کتنی اچھی گائے ہے


\"zafarullah-khan\"

اپنے ماما قادر سے تو احباب واقف ہی ہیں۔ ماما علم و عقل کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ ایک دنیا ان پر فدا ہے۔ وہی لہجے میں للکار مگر دوٹوک گفتگو۔ کبھی کبھی سیاست پر ان کے واقعاتی تجزیئے ایسے ہوتے ہیں کہ مزید بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ کل ماما کا فون آیا تھا۔ علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ ماما یہ جو پوسٹر اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد الیکشن کا قصہ چل رہا ہے اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

ماما بولے منڑا چھوڑو سیاست ویاست کو ہم تم کو ایک قصہ سناتا ہے۔ ہوا یوں کہ اپنے مولوی دین محمد صاحب کو گائے لینی تھی۔ صبح گھر سے نکلا تو ہم حسب معمول مسجد کی منڈیر کے پاس بیٹھا اخباری خبروں پر تجزیہ فرما رہا تھا۔ ہم نے پوچھا بھئی مولوی صاحب کہاں کے ارادے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا کہ ماما جی مجھے گنج (منڈی) جانا ہے۔ میرمن ( زوجہ ماجدہ) فرما رہی ہیں کہ اب کے ایک گائے لے لینی چاہیے۔ کب تک لوگوں کے گھروں سے دودھ، دہی اور لسی مانگتے رہیں گے۔

ہم نے کہا، بھئی مولوی صاحب! خوشحال زندگی کا راز یہی ہے کہ میرمن جو کہے اس پر بندے کو ہمیشہ ’بجا فرمایا‘ کا پہاڑا پڑھنا چاہیے۔ بھلے بعد میں وہ کام نہ کرے لیکن زندگی سکون سے گذرتا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا، ماما آپ ایک تجربہ کار اور دور اندیش انسان ہیں اگر میرے ساتھ گنج جا کر گائے لینے میں مدد کریں تو میں مشکور ہوں گا۔ ہم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا۔ مولوی صاحب اپنی ساری زندگی گدھوں میں گذرا ہے۔ ایک دو گدھوں کا تو ہم باپ ہے۔ گدھا لینا ہے تو بسر و چشم لیکن گائے کے بارے میں اپنا علم اتنا ہی ہے جتنا رانا ثناء االلہ کو قانون کا ہے یا سیدی پرویز مشرف کو سیاست کا ہے۔ مولوی صاحب ہلکے سے مسکرائے اور بازار کی راہ لی۔

ماما کی داستان سے پہلے مولوی صاحب کے بارے میں جان لیں کہ مولوی دین محمد صاحب بذات خود ایک دلچسپ کردار ہیں۔ گاؤں میں کسی کو علم نہیں کہ وہ مولوی کب بنے۔ کسی نے ان کو کسی دینی معاملے میں رائے دیتے بھی نہیں دیکھا نہ ہی انہوں نے کبھی نماز کی امامت کروائی۔ بس مولوی مشہور ہیں۔ عید، شب برات پر البتہ گاؤں والے جب غریبوں کے لئے اجتماعی چندہ کرتے ہیں تو گاؤں کے مولوی کے ساتھ مولوی دین محمد کا حصہ بھی ضرور ہوتا ہے۔ غائب الدماغ قسم کے آدمی ہیں۔ ماما قادر ہی کے بقول، مولوی صاحب ایسی شخصیت ہیں کہ اپنے گدھے پر سوار ہر کر آپ سے پوچھ سکتے کہ ماما صبح سے میرا گدھا غائب ہے، آپ نے کہیں دیکھا تو نہیں؟

\"cow-molvi\"

ہوا یوں کہ مولوی صاحب گنج سے ایک تگڑی گائے خرید لائے۔ پہلے تو گائے کی خوشی میں مولوی صاحب نے کوئی تیس پچاس لوگوں کی دعوت کی۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے گاؤں کے واجد کسان سے اپنا گدھا واپس لے لیا جو ان کو دو ہزار ماہانہ کرایہ پر دیا تھا۔ اب صبح سویرے مولوی صاحب اپنا گدھا لے کر گاؤں سے نکل جاتے اور شام سمے گدھے پر گھاس کی ایک گھٹڑی لاد کر لاتے تاکہ گائے کو کھلا سکے۔ گائے دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ مولوی صاحب نے بازار میں ایک چارہ بیچنے والا سے مشورہ کیا کہ میری گائے امید سے ہے اور دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔ چارہ بیچنے والے نے گائے کی خوراک کا پوچھا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ گھاس کھلاتا ہوں۔ اس نے کہا مولوی صاحب گھاس سے کچھ نہیں بننے ولا۔ کم ازکم کھل تو ساتھ کھلایا کریں۔

