بے حیائی اور وبائیں ۔۔ یاسر پیر زادہ کے کالم کے جواب میں


29 اپریل 2020 ء کو یاسر پیر زادہ صاحب نے ”بے حیائی، وبائیں اور ہماری سزا“ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالی کی طرف کی دنیا میں قوموں پر عذاب اس وقت آتا ہے جب وہ کسی پیغمبر کو جھٹلاتی ہے۔ ”اللہ نے آخری مرتبہ اپنا عذاب مشرکین مکہ پر نازل کیا جس کی وعید اللہ کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہی چونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا اِس لیے اب اِس دنیا میں کوئی عذاب نہیں آئے گا، اب یہ عذاب روزِ قیامت برپا ہوگا کیونکہ یہی اصول قرآن میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مذہب کا مقدمہ ہے۔“ اپنے اس دعوے پر انہوں نے چند دلائل بھی دیے ہیں۔ ان کا جائزہ بعد میں لے لیتے ہیں پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ دنیوی عذاب کے سلسلے میں ”مذہب کا مقدمہ“ کیا ہے؟

پیغمبروں ؑ کی تکذیب کرنے والوں پر عذاب کا آنا قرآنی آیات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن پیغمبروں ؑ کی تکذیب کے علاوہ انسان کے دیگر اچھے اور برے اعمال کا اثر بھی اس کی زندگی پر ہوتا ہے۔ یہ دین اسلام کا ایک واضح اور بے غبار مقدمہ ہے جس کی تائید میں سینکڑوں قرآنی آیات اور احادیث موجود ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے : ”جو کوئی میری نصیحت سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔“ (طہ: 124 ) اسی طرح ارشاد ہے : ”جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں اچھے اعمال کیے ہوں گے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہم اسے اچھی زندگی بسر کرائیں گے۔“ (النحل: 97 ) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : ”آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔“ (ابن ماجہ)

نیکی اور بدی کا یہ اثر محض فرد کی انفرادی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی و قومی اعمال کا ثمرہ بھی اجتماعی سعادت و خوش بختی یا شقاوت و بد بختی کی شکل میں ملتا ہے۔ چنانچہ جو قومیں نیک اعمال کرتی ہیں اللہ تعالی انہیں خوشحالی، رزق کی فراوانی اور امن و امان سے نوازتے ہیں۔ قرآن مجید میں آتا ہے : ”اگر بستی والے ایمان لے آتے تو ہم ان پر آسمان و زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔“ (الاعراف: 95 ) اسی طرح سورۃ المائدۃ آیت 66 میں ہے کہ اگر اہل کتاب اللہ کی نازل کردہ کتابوں کا پاس کرتے تو آسمان و زمین، ہر طرف سے ان پر رزق کے دروازے کھول دیے جاتے۔

اس کے مقابلے میں جو قومیں سرکشی اور بغاوت پر اتر آتی ہیں وہ طرح طرح کی ناگہانی آفتوں، بد امنی اور قحط کی زد میں آجاتی ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پُر امن اور مطمئن تھی، اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے اُن کے کرتوت کی وجہ سے اُن کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف اُن کا اوڑھنا بچھونا بن گئے۔“ (النحل: 112 )

قرآن کہتا ہے کہ شرق و غرب میں پھیلی ہوئی تباہی انسانوں کے اعمال کی جزا ہے۔ اور اللہ نے یہ تباہی اس لیے پھیلائی ہے تاکہ لوگ اسے دیکھ کر عبرت پکڑیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے : ”لوگوں کے ہاتھوں سرزد ہونے والے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، تاکہ اللہ تعالی انہیں ان کے بعض اعمال کا بدلہ دے۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“ (الروم: 41 ) بلکہ قرآن مجید میں یہاں تک بھی آیا ہے کہ ”تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال ہی کا نتیجہ ہوتی ہے، اور اللہ بہت سے گناہوں کو معاف بھی کردیتے ہیں۔“

یہ ٹھیک ہے کہ ان آیات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان پر نازل ہونے والی ہر مصیبت اور ہر تکلیف کا سبب اس کے برے اعمال ہیں۔ اس لیے کہ خود قرآن مجید کی دیگر آیات کی رو سے اس میں بہت سے استثناءات ہیں، لیکن اس سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان مصائب کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو اللہ تعالی ہمارے اعمال کی جزا اور گناہوں کی سزا کے طور پر ہم پہ نازل کرتے ہیں۔ قرآن نے اس دنیوی زندگی کے عذاب کا ذکر بڑی صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ اسے ”العذاب الادنی“ (کم درجے کا عذاب) کہا گیا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں آخرت کے عذاب کو ”العذاب الاکبر“ (بڑے درجے کا عذاب) کہا گیا ہے۔ اس عذاب کے نزول کا مقصد کسی قوم کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ محض ایک یاد دہانی اور نصیحت ہوتی ہے :

”اور اس بڑے عذاب سے پہلے ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے، شاید یہ باز آجائیں۔“ (السجدۃ: 21 )

اگر کوئی اس تازیانے سے عبرت پکڑ لے اور ان چھوٹی موٹی مصیبتوں کو دیکھ کر اپنے عمل پر نظر ثانی کر لے تو یہ اس کی خوش بختی ورنہ یہ عذاب ٹل جاتا ہے۔ اور پھر تھوڑی مدت کے بعد کوئی نئی مصیبت دروازوں پر دستک دینے لگ جاتی ہے۔ یاسر صاحب دنیوی عذاب کا نظریہ رکھنے والوں پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر ہر گناہ کی سزا اسی دنیا میں ہی ملنی ہے تو پھر روزِ قیامت سزا اور جزا کا بندوبست کس واسطے ہے؟ اس وضاحت سے یہ اعتراض خود بخود رفع ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ قرآنی صراحت کے مطابق یہ کوئی باقاعدہ عذاب نہیں بلکہ نصیحت و عبرت کا ایک تازیانہ اور خدائی وارننگ ہے۔

بے حیائی کے متعلق تو خاص طور پر ذکر کیا کہ اس کی وجہ سے دنیوی زندگی بھی اجیرن ہوتی ہے اور آخرت کا عذاب بھی مقدور ٹھہرتا ہے۔ سورۃ النور میں ہے : ”یاد رکھو کہ جو لوگ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔“ (النور: 19 ) اب ہم دنیا کی کتنی حیادار اور نیکو کار قوم ہیں؟ یہ بحث کسی اور مجلس پر چھوڑتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی قوم کے افراد علی الاعلان بے حیائی کریں گے تو وہ طاعون میں مبتلا ہوں گے اور ایسی ایسی بیماریوں میں گرفتار ہوں گے جو ان کے بڑوں کے وقت میں کبھی نہیں ہوئیں۔ ” (ابن ماجہ، حدیث نمبر: 4019 ) آگے اس حدیث میں ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، شرعی قوانین سے سرکاری سطح پر روگردانی اور زکٰوۃ نہ ادا کرنے کی بھی دنیوی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ“ جب کسی قوم کے لوگ زنا کرتے ہیں، شرابیں پیتے ہیں اور گانے بجاتے ہیں تو اللہ تعالی کو آسمان میں غیرت آتی ہے ٓ۔ وہ زمین کو حکم دیتے ہیں : ”انہیں ہلا ڈال۔“ (العقوبات لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 17 )

الغرض دنیوی زندگی میں عذاب کا تصور کسی خود ساختہ مذہبی تصور یا جہالت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ خود قرآن مجید ہی کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ : ”ان کے لیے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے زیادہ سخت ہو گا۔“ (الرعد: 34 )

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو معصوم عن الخطا ہونے کے باوجود اس دنیوی عذاب کے نزول کا بے حد ڈر رہتا تھا۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آندھی چلتی یا بادل آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا، اور آپ بے چین ہو جاتے۔ جب تک بارش نہ ہو جاتی آپ چین سے نہ بیٹھتے۔ ایک دن میں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص بادلوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے جب کہ آپ اداس ہو جاتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے یہ خوف ہے کہیں یہ بادل قوم عاد پر آنے والے بادلوں جیسے نہ ہوں۔ ( جن کو دیکھ کر قوم والے تو خوش ہو گئے مگر دراصل ان میں ان کی ہلاکت و بربادی کا پیغام تھا۔ ) (مسلم)

