جمہوریت اور مذہب بیزار فلسفی، نطشے

نطشے 15 اکتوبر 1944 کو پروشیا میں پیدا ہوا۔ اس کا والد ایک مشہور پادری اور والدہ انتہائی مذہبی عورت تھی۔ نطشے کی تربیت اس کی والدہ نے کی مگر وہ اس تربیت کے مذہبی حصار سے بہت جلد ہی نکل گیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے اپنے والدین کے بتائے ہوئے خدا کا انکار کر دیا، اور اس کے بعد ساری زندگی اپنے تخیل میں خدا تراشتا رہا۔ اس کی ذہانت اور علمی پختگی کا یہ عالم تھا کہ اسے یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی پروفیسر کے عہدے کی پیشکش ہوئی، جسے اس نے قبول کر لیا۔

نطشے موسیقی کا اتنا دلدادہ تھا کہ اس نے کہا ”موسیقی کے بنا زندگی ایک خطا ہوتی“ ۔ اس کے ساتھ ہی وہ طاقت اور جبر کا حامی تھا۔ اس نے فوج میں شامل ہونا چاہا، مگر فوجی تربیت کے دوران ہی گھوڑے سے گر کر شدید زخمی ہو گیا اور گھر بھیج دیا گیا۔ وہ ویسے بھی کمزور صحت کا حامل ایک نازک شخص تھا۔ اپنی انہی محرومیوں کی وجہ سے وہ زیادہ شدت سے طاقت، بہادری، جبر اور غرور کے متعلق سوچنے لگا۔ یہ سوچ اس کو اس مقام پر لے آئی جہاں اس نے اپنے ’لاحاصل‘ کو ہی اپنا خدا بنا لیا۔

Read more

1564 سے شروع ہونے والی کہانی کے کردار گیلیلیو اور نیوٹن

انسانوں کی اس دنیا میں آمد اور ان کی کاوشوں کی کہانیوں میں ہمیں کہیں کہیں قدرت کا خاص انتظام نظر آتا ہے اور جہاں یہ انتظام نظر آ جائے تو سمجھ جائیں کہ نہ یہ کہانی عام ہے، اور نہ ہی اس کے کردار۔ ایسی ہی ایک کہانی شروع ہوتی ہے سن 1564 میں جب دنیا کے نقشے پر دو ایسے کردار قدم رکھتے ہیں جو اپنے اپنے میدان میں فکر ونظر کا زاویہ بدل دیتے ہیں۔ یہ دو

Read more

اسپینوزا! ایک دھتکارا ہوا فلسفی

1492 میں فرڈیننڈ نے غرناطہ کو فتح کر کے جہاں ایک طرف مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم کیا تو دوسری طرف یہودیوں کو حکم دیا کہ یا وہ عیسائیت قبول کر لیں یا ملک چھوڑ دیں۔ یہودی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک کا رخ کرنے لگے ان میں سے ایک گروہ ہالینڈ پہنچا جس میں اسپینوزا خاندان بھی تھا۔ ہالینڈ میں یہودیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور ان کو اپنی عبادت گاہ بنانے کی اجازت دے دی گئی۔

Read more

رینی ڈیکارٹ

ڈیکارٹ 1596 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ جدید فلسفہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے پیش رو فلسفیوں کے کاموں کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فلسفے کی از سر نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے اپنے فلسفیانہ انداز بیان کو آسان رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے ہمیشہ اپنا اور کلیسا کا تعلق بنائے رکھا۔ مگر اس کے باوجود اس کو بدعتی اور ملحد کہا گیا۔ اس پر حملے بھی ہوئے۔ وہ کلیسا کے کرتا دھرتاؤں سے ملتا رہا اور کلیسا کو جدید سائنس کے متعلق نرم رویہ رکھنے کی درخواست کرتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو جیسا گلیلیو کے ساتھ ہوا۔

Read more

جنگ کا مخالف فلسفی: عمانوئل کانٹ

کانٹ 1724 میں پروشیا (جرمنی) میں پیدا ہوا۔ اس کی پرورش ایک منظم اور سخت ماحول میں ہوئی۔ اس کہ ماں ایک راسخ العقیدہ عورت تھی۔ جس کی پرزور مذہبی پرورش نے کانٹ میں رد عمل پیدا کیا، اور پھروہ تقریباً ساری زندگی چرچ سے بیزار رہا۔ 1755 میں ایک یونیورسٹی میں لیکچرار بنا اور بہت عرصہ وہ اپنی قابلیت اور معیار سے نچلے درجے پر کام کرتا رہا۔ اس کی پروموشن کی فائل کئی بار دھتکاری گئی۔ مگر کوئی

Read more

جدید فکر کا اہم فلسفی: فرانسس بیکن

322 قبل مسیح میں ارسطو فوت ہوا۔ اس سے پہلے افلاطون اور سقراط دنیا چھوڑ گئے۔ یکے بعد دیگرے تین عظیم فلسفی رخصت ہوئے تو مغرب کی سرزمین سے فلسفہ تو جیسے روٹھ ہی گیا۔ اس نے ایسی ہجرت کی کہ پھر مغرب کی زمین تقریباً دو ہزار سال تک کسی بڑے فلسفی کی راہ تکتی رہی۔ ایسا نہیں کہ اس دوران فلسفہ پر کام نہیں ہوا۔ کام ہوا مگر وہ اتنا شاندار نہیں تھا کہ تاریخ میں کوئی مقام

Read more

والٹیئر؛ فلسفی جو ضمیر انسانی کی آواز تھا

والٹیئر 1649 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ شاید واحد فلسفی تھا جس کا ذکردوسرے دانشوروں نے انتہائی اچھے اور برے الفاظ میں کیا۔ وہ ایک بے ایمان، بے اصول، بد صورت و بد سیرت، چرب زبان، بے کار اور فحش انسان سمجھا جاتا تھا۔ ایک شاندار فلسفی میں ایسی صفات کا ذکر کچھ ہضم نہیں ہوتا۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ والٹیر کو جو مناسب لگا اس نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا اور کیا۔ باشاہوں سے لے کر

Read more

اب بات امان اللہ کی قبر پر نہیں رکے گی

ہنی البیلا نے کہا تھا ”جب کسی فنکار کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی جانب سے کسی بھی تمغے یا اعزاز کا اعلان ہوا کرے گا تو یہ ایوارڈ وصول کرنے کی بجائے ایک ہی درخواست کریں گے کہ ہمیں تمغہ نہیں ’کسی قبرستان میں دفن ہونے کا اجا زت نامہ دیا جائے“۔ امان اللہ صاحب کی قبر کے تنازع پر مختلف لوگ، مختلف وجوہات بتا رہے ہیں، جن میں دو وجوہات زیادہ تواتر سے بیان کی جا رہی

Read more

دو ٹکے کی عورتوں کا لکھاری

آزادی مارچ کے چند کابل اعتراض نعروں سے اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر عورت ایک مسلسل تذلیل کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مرد نے مرد کی تذلیل بھی کرنی ہو تو گالیاں عورت کے نام کی ہی استعمال کرتا ہے۔ ٹرک اورلاریاں ماں کی عظمت بیان کرتے جملوں سے بھری پڑی ہیں، مگر زبانیں ماں بہن کی گالیوں سے لتھڑی پڑی ہیں۔ بہن بیٹیوں کو باحیا لباس کی تلقین

Read more