پرویز ہود بھائی کی یونیورسٹی میں روحانی تعلیم کی بے جا مخالفت


پرویز ہود بھائی صاحب کو تو آپ خوب ہی جانتے ہوں گے۔ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نامی کسی گمنام سی امریکی یونیورسٹی سے سائنس میں ڈاکٹری کر کے آئے ہیں۔ ان کی ڈگریوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہود بھائی کافی غیر مستقل مزاج ہیں۔ الیکٹریکل انجینئرنگ اور ریاضی میں انہوں نے بیچلرز کرنے کے بعد انہیں چھوڑ کر سالڈ سٹیٹ فزکس میں ماسٹرز کی اور پھر یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نیوکلئیر فزکس میں پی ایچ ڈی کر لی۔ کارنیگی میلن نامی کسی یونیورسٹی میں غالباً سائنس ہی کی پروفیسری بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن کمال یہ ہے کہ سائنس اور ریاضی پڑھ کر بات کرتے ہیں تو روحانیت اور معاشرتی رویوں پر اور اسی وجہ سے ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ ویسے یہ ایم آئی ٹی نامی یونیورسٹی جہاں سے انہوں نے ڈاکٹری پڑھی ہے، اگر کسی قابل ہوتی تو جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی بجائے پرویز ہود بھائی کا نام بابائے ایٹم بم کے طور پر لکھا جاتا۔

بہرحال ان کی شخصیت کے بارے میں جان کر اب ہم ان کے حالیہ مضمون کی طرف آتے ہیں جو آج صبح پڑھ کر ہمارا غم و غصے سے برا حال ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ایک بڑی یونیورسٹی کومسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں وطن عزیز کے مشہور عالم روحانی، کارڈیالوجسٹ، کالی بلاؤں اور دوسرے عملیات کے ماہر، جناب راجہ ضیا الحق صاحب نے ’’جنات اور کالا جادو‘‘ پر ورکشاپ کیوں کرائی ہے؟ راجہ صاحب نے اپنے لیکچر میں ان کالی بلاؤں اور بھوت پریت کے متعلق ایک معقول دلیل بھی دی کہ اگر ان کا وجود نہ ہوتا تو پھر ہالی ووڈ میں ان پر فلمیں کیوں بنتیں؟

ملک کی مہنگی ترین یونیورسٹی لمز، یعنی لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز پر بھی ان کو اعتراض ہے۔ کہتے ہیں کہ امریکی ڈالروں سے اس کا سکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ بنایا گیا ہے، تو پھر وہاں ہیومینیٹیز کے ایک پروفیسر صاحب سائنس پر بات کر کے امریکی سائنسدان رابرٹ آئن سٹائن کی تھیوری کو غلط کیوں قرار دیتے ہیں۔ لمز کی مزید روحانی تحقیق پر بھی ڈاکٹر ہود بھائی معترض ہیں۔

ہم پرویز ہود بھائی سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ہالی ووڈ کی فلمیں امریکی ڈالروں کی بجائے سعودی ریالوں سے بنتی ہیں؟ اگر امریکی فلم میں ایک کام کریں تو وہ جائز ہے، لیکن پاکستان میں اگر کوئی یونیورسٹی وہی کام کرے تو وہ ناجائز ہے۔ یہ مرعوبیت کی انتہا ہے صاحب۔

ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ ایم آئی ٹی اور کارنیگی میلن وغیرہ نامی ادارے کیا پڑھاتے ہیں اور ان کی کیا حیثیت ہے۔ کارنیگی میلن کے نام سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی دیہاتی قسم کی زرعی یونیورسٹی ہے جو کہ تربوزوں (واٹر میلن) یا خربوزوں (ہنی ڈیو میلن) کی کاشت سکھاتی ہے۔ بہرحال یہ روحانیت کی مخالف یونیورسٹیاں لگتی ہیں جو کہ ملحد یہودی ایلومیناٹیوں نے امریکہ میں جا بجا بنائی ہوئی ہیں۔ ورنہ ہم نے خود امریکہ میں ایسی یونیورسٹیاں تلاش کر لی ہیں جو کہ پیرا نارمل سائنس، یعنی روحانیت میں اعلی ترین تعلیم دیتی ہیں۔

لفظ پیرا نارمل پر ہی غور کریں تو اصل حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ پیرا، ایک یونانی لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی چیز کو پیچھے چھوڑ دینے والا۔ پیرا نارمل سائنس کا مطلب واضح ہے، یعنی ایسی سائنس جو کہ نارمل سائنس کو کہیں پیچھے چھوڑ چکی ہو۔ تو اب ایسی دو امریکی یونیورسٹیوں کا جائزہ لیتے ہیں جو کہ پیرا نارمل سائنس میں پی ایچ ڈی تک کراتی ہیں۔

گوگل میں پیرا نارمل سائنس کو تلاش کرنے پر سامنے ہی فلوریڈا کی تھامس فرانسس یونیورسٹی کی ویب سائٹ دکھائی دیتی ہے جو کہ نہ صرف روحانیت کی پندرہ مختلف شاخوں میں پی ایچ ڈی کرا رہی ہے، بلکہ اس میں سائنس کی سب سے مشکل شاخ یعنی خلائی مخلوق کے بارے میں تحقیق پر بھی ڈاکٹریٹ کرائی جاتی ہے۔ کمال یہ ہے کہ ایک عام شخص بھی محض تین ماہ کی مدت میں ان علوم کا فاضل بن سکتا ہے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری پاتا ہے۔ اس معتبر ادارے کے پیچھے انٹرنیشنل چرچ آف میٹافزیکل ہیومن ازم جیسا قابل اعتبار ادارہ ہے۔