حساب کتاب کرنے کے بعد مولوی صاحب کو معلوم ہوا کہ کھل تو بہت مہنگی ہے۔ چار و ناچار فیصلہ بارٹر سسٹم پر ہوا۔ طے ہوا کہ چارے والا کھل کی پانچ بوریاں مولوی صاحب کو ادھار دیں گے اور مولوی صاحب کی گائے جب بچہ جنے گی تو وہ چارے والے کو دیا جائے گا۔ ایک ماہ، دو ماہ، تین ماہ تک مولوی صاحب انتظار کرتے رہے مگر گائے نے بچہ نہ جنا۔ بالآخر مولوی صاحب نے گائے ایک ویٹرنری ڈاکٹر کو دکھا دی۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کے بعد اعلان کیا کہ گائے تو سرے سے امید سے نہیں ہے۔ اب مولوی صاحب نے گاؤں کے زمیندار صاحب کے منشی کی مٹھی گرم کر کے سانڈ کا بندوبست کر دیا مگر کچھ بنا نہیں۔ سرکاری ویٹرنری سے انجکشن لگوایا مگر وہی بات۔ ویٹرنری ڈاکٹر صاحب سے پرائیویٹ انجکشن کی بات بھی کی مگر وہ مولوی صاحب کے بس سے باہر کی بات تھی۔ چار ماہ گاؤں کی سیاست پر مولوی صاحب کی گائے چھائی رہی۔ تنگ آکرایک دن میرمن نے مولوی صاحب کو دھمکی دی کہ اگر آج گائے بیچ کر نہیں آئے تو میں میکے چلی جاؤں گی۔

اگلے دن مولوی صاحب گائے لے کر دوبارہ گنج پہنچ گئے۔ ایک بزاز کے ساتھ طے کیا کہ ہر ہزار روپے میں پچاس روپے اس کے ہوں گے۔ بزاز نے گائے کی بولی لگانا شروع کر دی۔ بولی کیا تھی ایک پورا قصیدہ تھا۔ بزاز نے گائے کا شجرہ بیان کیا۔ کہا گائے فلاں سردار صاحب کو فلاں انگریز صاحب نے آسڑیلیا سے بھیجی تھی۔ معلوم ہوا کہ گائے کا ابا پولینڈ کا تھا جبکہ اماں آسڑیلیا کی تھی۔ گائے کی آنکھیں غزال سے خونصورت تھیں۔ گائے کی ٹانگیں گھوڑے سے مضبوط تھیں۔ گائے کی رنگت میں سفید نشان کالے آسمان میں تاروں جیسے تھے۔ گائے کو اپنے مالک سے اتنا پیار تھا کہ اسے لگے آشوب چشم کو جدائی کے آنسو ثابت کیا گیا۔ بزاز نے بالآخر ایک گاہگ پھنسا لیا۔ اٹھارہ ہزار روپے میں سودا طے ہوا۔

بزاز خوشی خوشی مولوی صاحب کے پاس آیا کہ سودا طے ہو گیا۔ دیکھا تو مولوی صاحب کی آنکھوں میں دو موٹے موٹے آنسو تھے۔ مولوی صاحب نے بزاز کا ہاتھ تھام کر اس میں پانچ سو روپے کا نوٹ رکھا۔ روہانسا ہو کر بزاز سے کہنے لگا، شکریہ بھائی۔ تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ میری گائے اتنی اچھی ہے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری جدائی میں رونا شروع کر دے گی۔ ایسی پیارے گائے تو میں کبھی نہیں بیچوں گا۔ میرمن سے خواست زاری کر لوں گا مگر گائے نہیں بیچوں گا۔

مولوی صاحب شام کو واپس گائے کی رسی تھامے گاؤں میں داخل ہوئے تو ماما قادر سے سر راہ ملاقات ہو گئی۔ ماما نے گائے نہ بیچنے کی وجہ پوچھی تو مولوی صاحب نے روداد بیان کر دی۔ ماما بولے کہ مولوی صاحب باقی تو ہم کو کچھ معلوم نہیں پر ہم ایک بات جانتا ہے۔ جس گائے نے دیسی ہو کر بچہ اور دودھ نہیں دیا وہ آسٹریلیا کا پاجامہ اور پولینڈ کا کرتہ پہن کر بھی دودھ نہیں دے سکتی۔ باقی تمہارا مرضی ہے۔

نوٹ۔ یہ مضمون بالکل غیر سیاسی ہے۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah