رینی ڈیکارٹ

ڈیکارٹ 1596 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ جدید فلسفہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے پیش رو فلسفیوں کے کاموں کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فلسفے کی از سر نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے اپنے فلسفیانہ انداز بیان کو آسان رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے ہمیشہ اپنا اور کلیسا کا تعلق بنائے رکھا۔ مگر اس کے باوجود اس کو بدعتی اور ملحد کہا گیا۔ اس پر حملے بھی ہوئے۔ وہ کلیسا کے کرتا دھرتاؤں سے ملتا رہا اور کلیسا کو جدید سائنس کے متعلق نرم رویہ رکھنے کی درخواست کرتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو جیسا گلیلیو کے ساتھ ہوا۔

Read more

جنگ کا مخالف فلسفی: عمانوئل کانٹ

کانٹ 1724 میں پروشیا (جرمنی) میں پیدا ہوا۔ اس کی پرورش ایک منظم اور سخت ماحول میں ہوئی۔ اس کہ ماں ایک راسخ العقیدہ عورت تھی۔ جس کی پرزور مذہبی پرورش نے کانٹ میں رد عمل پیدا کیا، اور پھروہ تقریباً ساری زندگی چرچ سے بیزار رہا۔ 1755 میں ایک یونیورسٹی میں لیکچرار بنا اور…

Read more

جدید فکر کا اہم فلسفی: فرانسس بیکن

322 قبل مسیح میں ارسطو فوت ہوا۔ اس سے پہلے افلاطون اور سقراط دنیا چھوڑ گئے۔ یکے بعد دیگرے تین عظیم فلسفی رخصت ہوئے تو مغرب کی سرزمین سے فلسفہ تو جیسے روٹھ ہی گیا۔ اس نے ایسی ہجرت کی کہ پھر مغرب کی زمین تقریباً دو ہزار سال تک کسی بڑے فلسفی کی راہ…

Read more

والٹیئر؛ فلسفی جو ضمیر انسانی کی آواز تھا

والٹیئر 1649 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ شاید واحد فلسفی تھا جس کا ذکردوسرے دانشوروں نے انتہائی اچھے اور برے الفاظ میں کیا۔ وہ ایک بے ایمان، بے اصول، بد صورت و بد سیرت، چرب زبان، بے کار اور فحش انسان سمجھا جاتا تھا۔ ایک شاندار فلسفی میں ایسی صفات کا ذکر کچھ ہضم…

Read more

اب بات امان اللہ کی قبر پر نہیں رکے گی

ہنی البیلا نے کہا تھا ”جب کسی فنکار کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی جانب سے کسی بھی تمغے یا اعزاز کا اعلان ہوا کرے گا تو یہ ایوارڈ وصول کرنے کی بجائے ایک ہی درخواست کریں گے کہ ہمیں تمغہ نہیں ’کسی قبرستان میں دفن ہونے کا اجا زت نامہ دیا جائے“۔ امان…

Read more

دو ٹکے کی عورتوں کا لکھاری

آزادی مارچ کے چند کابل اعتراض نعروں سے اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر عورت ایک مسلسل تذلیل کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مرد نے مرد کی تذلیل بھی کرنی ہو تو گالیاں عورت کے نام کی ہی استعمال کرتا ہے۔ ٹرک اورلاریاں ماں کی…

Read more