جنگ کا مخالف فلسفی: عمانوئل کانٹ


کانٹ 1724 میں پروشیا (جرمنی) میں پیدا ہوا۔ اس کی پرورش ایک منظم اور سخت ماحول میں ہوئی۔ اس کہ ماں ایک راسخ العقیدہ عورت تھی۔ جس کی پرزور مذہبی پرورش نے کانٹ میں رد عمل پیدا کیا، اور پھروہ تقریباً ساری زندگی چرچ سے بیزار رہا۔ 1755 میں ایک یونیورسٹی میں لیکچرار بنا اور بہت عرصہ وہ اپنی قابلیت اور معیار سے نچلے درجے پر کام کرتا رہا۔ اس کی پروموشن کی فائل کئی بار دھتکاری گئی۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ آگے چل کر اپنے ما بعد اطبیعات کے کام سے دنیا کو چونکا دے گا۔

کانٹ، پانچ فٹ کا ایک کمزور انسان تھا۔ مگر ارادے اور نظم و ضبط میں بہت بڑا تھا۔ وہ وقت کی پابندی کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب چہل قدمی کے لیے نکلتا تھا تو لوگ اپنی گھڑیوں کا وقت درست کر لیتے تھے۔ اس نے شادی نہیں کی اور ساری زندگی علم کے لیے وقف کر دی۔ سرکار کا ملازم ہونے کے باوجود اس نے مذہب اور سیاست پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ اس کی مذہب اور خدا پر لکھی تحریروں نے جرمنی کے راسخ القیدہ لوگوں میں ایک اشتعال پیدا کر دیا۔ بہت سے پادریوں نے اپنے کتوں کا نام کانٹ رکھ دیا۔ کانٹ نے مذہبی خیالات پر اظہار سے پہلے بہت سے دوسرے فلسفیانہ نظریات پر کام کیا۔

کانٹ کے دور میں تجربیت پسند فلسفی غالب تھے۔ کانٹ نے عقل محض پر تنقیدی جائزہ لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی محض حسی یا تجرباتی علم ناکافی ہے۔ عقل محض سے کانٹ کی مراد وہ علم یا ادراک ہے جو ہماری پیدائشی فطرت اور دماغ کی وضع سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ وہ علم جو حسیات یا تجربات سے حاصل ہوتا ہے۔ تجربہ علم کو آشکار کرتا ہے اور کسی ایک زاویہ سے اس کی حقانیت جانچتا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ علم پہلے سے موجود نہیں تھا، یا اس زاویے کے علاوہ کوئی اور نقطہ نظر یا منطقی زاویہ اپنا وجود نہیں رکھتا تھا۔

انسانی دماغ کوئی موم نہیں جس پر تجربات یا حسی ادراک اپنا انمٹ نشان چھوڑ جائیں۔ یہ ایک جاندار عضوو ہے جو حسیات کو خیالات میں بدلتا ہے اور بے ترتیب تجربات کو خیالات کی لڑی میں پرو کر پرکھتا ہے، پھر ہی کسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ کامل سچائیاں تجربات سے پہلے بھی کامل ہی تھیں۔ تجربے یا ادراک سے پتہ چلا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے، مگر اس ادراک سے پہلے بھی وہ مشرق سے ہی نکلتا تھا۔

کانٹ ایک برتر اور ماورائے عقل فلسفہ کا ذکر کرتا ہے، جس میں حسی ادراک ایک جمالیاتی اور منطقی مرحلے سے گزر کر کسی کامل شعور تک پہنچتا ہے۔ وہ اس عمل کے دو مراحل بتاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں حسی ادراکات کی ترتیب ہمیں عام سے خیال تک پہنچاتی ہے، جہاں ہم اشیا کی ایک مناسب سی تصویر کشی کر لیتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان خام خیالات کا ترتیب وار جائزہ ہمیں کامل خیال یا شعور تک لے جاتا ہے۔ حسیات نے سیب کو سیب قرار نہیں دیا، بلکہ دماغ نے حسیات میں آنے والی تمام اشیا کی ساختوں اور ترتیبات کا جائزہ لیا اور ان کو اپنی اپنی کیٹیگری میں تقسیم کیا۔

دماغ مقاصد اور ان کی شدت یا ضرورت کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ محرکات اور مقاصد کی نشاندہی پر فیصلے کرتا ہے۔ ایک ماں آندھی اور طوفان کے شور میں بے نیاز سوئی رہتی ہے مگر بچے کی ہلکی سی آہٹ سے جاگ جاتی ہے۔ یہ حسیات یا تجربات کی بات نہیں بلکہ دماغ میں متعین مقاصد اور احساسات کی بات ہے۔ زمان و مکان میں موجود حسی ادراک کو ترتیب دینا اور ترجیحات متعین کرنا دماغ کا کام ہے۔ زمان و مکان پہلے سے موجود ہیں یعنی قبل تجربی ہیں۔ زمان و مکان تصورات کے عضو ہیں۔ ان کے بغیر حسیات کبھی بھی تصورات میں نہیں ڈھل سکتے۔ یہ ہمارے ازہان میں موجود مقاصد ہی ہیں جو مرحلہ وار ترتیب سے سے ہمیں آگاہی کے سفر میں آگے لے کر آئے ہیں۔ یہ سفر حسیات سے شروع ہوا اور دماغ اس کو حکمت اور شعور تک لے کر آیا۔

مذہب کی بات کی جائے تو کانٹ نے مذہب کے معاملات میں سائنس کا دائرہ کار محدود کر دیا۔ وہ کہتا تھا کہ عقیدہ، روح اور خدا جیسے معاملات کو استدلال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کے وجود کے تین دلائل یا ثبوت ہیں اور یہ تینوں ناقص ہیں۔ پہلا وجودیاتی ثبوت ہے کہ کسی ایسی کامل ذات کا تصور جو تمام حقیقتوں کی حامل و آگاہ ہو۔ یہ سوچنے میں تو اچھا خیال ہے مگر اس سے وجود کا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ دوسرا کائناتی ثبوت ہے کہ اتنی بڑی کائنات کو چلانے کے لیے کسی ایک عظیم ذات کا وجود ضروری ہے۔ کانٹ کے مطابق یہ ایک علتی حوالہ ہے جو کہ مذہبی تسلی کے لیے کافی ہے مگر اس سے بھی وجود کا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ تیسرا طبیعاتی و دینیاتی ثبوت کہ اتنی خوبصورت اور با ترتیب کائنات کسی بنانے والے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کانٹ کہتا ہے کہ اس تصور سے ذہن کسی معمار کے متعلق سوچتا ہے۔ معمار سے خیال تعمیراتی کام کی طرف جاتا ہے اور تعمیرات ہمیشہ ٹھوس شے یعنی کہ مادہ سے متعلق ہوتی ہیں۔ ذہن مانتا ہے کہ مادہ کو بنانے والی ذات بھی مادہ ہو گی۔ مگر مذہب تو خدا کو ان چیزوں سے ماورا کہتا ہے۔

کانٹ نے کہا کہ کائنات کے میکانکی نظام کی اکائیاں ملاتے جائیں تو کہیں نہ کہیں جا کر سلسلہ رک جاتا ہے، کیونکہ ہمارا تجربہ وہاں تک نہیں۔ اس کے علاوہ اگر علمی مباحث اور دلائل کی بات کی جائے تو منطقی استدلال حق میں بھی دلائل لے آئے گا اور مخالفت میں بھی۔ اس لیے عقیدہ کی بنیاد انسان کے اخلاقی احساس اور اندر سے آنے والی آواز پر رکھی جائے۔ انسان کا اخلاقی احساس فطری اور پیدائشی ہے۔ یہ تجربات سے اخذ نہیں ہوتا۔ انسان کا اخلاقی احساس کامل ہونا چاہیے اور اسی پر صحیح اور غلط کو پرکھا جانا چاہیے۔ انسان آزاد ہے اور یہ آزادی تب قابل احترام ہے، جب یہ اچھے اخلاق کے تابع ہو۔ ایسا اخلاق جو اپنے لیے فرض شناسی اور پرفیکشن کو ترجیح دے۔ جو ذاتی خوشی پر اجتمائی خوشی کو ترجیح دے۔

کانٹ نے پاپائیت اور حکمرانوں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ اس نے کہا ”حضرت عیسیٰ ہمارے پاس خدا کی بادشاہت لے کر آئے۔ مگر ان کے نظریات کی غلط تشریح کر کے پادریوں نے اپنی بادشاہت قائم کر دی۔ انسان کو ایک خدا کے ساتھ جوڑنے کے بجائے فرقوں میں تقسیم کر دیا گیا“ ۔ پادریوں اور حکومتوں کا گٹھ جوڑ مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ حکمران طاقت کے پجاری ہیں۔ مہذب کہلائی جانے والی ریاستیں، طاقت اور وسائل کے لیے دوسری ریاستوں پر قبضہ کر رہی ہیں۔

”ہمارے حکمرانوں کے پاس تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، کیونکہ وہ پہلے سے ہی تمام وسائل اگلی جنگ میں جھونکنے کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ قومیں تب تک مہذب نہیں ہو سکتیں، جب تک کہ تمام افواج کو ختم نہ کر دیا جائے“ ۔ کانٹ نے تجویز دی کہ آزاد ریاستوں کی فیڈریشن بنائی جائے جو جنگ روکنے کی پابند ہو۔ ریاستوں کا آئین جمہوری ہونا چاہیے اور اگر جنگ ناگزیر بھی ہو تب بھی اس کا فیصلہ حکمرانوں کی مرضی سے نہیں بلکہ عوامی رائے شماری سے ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS