گدھے سے پونڈ تک کا سفر


گدھا حضرت انسان کے لیے ہمیشہ سے کارآمد رہا ہے۔ اس کا ذکر ہر کامیابی اور ناکامی میں اہم رہا ہے۔ البتہ ناکامی میں بھی گدھے کا کردار کبھی بھی غدار نہیں رہا۔ ہمیشہ تاریخ دانوں نے گھوڑوں اور کتوں کو وفاشعار بہادر بتایا، مگر کبھی بھی گدھے کے لیے کوئی اچھے الفاظ بیان نہیں کیے۔ یہی وجہ آج تک گدھا بغیر قصور کے ہر میڈیم میں۔ ذلیل رہا ہے۔ خیر ہم پینڈوؤں کے لیے گدھے ایک اہم عہدے پہ فائز ہوتا ہے۔ یوں کہہ لیں یہ خاندان کے سامان ڈھونے، بھوریوں کے گھاس لانے کے کام یوں کرتا ہے جیسے ہمارے عوامی نمائندے ہم پینڈوؤں کے کام کرتے ہیں۔

جس نے کبھی آج تک کسی کو نہیں مارا ہوتا، اس نے بھی زندگی میں گدھے کو ایک ڈنڈا ضرور مارا ہوتا ہے۔ یہ گدھا ایسے ہی عام آدمی سے ذلیل ہوتا ہے جیسے عوامی نمائندہ ہر خوشی، غمی اور جرگوں بیٹھکوں میں۔ اپنے ووٹرز سے ہوتا ہے۔ پینڈو گدھا گاڑی چلانے کے لیے ایک ایکسٹرا جانور ضرور رکھتے ہیں تاکہ اگر ایک جانور بیمار ہوتو متبادل اس کی کمی پوری کرلے۔ اس تیکنیک کو پنجابی میں لادو لانا یا لادو کڈنا کہتے ہیں۔

لادو ڈر کو کہتے ہیں۔ آپ نے اکثر پنجاب کے قصبوں شہروں میں گدھا گاڑی کو دیکھا ہوگا۔ اس میں ایک گدھا مکمل طور پہ پورے لوازمات کے ساتھ گدھاگاڑی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک نیا نکور گدھا ریڑھی سے باہر رسی سے باندھا ہوتا ہے۔ یہ نوے نکور گدھے کا لادو نکل رہا ہوتا ہے۔ وہ نیا گدھا شروع میں رکشوں بسوں حتی کہ ون ویلنگ کرنے والے پنڈی بوائز سے بدکتا ہے۔ جس وجہ سے پرانا پروفیشنل گدھا بھی تنگ ہوتا ہے۔

وہ اپنی قابلیت کی بنا پہ مالک کے سامنے اکڑ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اب نئے ملک پاکستان میں قصائی بھی گدھے خرید لیتے ہیں۔ اس طرح قابل گدھے کی چپ میں نیا گدھا چند مہینوں بعد ایک پروفیشنل گدھا بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پروفیشنل پرانے پروفیشنل پہ سبقت لے کے اسے مکمل چھٹی پہ بھیج دیتا ہے۔ پرانا گدھا یا تو قصائی کے لیے رہ جاتا یا پھر جی ٹی روڈ رات کو بند کرکے ٹریفک بلاک کردیتا ہے۔ ایسے گدھے اکثر فوجی ٹرک کے نیچے آ کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ویسے بھی اب زرعی رقبوں پہ مکمل طور پہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بن گئی ہیں۔ گھاس بھی نہیں رہی اور گدھے بھی ختم ہوگے۔ اس لیے مالک گدھے سے رکشے پہ شفٹ ہوگے ہیں۔ کم خرچہ زیادہ منافع بلکہ یوں کہہ لیں گدھے کی نسبت یہ تنخواہ پہ کام کرتے ہیں۔ استعمال کے بعد واپس چین چلے جاتے ہیں۔ مگر رکشوں نے گدھوں اور عوام کے صدیوں پرانے رشتے کو مکمل طور پہ ختم کردیا ہے۔ یہ رکشے ہماری پینڈو زبان میں پونڈ کہلاتے ہیں۔ پونڈ پنجابی میں کالے بھنورے کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ شور مچاتے ہیں۔

ان کے شور سے رات کے پچھلے پہر گہری نیند میں سویا ہوا چرسی بھی جاگ جاتا ہے۔ یہ پونڈ ایسے ہی شور مچاتے ہیں، جیسے فواد چوہدری، فردوس عاشق، فیصل واڈا ٹی وی پہ چیخ رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی اب پتہ چلا یہ احباب بھی بیچارے شور نہیں نوکری کررہے ہوتے ہیں مالکوں کی۔ اب تو یہ پونڈ اتنے کارآمد ہوگے ہیں۔ آسانی سے پتلی گلی میں چلے جاتے ہیں۔ آگے سے موٹرسائیکل پیچھے سے سوزوکی ہونے کی وجہ سے یہ سواری اٹھانے سے لے کر سامان ڈھونے کاکام بھی کرتے ہیں۔

ایسے رکشے تو آپ کو اب مذہب میں بھی ملینگے جو وقت کے ہر بادشاہ کے دربار میں سلام ٹھوک کے واہ واہ سمیٹتے ہیں۔ بس ان رکشوں کے سپئیر پارٹس کا مسئلہ ہے۔ ایک دفعہ گڑبڑ ہوجائے تو پھر ان کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ سنا ہے اب سرجی نے سی پیک سے کوئی چیز نکالی ہے۔ اب رکشوں کے سپئیر پارٹس ملینگے بدلے میں ہم گدھے چین کو سپلائی کریں گے۔ اس سے وہ فوجی ٹرک کے نیچے آنے سے محفوظ رہیں گے۔ باقی عوام بھوکے رہیں، بہتر ہے، کون سا عوام نے آج تک ان گدھوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ حتی کہ ان گدھوں نے جتنی قربانیاں دی ہیں کسی اور نے نہیں دی۔ پھر بھی اس عوام نے یہی کلیہ اپنایا ہوا ہے ”ڈنڈے کھان نوں کھوتا تے کیلے کھان نوں پونڈ“ (ڈنڈے کھانے کو گدھا اور کیلے کھانے کے لیے رکشہ)

Facebook Comments HS