آئی ایم ایچ ایس میٹا فزیکل انسٹی ٹیوٹ بھی موجود ہے جو کہ ایک فلاحی ادارے کے تحت چل رہا ہے اور محض 1125 ڈالر کی فیس لے کر سات ماہ کی قلیل مدت میں تین روحانی مضامین میں پی ایچ ڈی کراتا ہے۔ یہ جید ادارہ بھی فلوریڈا میں ہی کام کر رہا ہے۔

یہ دونوں ادارے باقاعدہ تسلیم شدہ ڈگریاں جاری کرتے ہیں۔ ان کی ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ غیر فیڈرل یونیورسٹی کی حیثیت سے ان پر قانونی طور پر لازم نہیں ہے کہ حکومت کے غیر معیاری نظام تعلیم پر ہی چلیں اور اس کے تحت ڈگریاں دیں، بلکہ قانون کے تحت وہ ڈگری تسلیم کرنے والے کسی بھی ایسے ادارے سے سند قبولیت پا سکتے ہیں جو کہ اعلی کوالٹی کی تعلیم کو اہمیت دیتا ہو۔ اس لئے ان معتبر اداروں کی ڈگری کو کسی حکومتی پٹھو سرکاری یا نیم سرکاری تنظیم کی بجائے انٹرنیشنل میٹا فزیکل پریکٹریشنر ایسوسی ایشن نامی ادارے نے ویسے ہی تسلیم کیا ہے جیسے پاکستان میں میڈیکل کی ڈگری کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل جیسا ادارہ تسلیم کرتا ہے۔

امید ہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی اب یہ مضمون پڑھ کر یہ بات تسلیم کر چکے ہوں گے کہ امریکی یونیورسٹیاں پہلے ہی پاکستانی یونیورسٹیوں سے کہیں اعلی درجے کی روحانی تعلیم دے رہی ہیں۔ یہاں تو یہ سلسلہ ہمارے ملک کے اول درجے کی یونیورسٹیاں سمجھے جانے والے لمز اور کومسیٹ نے ابھی شروع کیا ہے، اور اسے محض ورکشاپ کی صورت میں پڑھا رہے ہیں، ہم تو ثبوت دے چکے ہیں کہ ادھر امریکہ میں تو اس پر باقاعدہ پی ایچ ڈی بھی کرائی جا رہی ہے۔


اسلام آباد کی جدید یونیورسٹی میں جنات اور کالا جادو پر ورکشاپ
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1075 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

7 thoughts on “پرویز ہود بھائی کی یونیورسٹی میں روحانی تعلیم کی بے جا مخالفت

  • 07/11/2016 at 3:41 pm
    Permalink

    Is it some kind of satire, what is written about MIT or Carnegie Melon can only be dark humour, not something serious or may be it actually reflects the columnist’s ignorance about Ivy League Universities.

  • 07/11/2016 at 4:24 pm
    Permalink

    This time it was good that you signalled in the beginning that youvare going to make a satire (yhe introductory word abou MIT)
    Mr Yasin Memon is not to blame. I think he is new in the philosophical fields of Paracha-ism and Kakar-ism.
    Ha ha ha

  • 07/11/2016 at 4:28 pm
    Permalink

    ہر ایسے مضمون میں پہلا اور کئی مرتبہ دوسرا پیراگراف مضمون کی بیس اسٹیبلش کرتے ہیں۔ بلکہ اس حد تک کرتے ہیں جو کہ انگریزی میں مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ویسے اب تو تعارف بھی تبدیل کر دیا ہے ؛-)

  • 07/11/2016 at 4:29 pm
    Permalink

    Rubbish and pathetic, quit column writing, have mercy on people

  • 07/11/2016 at 9:30 pm
    Permalink

    I fully agree with above comment .This is supposed to be a satire . But as most of his writing are , it is badly written . He is a novice and bungles things up very regularly .

  • 09/11/2016 at 6:42 pm
    Permalink

    Mafrooza unscientific hota hae.ussy lab mein test karo agar result positive aaiy tho scientific hae.mein ny aik mafrooza qa’em kiya.
    Mafroozy ka mamba llhaam tha.sawal ye hae ke drust mafrooza insani zehan mein kahan sy aatha hae.
    Kissi muwajid sy maloom karna chahiai ke tumhary eejad ka mamba kya hae.jabky tum neem khwanda ho.ye eejad tho kissi ph.D prof ko karna cheeiai tha.
    The inventor knows that God gave me the ideas step by step.but he or she does not declear it.the inventor does not declear it because he or she knows that there in no God in science.if l say God gave me the idea l will be sent to dustbin along with my invention.l know these things becsuse l am an inventor.my invention depends on llhaam.llhaam means information given by God.or idea given by God.
    Hood bhai also knows it.

  • 15/11/2016 at 4:20 pm
    Permalink

    میرے محترم، جن یونیورسٹیز کا آپ نے ذکر کیا ہے وہاں روحانی تعلیم اور جنات کے وجود پر مبنی مفروضات پے تحقیق ہوتی ہے اور پیرا نورملتئیس اور جنّات کی ممکنہ وجود کو سائنس کی روح سے سمجنے کی کوشش کی جاتی ہے. اور ان یونیورسٹیز کی تحقیقات وقت کے ساتھ ساتھ جنّات کا ممکنہ وجود کے تصّورات میں تبدیلی بی کرتی ہیں اور رد بی.

    یہاں تو یہ حال ہے کی جنّات کے تصّور کو کامل حقیقت سمجنے کی تعلیم دی جاتی ہے. اور جو لوگ سوال اٹھاتے ہیں ان کو نہ صرف یونیورسٹی سے نکالا جاتا ہے بلکی اسلام سے بی پہلی سانس میں فارغ کیا جاتا ہے.

Comments are closed.