ویکسین کیا ہوتی ہیں اور کیسے کام کرتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج کل ہر طرف کرونا وائرس اور اس کے ویکسین کی باتیں ہو رہی ہیں مگر بہت کم لوگ یہ بتاتے ہیں کہ ویکسین آخر ہوتی کیا ہیں؟ دراصل، جب باہر سے وائرس یا بیکٹیریا ہمارے جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر جسم کے اندر موجود مدافعتی فوج ان پر جوابی حملہ کرکے ان کو مار دیتی ہے۔

اس حملے کے لیے ہمارا جسم جن ہتھیاروں کا سہارا لیتا ہے وہ اینٹی باڈیز یا مزاحمتی مادے کہلاتے ہیں۔ ایک صحت مند شخص ایک دن میں لاکھوں اینٹی باڈیز بنا سکتا ہے جس کی وجہ سے ہم صحت مند رہتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر پھر ہم بیمار کیوں پڑتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سارے بیرونی حملہ آورز ایک ہی ہتھیار سے نہیں مارے جا سکتے۔ ایسے حملہ آور جن کا سامنا ہمارے مدافعتی فوج کو پہلی بار ہوتا ہے ان کے لیے نئے ہتھیار بنانے پڑتے ہیں۔ اور ان نئے ہتھیاروں کی تیاری میں ہمیں کئی دن لگتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ کئی دن زیادہ خطر ناک نہیں ہوتے کیونکہ زیادہ تر بیکٹیریا یا وائرس اتنے عرصے میں زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے۔ مگر حالات اس وقت بہت گمبھیر ہوتے ہیں جب کوئی انتہائی جنگجو وائرس یا بیکٹیریا جیسے خسرہ اور چیچک وغیرہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے وائرس یا بیکٹیریا ز کے لیے چند دن بہت دن ہوتے ہیں۔ ایسے جراثیم اتنی تیزی سے پھیلتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ہمارا جسم ان کے خلاف ہتھیار بنائے یہ جسم کو بے جان کر دیتے ہیں۔

کرونا وائرس بھی اس طرح کے حملہ آوروں میں سے ایک ہے۔ ایسے حملہ آوروں سے بچنے کے لیے ویکسین بنانے لازمی ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ ویکسینز کیا ہیں؟ ویکسین دراصل مردہ یا بہت کمزور جراثیم ہوتے ہیں۔ یہ جراثیم انسانی جسم کو نقصان تونہیں پہنچا سکتے مگر ہمارا مدافعتی نظام ان کے خلاف ہتھیار (اینٹی باڈیز) تیار کر لیتا ہے۔ اس عمل سے ہمارا مدافعتی نظام اس دشمن سے متعارف ہو جاتا ہے اور بعد میں جب کبھی ایسے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوں گے تو مدافعتی نظام ان کو پہچان کر ان کے خلاف سب سے زیادہ نقصان دہ ہتھیار استعمال کرکے ان کو تباہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویکسین خطرناک بیماریوں جیسا کہ خسرہ، ٹیٹنس، پولیو اور ہیپاٹائٹس وغیرہ سے ہمیں محفوظ رکھتے ہیں۔

ویکسین بنانے کے عمل میں بہت زیادہ محنت اور وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے آج کل بنی نوع انسان کی ساری سائنسی فوج بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب کرونا کے علاج کے لیے ویکسین کی کھوج میں سر گرداں ہے۔ اب تک دنیا میں باسٹھ تحقیقی گروہ ایسے ہیں جو شبانہ روز اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح کرونا کے لیے ویکسین تیار کی جائے۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ اگر اتنے لوگ اس پر کام کر رہے ہیں تو ابھی تک بنانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوئے؟ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے، کیونکہ سب سے پہلے تو سائنسدانوں کو وائرس کے بنیادی مادوں اور ساخت کی شناخت کرنی پڑتی ہے۔

اس کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ انسانوں کے جسم کے اندر کس طرح حملہ آور ہوتا ہے۔

اس کے بعد اس چیز کا یقین کرنا ہوتا ہے یہ دوائی جسم کے کسی دوسرے حصے کے لیے تو خطرناک نہیں ہے۔ نقصانات کو جاننے کے لیے سب سے پہلے اس کا تجربہ کسی ایسے جانور پر کیا جاتا ہے جس میں وائرس اسی طرح حملہ آور ہوتا ہے جیسے انسانوں پر۔ جانوروں کے تجربے کے بعد عموماً تین مرحلوں پر مشتمل انسانوں پر تجربے کیے جاتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں دوائی کو چار سے چھے افراد پر تجرباتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس مرحلے میں عموماً تین ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں سینکڑوں افراد پر استعمال کرکے دوائی کے مقدار کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں کم از کم آٹھ ماہ لگتے ہیں۔ تیسرا اور آخری مرحلہ ہزاروں افراد پر تجرباتی استعمال اور صنعتی پیمانے پر اس کی تیاری ہے، اس میں عام طور پر آٹھ سے نو ماہ لگتے ہیں۔ ان تینوں مراحل میں سے اگر کسی ایک میں بھی کوئی خامی یا نقص رہ جائے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔ ان سب باتوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے ویکسین بنانے کے لیے اٹھارہ ماہ لگنے کی بات کیوں کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply