ ان سے زیادہ دکھ ان ننھی کلیوں اور کڑیل جوانوں کا (ہے) جو مسل دیے گئے فلسطین میں، کشمیر میں اورظلم کی اندھی راہوں میں”.

علی محمد خان کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیر صحافی انصارعباسی نے ٹویٹ کیا کہ "افسوس میڈیا نے ناچنے گانے والوں کو ہمارا ہیرو بنا دیا ہے اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھارتی فلم ایکٹروں کو بھی ہم اپنے بچوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ایک بھارتی اداکار کے مرنے پر جتنا افسوس کیا جا رہا ہے کیا کسی عالم دین، مسلم رہنما، شہید کی وفات پر ایسا کیا جاتا ہے؟”

انصار عباسی کے اس تبصرے پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے انصار عباسی کی ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ "یہ بیان آپ کی انتہا پسندانہ نظریات کی عکاسی ہے، حقیقت یہ ہے کہ زندگی مختلف شعبوں کے امتزاج سے بنتی ہے جو لوگ فن کی دینا سے وابستہ ہیں ترقی یافتہ ذہن ان کی قدر کرتےہیں۔ عالم دین ہوں، سائنسدان یا لیڈر، ہر ایک زندگی کے اسٹیج پر ایک اداکار ہے اور اپنا کردار ادا کرتا ہے،”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کس کو کتنی داد ملتی ہے یہ اس کے رول پر منحصر ہے، جو اپنا کردار اچھا نبھائے گا زیادہ داد پائے گا۔ اس لئے آپ کو دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنے کردار پر توجہ دینی چاہئے اور اپنا کردار اچھی طرح نبھائیں تا کہ دنیا داد دے۔”

فواد چودھری کے جواب پر انصار عباسی نے کہا” اسلام اور آئین پاکستان ہمیں پابند بناتے ہیں کہ ہمارا ہر عمل قرآن و سنت کے مطابق ہو جس کے لیے ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حیرانی ہے (کہ) ریاست مدینہ کے رول ماڈل کی بات کرنے والی حکومت کے وزیر کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں اُس روشن خیالی سے بچائے جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہو۔”

انصار نے مزید کہا کہ "اسلام ایک ہی ہے قرآن و سنت والا اور کچھ ایسی ہی بات ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی UNGA کی تقریر میں کہی تھی۔ باقی جو فلموں میں دکھایا جاتا ہے اور جو ہمارے حالات ہیں اُس بارے میں زرا قرآن و حدیث کے یہ حوالے ضرور پڑھ لیں ہو سکتا ہو آپ نادانستدگی میں غلط عمل کو سپورٹ کر رہے ہوں۔”

انصار عباسی کے جواب پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک بار پھر ردعمل دیا اور کہا "اسلام روشن خیال مذہب ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ معتدل لوگ انتہاپسندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور ان کی خاموشی کی وجہ سے شدت پسند تشریح مسلط ہو جاتی ہے، اسلام کو انتہا پسندی سے بچانا دین کی خدمت ہے جو میرے جیسے لوگ انجام دے رہے ہیں۔”

Facebook Comments HS