میڈیا جھوٹ بولتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کے کرونا وائرس متاثرین کے امدادی ٹیلی تھون اور معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی دعا اور گفتگو کے نتیجے میں میڈیا کے حوالے سے ایک بحث نے جنم لیا۔ میڈیا کو جھوٹا اور جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا گیا۔

بعدازاں مولانا طارق جمیل نے اپنے ان ریمارکس پر میڈیا سے معذرت کرلی لیکن مولانا کے فالوورز اور تحریک انصاف کے سپورٹرز میڈیا اور اس سے وابستہ شخصیات کو بخشنے کو تیار نہیں۔ الزام تراشی دشنام طرازی اور تضحیک کا سلسلہ بد دستور جاری و ساری ہے۔

چونک میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں میرے کئی طالب علم آج معروف صحافی ہیں بہت سے کئی ماہ کی تنخواہ کے منتظر زندگی کی تگ و دو میں مصروف۔ لہذا میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی اپنے حصے کا سچ بیان کروں جیسا کہ قرآن مجید میں واضح ہدایت ہے کہ جو دیکھو و بیان کرو۔

میرے ایک شاگرد جن کا نام لینا مناسب نہیں آج ایک بڑے اخبار میں رپوٹرر ہیں۔ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد کئی سال کی ریاضت اور بلا معاوضہ نوکریوں کے بعد دی نیشن اخبار میں رپوٹرر بھرتی ہوئے۔ اخبار کی ایڈیٹر محترمہ شیریں مزاری تھیں۔ اور یہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا واقعہ ہے کہ اسلام آباد کچہری میں لینڈ مافیا سے منسلک دو گروپوں میں تصادم ہوا کئی افراد زخمی ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایک ڈی ایس پی زخمی ہوئے۔

اس واقعہ کی اخبار میں خبر فائل کرنا میرے شاگرد رپورٹر صحافی کی ذمہ داری تھی وہ اپنے موٹر سائیکل پر کچہری پہنچے فریقین کا موقف لیا عوام سے گفتگو کی اور دفتر پہنچ کر خبر تحریر کی جب انہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک جن کی دولت و ریاضت مشہور ہے سے ان کا موقف جاننے کے لئے فون کیا تو انہوں نے سوالات تحریری شکل میں ارسال کرنے کو کہا جب وہ بھی ان تک پہنچ گئے تو ان کا فون آیا کے موقف کے لئے ملاقات پر گھر تشریف لائیں۔

رپوٹرر گھر پینچا ملاقات ہوئی کہا گیا کہ آپ ابھی نووارد ہیں بہتر ہے خبر پر اصرار نہ کریں۔ جب رپوٹرر اس پر رضا مند نہ ہوئے تو انہیں تحریری موقف لفافے کی شکل میں دیا گیا۔ رپوٹرر دفتر واپس پہنچ کر جب خبر کو فائنل کرنے کی غرض سے لفافہ کھولتا ہے تو اس میں موقف کے ساتھ ایک خطیر رقم بھی نظر آتی ہے۔ ایک جانب گھر کے حالات کھٹارا موٹر سائیکل دوسری جانب اعلیٰ صحافتی اصولوں کی پاسداری اور سچ کی لگن ہمارے شاگرد کی آنکھ میں آنسو چھلک پڑے اور وہ اخبار کی مدیر ڈاکٹر شیریں مزاری کے آفس داخل ہو گیا صورت احوال بتائی۔

شیریں مزاری بھی حیران اور پریشان ہوئیں لیکن انہوں نے کہا کہ میرٹ پر خبر کرو۔ اگلے روز اکثریتی اخبارات میں ہاؤسنگ سوسائٹی کا موقف چھپا سچائی سیٹھ کے لفافے تلے دب گئی۔ لیکن نیشن اخبار میں بھرپور خبر چھپی۔ خبر کے ساتھ ایڈیٹر کا ایک نوٹ بھی شائع ہوا جس میں رپوٹرر اور اخبار کو دباؤ میں لانے کی مذمت کی گئی۔ خبر کے نتیجے میں سیشن جج اسلام آباد نے وقوع کی انکوائری آرڈر کی۔

اخبار کی مدیر نے نوٹوں سے بھرا لفافہ واپس بھجوایا۔ میرے شاگرد رپورٹر آج بھی ایک بڑے انگریزی اخبار میں رپورٹر ہیں لیکن آج بھی ان کے پاس سفر کے لئے موٹر سائیکل اور رہنے کے لئے کرایہ پر مکان ہے۔

اور یہ صرف ایک مثال نہیں ایسی کئی مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ اس کے باوجود میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ دیگر شعبوں کی طرح میڈیا کو بھی اصلاحات کی ضرورت ہے اس شعبہ سے وابستہ لوگوں نے اپنے قلم کو چھوٹے موٹے مفادات کی خاطر بیجا دام وصول کیے۔ جھوٹ پر مبنی خبریں بھی نشر کیں چینل اور اخبارات کو جرمانے بھی ہوئے تردید اور معذرت نامہ بھی شائع کرنا پرا لیکن سارا میڈیا جھوٹا نہیں ساری خبریں جھوٹی نہیں اور سارے صحافی کرپٹ نہیں اس کی گواہی ہماری قائداعظم یونیورسٹی کی استاد، نیشن اخبار کی سابق مدیر اور آج وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کی وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری دے سکتی ہیں اور یقیناً وہ کابینہ کے اجلاس میں اس کی گواہی دیں گی۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پارٹی کے میڈیا سے ناراض کارکنوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ میڈیا اپنے تمام تر نقائص کے باوجود حکومت کو عوامی مسائل کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کررہا ہے جب ملک میں آٹا چینی بحران تھا آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ذخیرہ اندوز اور سرمایہ دار نفع کما رہے تھے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا تھا اور حکومت سے اربوں روپے سبسڈی لی جارہی تھی تو میڈیا اس پر تنقید کرکے عوامی جذبات کی ترجمانی کررہا تھا۔

بالآخر وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی اداروں کو تحقیق کرنے کا حکم دیا جس کی رپورٹ نے ان میڈیا رپورٹس کو سچا قرار دیا جن کے مطابق اس سارے عمل میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں اور وزیر اعظم کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب وہ قطر کے دورہ پر تھے تو ساہیوال کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے معضوم بچوں کے بے گناہ والدین کو مار ڈالا۔ انہیں دہشتگرد قرار دیا گیا۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے اس کارروائی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارکباد دی لیکن میڈیا نے اس جھوٹ پر مبنی ساری کارروائی کو بے نقاب کیا اور یوں حکومت کے پاس اپنے ابتدائی بیان کو واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

جناب آج اگر سارا میڈیا جھوٹا ہے تو اس میں کیا وہ میڈیا بھی شامل ہے جو دن رات آپ کی تعریف خوشامد میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا ہے یا صرف وہی میڈیا جھوٹ بول رہا ہے جو آپ کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments