کھڑکی سے کورونائی صورتحال کا جائزہ


بچپن میں بڑوں سے پڑھائی کے معاملے میں اکثر یہ سننے کو ملتا تھا کہ اپنے دماغ کی کھڑکی کھولو۔ اس وقت مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ کھڑکی کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن کورونائی صورتحال میں اس کھڑکی کی کیا افادیت ہے، اچھی طرح سمجھ میں آگیا۔ کورونا نے جب سے اس دنیا میں اپنے پنجے گاڑے ہیں ہماری معمولات زندگی یکسر تبدیل ہوکر رہ گئی ہے۔ ملک بھر کی طرح کراچی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیشتر لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

گھر میں رہتے ہوئے اکثر یا تو خبروں کے ذریعے کورونا کی صورتحال پر نظر ہوتی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں مزید کتنے کیسسز دنیا بھر میں سامنے آئے، اس کے علاج کے لیے کسی دوا کا تجربہ کامیاب ہوا یا نہیں یا اس کورونا سے بچنے کے لیے کسی ملک کو ویکسین بنانے میں فتح نصیب ہوئی یا نہیں۔ اور اگر خبروں سے کوئی مثبت بات سامنے نہیں آتی تو پھر ورچوئل دنیا کا سہارا لیتے ہیں۔

جب مجھے ان تمام تر سرگرمیوں سے اکتاہٹ ہوئی تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھوں۔ جیسے ہی میں اپنے کمرے کی کھڑکی پر گئی تو مجھے ماضی میں مقبول ہونے والا یہ گانا یاد آگیا کہ میرے سامنے والی کھڑکی میں ایک چاند کا ٹکڑا رہتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔

رات کے اوقات میں رمضان میں جو گلیاں نوجوانوں کے کرکٹ میچز سے سج جایا کرتی تھیں، جہاں خصوصی طور پر ان نائٹ میچز کے لیے لائٹس کا انتظام کیا جاتا تھا، جہاں بڑے بوڑھے سحری تک بیٹھ کر چھکوں اور چوکوں پر تلیاں بجایا کرتے تھے، اور جہاں کسی کو آؤٹ کرنے پر داد وصول کی جاتی تھی، ان دنوں وہ گہماگہمی ماند پڑ گئی۔ کرکٹ کھیلتے نوجوانوں کی جگہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے سنبھال لی۔ مخصوص لائٹس کی جگہ پولیس کی گاڑیوں کی بتیوں اور سائرن نے لے لی، بڑے بوڑھوں کے بیٹھنے کے مقام پر بھی خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔

لیکن جب رات کی تاریکی کو سحر کی روشنی نے اپنے اندر سمو لیا تو تھوڑی چہل پہل ضرور نظر آئی لیکن وہ بھی غیر معمولی تھی۔ بیشتر لوگوں کے چہرے مختلف اقسام کے ماسک سے چھپے ہوئے تھے جیسے ہم کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہوں۔ کچھ نے دستانے تو کسی نے ہاتھوں میں پلاسٹک بیگز باندھ رکھے تھے اور جو ان سب چیزوں کے بغیر تھے وہ بیشتر موسمی فقیر تھے۔ دکانوں کے باہر لمبی قطاریں جبکہ ٹھیلوں پر بھی لوگوں کا نظم و ضبط نظر آیا جو میں نے ماضی میں ماہ رمضان میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ خواتین بھی احتیاط اور صبر وتحمل سے خریداری کرتی نظر آئیں یہ بھی شاید ایک مثبت تبدیلی تھی یا میں کچھ زیادہ سوچ رہی تھی۔

دن بھر گلیوں اور مقامی دکانوں کی یہی صورت حال رہی۔ پانچ بجتے ہی پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کے شور نے ایک دم سے خاموشی اور سناٹا پیدا کر دیا۔ اور پھر وہی اداسی میرے دماغ کو گھیرنے لگی کہ اچانک کھڑکی سے آنے والا تازہ ہوا کا جھونکا میری اداس سوچ کو اپنے ساتھ اڑا کر لے گیا اور مجھے احساس ہوا کہ کورونا وائرس نے یوں تو پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے لیکن وہ اس کھڑکی سے آنے والی تازہ ہوا کو نہیں روک سکا۔ اس امید کو نہیں روک سکا کہ میرے شہر کی یہ گلیاں ایک بار پھر آباد ہوں گی، کرکٹ میچز بھی ہوں گے اور تالیاں بھی بجیں گی۔

Facebook Comments HS