یاسر صاحب نے ایک اور اعتراض یہ کیا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی قوموں پر عذاب کا ذکر ہے وہاں کہیں بھی یہ بیان نہیں کیا گیا کہ گیہوں کے ساتھ گھن کو بھی پیس دیا گیا ہو۔ بلکہ ہمیشہ نیکو کاروں کو اللہ نے عذاب سے بچا لیا۔ سب کو عذاب میں مبتلا کرنا اللہ کی شان کریمی اور عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ جن وباؤں اور نا گہانی آفتوں کو ہم لوگ عذاب قرار دیتے ہیں ان میں معصوم لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر قرآن مجید کی متعدد آیتوں کہ بھی حوالے دیے کہ قوموں پر عذاب نازل ہوا تو اللہ نے نیکو کاروں کو بچا لیا۔ حالانکہ اس قرآنی اصول کا تعلق اس بڑے دنیوی عذاب سے ہے جو اللہ تعالی نے کسی قوم پر حجت تام ہونے کے بعد اسے مکمل تباہ و برباد کرنے کے لیے اتارا۔ وگرنہ یاد دہانی اور عبرت کے تازیانے کے طور پر اتارے گئے عذاب میں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ دنیوی عذاب میں سب لوگ جکڑے جاتے ہیں پھر آخرت میں ہر ایک اپنے عمل کے مطابق جزا پاتا ہے۔ خاص طور پر جب برائی عام ہو جائے اور نیک لوگ اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو پھر تو ضرور بضرور عمومی نوعیت کے عذاب آتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ الانفال میں ہے : ”اس وبال سے ڈرو جو تم میں سے صرف انہیں لوگوں پر نہیں پڑے گا جو ظالم ہیں۔“ (الانفال: 25 )

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال ہوا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں جب کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔“ (بخاری و مسلم) اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ایک لشکر کعبہ پر حملہ کرے گا تو اس لشکر کے ساتھ آئے ہو ئے سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ ”صحابہ نے عرض کیا:“ یارسول اللہ! اس لشکر میں بہت سے ایسے لوگ بھی تو ہوں گے جو حملے کی نیت سے نہیں بلکہ تجارت کرنے اور لشکر میں اپنا سامان فروخت کرنے آئے ہوں گے۔ ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:“ اللہ سب کو زمین میں دھنسا دے گا پھر قیامت والے دن ہر ایک کو اس کی نیت کے موافق اٹھایا جائے گا۔ ” (بخاری)

پھر بعض دفعہ ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی تکلیف کچھ لوگوں کے لیے تو عذاب ہوتی ہے جب کہ کچھ کے لیے ایک وقتی امتحان، آزمائش اور درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم غزوہءِ بدر ہی کو لے لیتے ہیں جس میں میں مشرکین پر عذاب نازل ہوا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ عذاب اس طرح نازل ہوا کہ ان کے ستر سردار مارے گئے۔ اب اس جنگ میں چودہ مسلمان بھی شہید ہوئے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا عذاب تھا جس میں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا۔ اس لیے کہ یہ موت مشرکین و کفار کے حق میں تو عذاب تھی جب کہ مسلمانوں کے حق میں صرف اور صرف ایک وقتی آزمائش اور رفع درجات کا سبب۔

یاسر پیر زادہ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ناگہانی آفتیں، وبائیں اور زلزلے ہمارے برے اعمال ہی کی وجہ سے آتے ہیں تو کیا صحابہ کے عہد میں آنے والا طاعون بھی نعوذ باللہ بے حیائی کی وجہ سے آیا تھا؟ اسی طرح یہ زلزلے تو مریخ اور مشتری پر بھی آئے تو کیا وہاں بھی زنا ہو رہا ہے؟ کیا بنگلہ دیش کے بھوکے ننگے لوگوں پر جو مصیبتیں آتی ہیں وہ بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں؟ کیا افریقہ کے لوگ بھی آئے روز اپنے گنا ہوں کی وجہ سے عذاب کی زد میں رہتے ہیں؟

یہ اعتراضات غلط فہمی کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے کہ مذہب نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ہر مصیبت عذاب ہی ہوتی ہے اور دنیا کی ہر وبا اور ہر ناگہانی آفت گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بلکہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ متعدد آفتیں محض ایک آزمائش اور امتحان کے طور پر ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد کسی کو عذاب یا سزا دینا نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں : ”اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے۔

اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں ) صبر سے کام لیں گے ان کو خوشخبری سنا دو۔“ (سورۃ البقرۃ: 155 ) اسی طرح زمین و آسمان میں ہونے والے بہت سے تغیرات اللہ تعالی اپنی نشانی کے طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی کو آزمائش میں مبتلا کرنا بھی نہیں ہوتا اور کسی کو عذاب دینا بھی نہیں ہوتا۔

بعض لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ناگہانی آفتیں اور وبائیں تو کسی نہ کسی سائنسی عمل یا فطری تعامل کا کرشمہ ہوتی ہیں۔ انہیں انسانی گناہوں کا نتیجہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس سے تو سائنسی قوانین و تحقیقات کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اس طرح کے اعتراضات سن پر مجھے وہ دہریہ یاد آجاتا ہے جس نے کہا کہ میں قرآن کو اس لیے نہیں مانتا کہ اس کے بقول پرندے اللہ کے حکم سے فضا میں حرکت کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ تو اپنے پروں کی بدولت اڑتے ہیں۔

عرض یہ ہے کہ کسی بھی وبا یا مصیبت کو انسانی بدعملی کی سزا قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی سائنسی علت و توجیہ کا انکار کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ تو اس کی ایک مابعد الطبیعیاتی تو جیہ ہوتی ہے، جس کا مقصد ہرگز اس کی طبیعیاتی اور سائنسی توجیہات کو رد کرنا نہیں ہوتا، ہمارے سامنے رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے علت و اسباب کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے کی کوئی بھی کڑی کسی دوسرے واقعے کی تکذیب نہیں کر رہی ہوتی۔

مثال کے طور پر حدیث شریف میں زنا کو زلزلے کا سبب بتایا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہر زلزلہ زنا سے آتا ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ زنا کی وجہ سے آنے والے زلزلے میں قشر الارض میں پیدا ہونے والی زمینی توانائی اور ارضی تختیوں کی حرکت سے پیدا نہیں ہوا۔ اس کی سائنسی علتیں مکمل طور پر درست ہیں۔ یہ اپنی جگہ کارفرما رہی ہیں۔ مگر ان کے پس پردہ ایک ما بعد الطبیعیاتی اور تکوینی نظام بھی سر گرمِ عمل ہے۔ جس میں انسانی اعمال، قانونِ مکافات اور اللہ تعالی کا حکم شامل ہیں۔

بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کسی وبا کو گناہ کی سزا یا عذاب قرار دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے حل کے تمام مادی اور سائنسی کوششوں کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا جائے اور صرف اور صرف توبہ استغفار پر قناعت کی جائے۔ اس سلسلے میں عرض صرف اتنی ہے کہ ایسا سمجھنے والے سراسر غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ مصیبت کسی بھی نوعیت کی ہو، اس کے حل کے لیے مادی تدابیر اور تگ و دو کرنا عین شریعت ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ روحانی اعمال سے جڑنا بھی ضروری ہے۔

خواہ آپ پر آنے والی مصیبت آپ کے گناہوں کا نتیجہ ہو یا ویسے اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش و امتحان۔ اس میں توبہ استغفار اور اعمالِ صالحہ سے جڑنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و وسلم کی سنت ہے۔ چنانچہ سورۃ نوح میں استغفار کے متعدد فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ جن میں مال و اولاد میں برقت، رزق میں فراوانی اور بروقت بارشوں کا نزول شامل ہیں۔ اسی طرح حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کوئی تکلیف ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔ کیوں کہ نماز میں شفا ہے۔ (ابن ماجہ)

آخر میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد کورونا یا کسی اور وبا کو عذاب الہی ثابت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ بقول غالبؔ: مقصود ہے گزارشِ احوالِ واقعی۔ کہ ایک تو دنیوی عذاب اور سزاؤں کا یکسر انکار سینکڑوں آیات اور احادیث کا انکار کر دینے کے مترادف ہے۔ دوسرا کسی وبا یا مصیبت کو اپنے اعمال کی پاداش یا گناہوں کی سزا سمجھنا اور اس موقع پر توبہ و استغفار کرنا کوئی جہالت یا لا علمی نہیں بلکہ عین قرآنی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے۔ تیسرا کسی وبا کے عذاب الہی سمجھنے کا مطلب نہ تو اس کی سائنسی توجیہات کا انکار ہے۔ نہ ہی اس کے حل کے لیے مادی تدابیر اختیار کرنے کی نفی۔

باقی رہی یہ بات کہ دنیا بائیولوجی اور علم وائرس کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے جب کہ ہم آج تک مصیبتوں کو اپنے اعمال کی پاداش سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی فضول بات ہے۔ دنیا اگر بڑھ رہی ہے تو ہمیں بھی بڑھنا چاہیے۔ کس نے منع کیا ہے؟ ہمارے سائنسی انحطاط کی وجہ یہ مذہبی عقائد ہر گز نہیں۔ بلکہ ناقص نظامِ تعلیم اور سائنسی تحقیق کی عدم حوصلہ افزائی کا فقدان اور اس جیسے دیگر المیے ہیں۔ میں نے تو آج تک سائنس کا کوئی ایسا طالب علم نہیں دیکھا جس نے اس وجہ سے سائنسی تحقیقات اور سائنسی تعلیم کو چھوڑا ہو کہ اسلام کے مذہبی عقائد اس علم کے حصول میں آڑے آتے ہیں۔ ہم خوامخواہ غلط فہمیوں کی بدولت سیدھی سادی دینی تعلیمات کو جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوتی ہیں سائنس دشمن اور جہالت کا ثمرہ سمجھ لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words