سلطنت عثمانیہ کی متنازع روایت: سلطان کے تمام بھائیوں کا قتل


استنبول کے شاہی محل میں حرم

بھائیوں کو ہلاک کرنے کی روایت اور ترکوں کے جانشینی کے اصول

ترکوں میں جانشینی کی روایت کے بارے میں جیسن گڈوِن اپنی کتاب ’مغرب اور مشرق کے آقا‘ میں لکھتے ہیں کہ ابتدا میں عثمانی سلطنت میں اقتدار خاندان کا مسئلہ ہوتا تھا جس میں بھائی، چچا، کزن اور کئی بار خاتون رشتہ دار بھی کسی حد تک حصہ دار ہوتے تھے۔ یہ صورتحال دنیا کی ان سلطنتوں سے مختلف تھی جہاں اقتدار پر صرف بڑے بیٹے کا حق ہوتا ہے۔

لیسلی پیئرس لکھتی ہیں کہ عثمانوی سلطان صدیوں میں اپنی ایک روایت شاید نہیں بدل سکے۔ وہ لکھتی ہیں ’عثمانوی خاندان اپنے طرز حکمرانی کا ایک اصول مکمل طور پر کبھی ترک نھیں کر سکا، جس کے تحت ہر شہزادہ تخت پر بیٹھنے کا اہل ضرور ہوتا تھا چاہے اس بات کا حقیقت میں امکان کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔‘

’سلطان مراد اور ان کے بیٹے محمت کی طرف سے اپنے بھائیوں کو ہلاک کروانا یہ ثابت کرتا ہے کہ یورپ کا قانون جس کے تحت وراثت مکمل طور پر سب سے بڑے بیٹے کو منتقل ہوتی ہے اور جہاں چھوٹے بھائی بڑے بھائی کے لیے خطرہ نھیں ہوتے، ترکوں کی اس سوچ کی جگہ نھیں لے سکا جس کے تحت ہر بیٹا اپنے خاندان کی حکومت کا وارث ہوتا ہے۔‘

اس صورتحال میں کسی بھائی کا سلطان کے خلاف بغاوت یا سازش کرنا ضروری نھیں تھا بلکہ یہ بھی ممکن تھا کہ سلطنت کے طاقتور حلقے سلطان سے ناخوش ہو کر کسی بھی دوسرے شہزادے کو سلطان بنانے کی کوشش میں لگ جاتے۔

ڈاکٹر اکرم اکنجے نے اپنے مضمون میں آسٹریا کے ایک سفیر اوگیئر غسلِن دی بسبیک کے تاثرات کا ذکر کیا جو سلطان سلیمان اول کے دور میں وہاں موجود تھے۔

’عثمانوی سلطان کا بیٹا ہونا کوئی خوش نصیبی نھیں ہے کیونکہ ان میں سے ایک جب سلطان بن جاتا ہے تو باقیوں کے لیے موت کا انتظار ہی رہ جاتا ہے۔ اگر سلطان کے بھائی زندہ ہوں تو فوج کے سلطان سے تقاضے ہی ختم نھیں ہوتے اور سلطان اگر ان کی بات نھیں مانتا تو وہ کہہ دیتے ہیں خدا تمہارے بھائی کو سلامت رکھے، جس کا مطلب یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ اسے بھی تخت پر بٹھا سکتے ہیں۔‘

استنبول کی مسجد جو سلطان احمد اول نے بنوائی تھی
استنبول کی مسجد جو سلطان احمد اول نے بنوائی تھی

بھائیوں کو قتل کرنے کی روایت کا خاتمہ

لیسلی پیئرس نے لکھا ہے کہ شاہی خاندان میں بھائیوں کو ہلاک کروانے کی روایت غیر مقبول ہوتی جا رہی تھی۔

’شروع میں اس روایت کو اقتدار کی وحدانیت برقرار رکھنے کے لیے برداشت کیا گیا تاکہ حکمران کو کسی چیلنج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ابتدا میں جب سلطنت عثمانیہ پھیل رہی تھی اور سلطان خود طویل عرصے کے لیے دارالحکومت سے دور مہمات پر جاتے تھے، لوگوں کو اس وقت یہ روایت ٹھیک لگتی ہو گی لیکن ’سلطان سلیمان کے دور کے بعد کم عمر لڑکے اور بچے جو ابھی گود میں تھے اس روایت کا نشانہ بنے اور اکثر ایسے سلطانوں کو بچانے کے لیے جو بہت کم دارالحکومت سے باہر جاتے تھے۔ سنہ 1574 تک تو استنبول کے عوام نے شہزادوں کی ہلاکت کا یہ ڈرامہ اپنے سامنے دیکھا ہی نھیں تھا۔‘

مؤرخ پیئرس لکھتی ہیں ’کسی نئے سلطان کے سب بھائیوں کا ایک ساتھ مارے جانا اور محل سے ایک ساتھ جنازوں کا نکلنا جن میں سے کچھ بہت ہی چھوٹے تھے دیکھ کر لوگوں کو لگا ہو گا کہ یہ سب پرانے زمانے کے لیے تھا۔‘

انھوں نے اپنی کتاب میں بھائیوں کو ہلاک کروانے کی اس روایت کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی ہیں۔

محمت سوم کے بعد سلطان احمد اول تخت نشین ہوئے لیکن انھوں نے اپنے بھائی کو دباؤ کے باوجود ہلاک نھیں کروایا لیکن یہ روایت اس وقت مکمل طور پر ختم نھیں ہوئی۔

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلطان احمد اول کے سات بیٹوں میں سے چار ان کے تخت پر بیٹھنے والے دو بیٹوں سلطان عثمان دوم اور سلطان مراد چہارم کے حکم پر مارے گئے۔

ڈاکٹر اکرم نے لکھا کہ جب سلطان احمد اول کا انتقال ہوا تو ان کی جگہ ان کا بھائی تخت نشین ہوا حالانکہ ان کے بیٹے موجود تھے۔ ’یہ پہلا موقع تھا کہ ایک سلطان کی موت کے بعد ان کی جگہ ان کے بھائی نے لی۔‘

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp