کیا اسلام آباد کی جدید یونیورسٹیوں میں تصورِ خدا پر ورکشاپ کی اجازت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"aasem-bakhshi\"

پچھلے کالم کے بعد محترمہ لینہ حاشر صاحبہ اور قبلہ ظفر عمران کا مطالبہ تھا کہ زبان سہل اور عام فہم ہو اس لئے کوشش کی جائے گی کہ اس عبارت آرائی میں حتی الوسع اصطلاحات کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے۔ اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ اس منمناتی لب کشائی کو محض ایک حادثہ سمجھا جائے جس کی اول و آخر علت پروفیسر ہود بھائی صاحب کا وہ دلچسپ انگریزی کالم ہے جو پچھلے سال ڈان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ انہوں نے ’ہم سب‘ کے حالیہ صفحات کے لئے عنایت فرمایا۔ لہٰذا ’سائنس کی شعریات‘ سے اس کالم کا تعلق بس اتنا ہی ہے کہ ہم ہود بھائی صاحب کی نہایت عمدہ طنزیہ تنقید میں موجود اشارات کی مدد سے بے جواز اور باجواز تعصبات کو علیحدہ کرنے کے امکانات پر غور کریں۔

خواہ ہود بھائی صاحب ہوں، اسلام آباد کے کوئی روحانی کارڈیالوجسٹ ہوں، ہومیو پیتھک اور پانی سے علاج کرنے والے کوئی طبیب ہوں یا پھر جدید یونیورسٹیوں میں جنات اور کالے جادو پر ورکشاپ میں آنے والے طلباء کا ہجوم، ہمارا مقصد صرف اور صرف فکری حد بندیوں کی تلاش اور ذہنی روشوں میں ہماری دلچسپی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ڈراؤنی فلمیں بھی بہت پسند ہیں اور بے خوابی و بدخوابی کے مزمن مرض بھی جان نہیں چھوڑتے۔

اس دعوے کے لئے کسی خاص استدلال کی ضرورت نہیں کہ’’ خالص‘‘ اور’’ رائج‘‘ مغربی سائنسی تناظر میں جنات، بھوت پریت، جادو ٹونا اور اس قسم کے دوسرے ’’توہمات‘‘ بالکل اسی قبیل سے ہیں جس سے خدا، فرشتے، انسانی روح، حیات بعد الموت وغیر ہ جیسے ’’تصورات‘‘ یا’’تخیلات‘‘ تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی ہمارے زمانے کے رائج سائنسی تناظر میں ثبوت اور جواز کی حد تک دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جو بھی انسان ان اعتقادات کو قائم کرتا ہے وہ یا تو کسی قسم کے غیر مادی منطقی استدلال سے مدد لیتا ہے اور یا پھر الہامی کتابوں، بڑے بوڑھوں کی سنائی گئی قصہ کہانیوں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی دیومالائی روایتوں پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے انہیں مان لیتا ہے۔

\"Pervez

لہٰذا ہم نے یہ عنوان صرف اس لئے قائم کیا کہ پروفیسر ہود بھائی صاحب کے پچھلے کالم سے معنوی ربط تلاش کرنے میں مشکل نہ ہو۔ بصورتِ دیگر ہم اس عنوان کو یوں بھی قائم کر سکتے ہیں کہ ’’کیا سائنس تصورِ خدا کو دقیانوسی توہم پرستی قرار دے چکی ہے؟‘‘ ظاہرہے کہ ہم سائنس کی وہی تعریف فرض کر رہے ہیں جو دنیا کے چوٹی کے ایک ماہرِ طبیعات اور وطنِ عزیز میں فزکس اور ریاضی کے ایک بلاشبہ سب سے اعلٰی استاد کے ذہن میں ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ امریکہ کی مشہورِ زمانہ جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن نے اپنے ’عظیم سوالوں‘ کے سلسلے میں بالکل یہی سوال دنیا کے چوٹی کے مفکرین سے پوچھا۔ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ان تیرہ مفکرین میں ایک نام پروفیسر ہود بھائی کا بھی تھا۔

اس سوال کے جواب میں ہود بھائی صاحب فرماتے ہیں:

’’ایسا ضروری نہیں، لیکن آپ کو ایک ایسے خدا کی تلاش کرنی ہو گی جو سائنس کے برخلاف نہ ہو اور اس سے مطابقت رکھتا ہو۔ پہلے دستیاب معبودوں کی جماعت پر ایک نظر ڈالیے۔ پھر ان کا بغور معائنہ کیجئے۔ اگر کوئی بھی سانچے میں پورا نہ آئے تو پھر ایک ایجاد کر لیجئے۔ ‘‘

پورا مضمون انتہائی دلچسپ اور ہودبھائی صاحب کی علم دوستی، خطیبانہ فضیلت اور اپنے نظر یہ علم سے خوبصورت ذہنی مناسبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مکمل ترجمہ یہاں پیش کرنا ضروری نہیں لیکن خلاصے کے طور پر اتنا عرض ہے کہ ہود بھائی صاحب کے ذہن میں موجود تصورِ خدا کم وبیش ویسی ہی قوتوں اور خصائص کا مجموعہ ہے جیسا کہ کسی بھی روایتی مذہبی شخص کے ذہن میں ہوتا ہے لیکن یہ خدا ایک ایسا سائنسدان ہے جو طبعی قوانین کے مطابق تخلیق حقائق پر قادر ہے۔ اس ذہنیت کے مطابق جب تک وہ طبعی قوانین ہمیں معلوم نہیں ہوتے تو ہم اپنا ایمان مؤخر کرنے میں حق بجانب ہیں ۔

\"william-d-phillips-2\"

چونکہ بحث تصورِ خدا پر اعتقادات کی معقولیت یا غیر معقولیت کی نہیں لہٰذا ہمیں اس وقت اس سے بالکل غرض نہیں کہ مضامین پر مشتمل اسی مذاکرے میں موجود دوسرے سائنسدان مثلاً نوبل انعام یافتہ عیسائی ماہرِ طبیعات ولیم ڈی فلپس کا جواب ’ قطعی نہیں‘، ملحد ماہرِ حیاتیات رابرٹ سپولسکی کا جواب دوٹوک ’نہیں‘ اور ایک اور ماہرِ طبیعات وکٹر سٹینگز کا جواب دوٹوک ’ہاں‘ کیوں ہے اور ان کے استدلالات کیا ہیں، بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تصورات کا میدان وسیع ہے اور متنوع تخیلات کی بنیاد پر تحقیق کی راہیں کھلی ہیں، اور ہود بھائی صاحب ہماری نسبت ان راہوں سے کہیں زیادہ واقف ہیں۔

اسی لئے ہماری رائے میں محترم پروفیسر صاحب کو یقیناً یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مخصوص نظریہ ٔ علم کی مناسبت سے کچھ ایسے باجواز مفروضے قائم کریں جن کے نتائج پر ان کا اعتماد ہو کیوں کہ ہماری رائے میں کسی بھی جدید ریاست میں یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، لیکن ان نظریات کی بنیاد پر کچھ بے جواز تعصبات کو قائم کرتے ہوئے کچھ ایسے نتائج نکالنا جن کا صغریٰ کبریٰ ہی مشکوک ہو کہاں کی معقولیت ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ وہ اسلام آباد کی ایک ’جدید‘ یونیورسٹی کے کسی سائنسی شعبے نہیں بلکہ شعبۂ ہیومینیٹیز یعنی سماجیات، قانون اور لبرل سائنسز وغیرہ میں منعقد ہونے والےایک بے ضرر سے اجتماع پر اتنے خائف ہیں کہ اس قسم کے دو، چار، چھ یا درجن بھر اجتماعات ہی کو ملک میں سائنس اور خرد دشمنی کا اہم ذمہ دار ٹھہراتے ہیں؟ اگر جنات اور جادو ٹونے وغیرہ پر اعتقادات ہی اس ملک میں سائنسی فکر کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو پھر تو شاید ہمیں سائنسی اعتقادات کی ایک بائبل شائع کر دینی چاہیے جس پر حلف اٹھانا جامعات کے ہر طالبعلم اور مدرس پر لازم قرار دیا جائے۔ کیوں کہ پھر اس طرح صرف جنات اور بھوت پریت نہیں بلکہ ماورائے حسیات ہر قسم کا غیرمرئی اعتقاد صریحاً باطل ٹھہرے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر سائنس کو دنیا کی تمام غیر سائنسی روایات کے مخالف ثابت کیا جائے گا تو خرد دشمن کاروباری رویوں سے یہ گلہ کہ وہ سائنس کے خلاف ہیں بہرحال ان کو منطقی توجیہہ فراہم کرنے کے مترادف ہی ہو گا۔

\"brian-d-josephson\"

اس لئے ہماری رائے میں اگر محترم پروفیسر صاحب کے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہماری طرح مسکرا کر اس قسم کی سرگرمیوں سے صرف ِ نظر کریں تو پھر شاید یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ ’’ جدید‘‘ یونیورسٹیوں میں سماجیات و نفسیات و مذہبیات کےشعبوں میں ہونے والی ان سرگرمیوں پر دل جلانے کی بجائے شعبہ ٔ سائنس اور انجینئرنگ میں اس قسم کی تقاریب کا انعقاد ممکن بنائیں تاکہ تفریح کے ساتھ ساتھ طلباء کی تعلیم کا بھی انتظام ہو سکے۔ آخر پروفیسر برائن ڈیوڈ جوزفسن جیسے نوبل پرائز یافتہ ماہرینِ طبیعات اسلام آباد کی کسی جدید یونیورسٹی سے تو فارغ التحصیل نہیں بلکہ کیمبرج ہی میں اس دقیانوسی دعوے کے مرتکب ہوئے ہیں کہ ٹیلی پیتھی، نفسی حرکت (Psychokinesis) اور دوسرے مافوق الحواس مظاہر شاید درست ہوں۔ ان پر شدید تنقیدیں بھی ہوئیں، جواب بھی دیے گئے، تجربات بھی ہوئے اور نت نئے مباحث نے بھی جنم لیا لیکن معدودے چند متشددین کے کسی نے انہیں خرد دشمن نہیں کہا۔

ہمارا طالبعلمانہ سوال یہ ہے کہ کیا ساٹھ اور ستر کی دہائی سے آج تک برکلے، کارنل، ہارورڈ وغیرہ جیسی چوٹی کی جامعات میں مافوق الحواس مفروضوں کی جانچ پڑتال اور جوزفسن اور اب روپرٹ شیلڈریک جیسے محققین کا کام دنیا بھر کی سائنسی روایت کا حصہ نہیں؟ کیا انسانیت نے اس سے کچھ نہیں سیکھا؟ کیا آج فلسفۂ ذہن اور سائنس میں ملاپ کی کوئی اور نئی راہیں دریافت نہیں ہو رہیں؟ کیا آج کی سائنسی دنیا میں ’’ہارڈ پرابلم‘‘ تسلیم کر لئے جانے والے مسئلہ ٔ شعور پر ہونے والی تحقیقات میں ان امکانی مفروضوں کو دیس نکالا دے دیا گیا ہے کہ مادے سے ماورا کسی بھی قسم کی کوئی حقیقت نہیں؟ ہماری رائے اور علم کی حد تک تو ایسا نہیں لہٰذا مکرر عرض ہے کہ ہمارا منصب پروفیسر ہود بھائی جیسے استاد الاساتذہ کی تعلیم نہیں بلکہ صرف ان کے اپنے تئیں معقول نوحے سے آواز ملا نے والے مقلدینِ محض سے یہ التجا ہے کہ ایک سانس میں عقلیت پسند سائنسی رویوں کی تبلیغ کے ساتھ ہی دوسرے سانس میں خرد دشمن استبدادی رویوں کو مزید تقویت نہ پہنچائیں۔

\"handbook-parapsychology\"

اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ ایک قسم کے استبداد یا نیم استبداد کی تبلیغ کسی دوسری قسم کے استبداد کو خود بخود منطقی جواز فراہم کرتی ہے۔ تجربہ گاہ تو چھوڑیں، ہود بھائی صاحب کی نصیحت مانتے ہوئے پہلے ذرا لٹریچر سروے کی حد تک ہی غواصی کر ڈالیں۔ شاید انہیں یہ جان کر کچھ تسکین ہو کہ ہود بھائی صاحب کی جامعہ ایم آئی ٹی کے پریس نے پچھلے ہی سال اکیسویں صدی کی’’ہینڈ بک آف پیراسائیکولوجی ‘‘ بھی شائع کر دی ہے جس کے بعد یقیناً پیراسائیکولوجی کی حرمت کے روایتی سائنسی فتووں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

لہٰذا اگر سائنسی تناظر میں لفظ ’مفروضے‘ پر کسی قسم کی خرد پسند اجارہ داری کی تبلیغ کی جائے تو پھر ان نالائق پروفیسروں کی فوج کو کیا رونا جو سرے سے سوال ہی کے خلاف ہیں؟ کیا پروفیسر ہود بھائی کسی ایسے طالبعلم کی تحقیقی معاونت کریں گے جو پیراسائیکولوجی کی کسی طبیعاتی توجیہہ کی تلاش کے لئے اس صورت کام کرنا چاہتا ہو کہ اس کے مفروضے الہامی کتابوں اور مذہبی روایتوں سے لئے گئے ہوں؟ ہماری رائے میں خواہ کم ہی سہی یہ رجحانات بھی صرف مغرب کی جامعات میں ہی ممکن ہیں، گو وہاں بھی اب گزشتہ صدی سے ایک استبداد واضح ہے جس کی بیسیوں مثالیں قارئین کے مطالبے پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ہاں اگر مدعا یہ ہے کہ کسی عامل بنگالی بابا اور کسی روحانی ماہرِ قلب کی متوقع گاہکوں کی تلاش میں کسی جامعہ میں آنے کی وجہ سے وہ جدید جامعہ قدامت پسندی کا مرکز بننے جا رہی ہے تو ہم بھی آپ کے نوحے میں شریک ہیں۔ لیکن نہ جانے آپ کا ان تمام طلباء کے بارے میں کیا حکم ہے جو آیتہ الکرسی اور درود شریف پڑھ کر فزکس اور ریاضی کے پرچے کا آغاز کرتے ہیں؟ کیا انہیں اس سہ ماہی کے امتحانات میں پاس کر دیا جائے؟


اسلام آباد کی جدید یونیورسٹی میں جنات اور کالا جادو پر ورکشاپ
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 76 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

4 thoughts on “کیا اسلام آباد کی جدید یونیورسٹیوں میں تصورِ خدا پر ورکشاپ کی اجازت ہے؟

  • 07/11/2016 at 4:45 pm
    Permalink

    لیکن نہ جانے آپ کا ان تمام طلباء کے بارے میں کیا حکم ہے جو آیتہ الکرسی اور درود شریف پڑھ کر فزکس اور ریاضی کے پرچے کا آغاز کرتے ہیں؟ کیا انہیں اس سہ ماہی کے امتحانات میں پاس کر دیا جائے؟

  • 07/11/2016 at 6:42 pm
    Permalink

    Asim Sb. Very well written.

  • 08/11/2016 at 12:13 am
    Permalink

    پرویز ہود بھائی کے ذہنی افق میں ہر اس چیز کی گنجائش ہے جس نے کورٹ پینٹ پہنا ہو، کلین شیو ہو اور ترجیحات انگلش بولتی ہو بخشی صاحب نے جو مثالیں طبیعت لطیف( 🙂 کی دی ہیں میرا نہیں خیال کہ ہود بھائی ان سے ناواقف ہوں گئے اگر کوئی آکسن ٹیلیکناسس پر لیکچر دینے آیا ہوتا تو ہود بھائی خود اس لیکچر میں تشریف فرما ہوسکتا تھے، تاہم ایک مولوی چاہے وہ کتنا اچھا بولتا ہو جب تک اس کی بنیاد مذہبی متون پر ہے ہود بھائی کے تصور میں وہ مولوی مع لوبان و کڑا ہی رہے گا اور وہ اس تصور کی بنا پر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ گردن جھٹکتے رہیں گئے اور بخشی صاحب آپ کے آخری سوال کا جواب بھی ان کے اسی روئیے میں مضمر ہے

  • 08/11/2016 at 6:05 pm
    Permalink

    “افَلا تعقِلون” تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟ اللّلہ تعالٰی قرآنِ مجید میں انسانوں سے مخاطب ہے بذریعہ رسول صلعم۔ عقلِ سلیم کے استعمال پہ پابندی نام نہاد پروگرامڈ متشرح مذاہب اور فرقوں کے علماء نے لگاٸ ہے۔ کیونکہ عقلی گدَےلگانے سے نام نہاد پروگرامڈ علماء کی جہالت عیاں ہو جاتی ہے۔ بعین اسی طرح اگر
    اسلام آباد کی قدیم و جدید یونیورسٹیوں میں عقل کےاستعمال پہ پابندی ہےتو وہاں بھی” حقیقتِ اللّلہ” پہ ورکشاپ نہیں ہو سکتی! اللّلہ تعالٰی کو مانتے سب ہیں جانتا کوئ نہیں۔ کیونکہ اللّلہ نے اپنا مفصل تعارف اپنی کتاب میں اپنے تئیں کیا ہے۔ اُس کتاب میں گرچہ موضوع “انسان اور اُسکی نفسیات” ہے مگر تمام علوم، رباء سے لیکر ساتویں آسمان تک تفصیل سمجھا دیئے ہیں؟ اللّلہ فرماتا ہے ہم نے قرآن کو بےحدآسان کر دیا ہے پس ہےکوئ نصیحت حاصل کرنے والا؟

Comments are closed.