پلیٹ فارم پر لکھی نظمیں


رات کے پچھلے پہر

جب دل دھڑکنا چھوڑ دے

جب سانسیں بوجھل ہو اٹھیں

جب روح درد سے کراہ اٹھے

مجھے تم یاد آتے ہو

 

میں نے صدیوں کا سفر

آبلہ پا طے کیا ہے

 چھاؤں کہیں نہیں تھی

پیاس بہت تھی

 پانی میں زہر ملا تھا

میں محبت کی جس مٹی سے گندھی تھی

وہ سوکھ کے بے زبان ہو گئی

زمیں حسرت سے آسمان تکتی ہے

شاید محبت کی کچھ بوندیں

اس اذیت کو کم کر سکیں

آسمان مہربان ہے لیکن

بارش پہ قادر نہیں

بادلوں میں بوندیں ہیں

اور میری آنکھ میں آنسو

آنسو خاموش ہیں

اور

مجھے تم یاد آتے ہو

                             ٭٭٭    ٭٭٭

نہیں معلوم کہ تم کون ہو

ساحر

مسیحا

شعبدہ باز

چارہ گر

یا ایک سادہ دل انسان

 

تم لفظوں سے کھیلتے ہو

اور کھیل ہی کھیل میں مسیحائی تمہارا ہنر

روح پھونکتے ہو تم

ان جاں بلب مسافروں میں

جو زندگی کے پلیٹ فارم پہ

آخری گاڑی کے انتظار میں

آنکھیں موندے

گھڑیاں گنتے ہیں

درد کی شدت انہیں دیکھنے نہیں دیتی

کہ چارہ گر حرفوں کا مرہم لئے

لہو لہو بدن

سمیٹ رہا ہے

 

انگلیاں فگار ہیں اس کی

لیکن اس کا ہنر اسے رکنے نہیں دیتا

اس کی محبت اسے تھکنے نہیں دیتی

دکھ چننا اور انہیں پہننا

مسافر اور ساحر

دونوں کا ہی نصیب ہے

                                ٭٭٭    ٭٭٭

صحرا میں کھڑا ببول 

تنہا، پیاسا، کانٹوں بھرا 

یونہی

امید سے تکتا ہوا

شاید آسماں سے ابر برسے

اور

اس کے جسم میں گڑے خار

اس کی اذیت میں

کمی لے آئیں

آسماں سمجھتا تو ہے

آنسو بہا سکتا ہے

لیکن سایہ فگن ہونا

ممکن نہیں

آسمان کے ہاتھ بندھے ہیں

وقت کی مثلث میں 

زمانوں کی گردش میں 

دونوں ایک دوسرے کا درد تو محسوس کر سکتے ہیں

مداوا نہیں ہو سکتا

سمندر گہرا ور خاموش ہے

اور وقت کی شمع پگھل رہی ہے

Facebook Comments HS